پولیس دربارمحکمہ پولیس کی روایات کاحصہ ہے،شیر اکبر

پولیس دربارمحکمہ پولیس کی روایات کاحصہ ہے،شیر اکبر

ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)ریجنل پولیس آفیسر شیراکبرنے کہاہے کہ پولیس دربارمحکمہ پولیس کی روایات کاحصہ ہے۔دہشتگردی کیخلاف جنگ میں خیبرپختونخواہ اورباالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان پولیس شہداء کااہم کردارہے۔پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے خیبرپختونخواہ پولیس کوعزت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔انسپکٹرجنرل پولیس خیبرپختونخواہ کی ہدایات کی روشنی میں محکمہ پولیس میں بھرتی اورترقیوں کے نظام کوشفاف بنادیاگیاہے۔پولیس کیلئے بدنامی کاباعث بننے والے اہلکارمحکمہ کیلئے بدنماداغ ہیں۔انکوکسی صورت برداشت نہیں کیاجائیگا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے پولیس لائن ڈیرہ میں پولیس دربارسے کیا۔اس موقع پر ڈی پی اوڈیرہ لیفٹیننٹ کمانڈر(ر)یاسرآفریدی‘ایس پی انوسٹی گیشن امان اللہ خان کے علاوہ ڈی ایس پیز‘ایس ایچ اوزاورپولیس اہلکاربڑی تعدادمیں موجودتھے۔آرپی اوکوپولیس لائن آمدپرپولیس کے چاق وچوبنددستے نے سلامی پیش کی۔بعدمیںآرپی اوشیراکبرنے پولیس شہداء یادگارپرپھول چڑھائے اورشہداء کی مغفرت کیلئے دعامانگی۔پولیس دربارمیںآرپی اونے پولیس کے مسائل معلوم کئے اوربعض مسائل کوموقع پرحل کیا۔آرپی اوشیراکبرنے کہاکہ پولیس ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات کی تفتیش کررہی ہے۔انشاء اللہ جلدملزمان کوگرفتارکرینگے۔انہوں نے کہاکہ پولیس حالت جنگ میں ہے۔عوام کی جان ومال کی حفاظت کیلئے ہرقربانی دینے کیلئے تیارہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرکوئی پولیس اہلکارکسی بدعنوانی میں ملوث پایاگیاتواسکے خلاف سخت ایکشن لیاجائیگا۔قربانیاں دیکرپولیس نے جوعزت کمائی ہے اس پرکسی صورت آنچ نہیںآنے دینگے۔پولیس اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائے گی۔پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی۔پولیس سائلین کیساتھ اپنارویہ بہتربنائیگی۔بداخلاقی کیساتھ پیش نہیںآئیگی۔پولیس میں سیاسی مداخلت برداشت نہیں کی جائیگی۔عوام کے مسائل کے لئے دفترکے دروازے ہروقت کھلے ہیں۔پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے۔ڈسپلن کے دائرے میں رہ کرکام کرینگے۔بعدازاں انہوں نے پولیس لائن میں میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پولیس شہداء کی قربانیوں کوکسی صورت نظراندازنہیں کرینگے۔شہداء کے ورثاء کوشہداء پیکج کے تحت مراعات دی جارہی ہیں۔ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات میں کالعدم تنظیموںیاٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے بارے کچھ نہیں کہاجاسکتا۔انشاء اللہ جلدتفتیش مکمل کرکے عوام کواس حوالے سے آگاہ کیاجائیگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر