حکومت کے پاس تفتیش کیلئے اپنے ادارے موجود ہیں ، کیا کمیشن بنانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے؟: چیف جسٹس

حکومت کے پاس تفتیش کیلئے اپنے ادارے موجود ہیں ، کیا کمیشن بنانے کی ذمہ داری ...
حکومت کے پاس تفتیش کیلئے اپنے ادارے موجود ہیں ، کیا کمیشن بنانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے؟: چیف جسٹس

  


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس تفتیش کیلئے اپنے ادارے موجود ہیں بتایا جائے کمیشن بنانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے۔

میئرز اور ڈپٹی میئرز کے اختیارات کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ اس معاملے پر کمیشن بنادیں اور اس معاملے پر ازخود نوٹس لے لیں بتایا جائے عدلیہ پر تنقید کی جاتی ہے اور ہر معاملے پر سوموٹو لینے کا بھی کہا جاتا ہے، بتایا جائے پاناما لیکس کمیشن بنانے کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ تفتیش کی ذمہ داری عدلیہ کی ہے یا انتظامیہ کی ؟ہماری اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ کار ہے عدلیہ کے پاس اور بھی بہت کام ہیں تفتیش کیلئے حکومت کے اپنے ادارے ہیں ۔ کسی ایک ادارے کا قصور نہیں پورا سسٹم ہی ذمے دار ہے لولے لنگڑے سسٹم کو بیساکھیوں سے چلانا پڑرہا ہے کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن مناسب یہی ہے کہ لب کشائی نہ کی جائے۔

پی پی کے وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ دھاندلی روکنے کیلئے شو آف ہینڈ ضروری ہے جس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شو آف ہینڈ ضروری ہے تو 2013 کا الیکشن کیوں تسلیم کرلیا گیا؟2008 میں مردم شماری ہونی تھی لیکن ابھی تک نہیں ہوئی آپ کی بات مان لیں تو شفافیت کیلئے مردم شماری بھی ضروری تھی۔ملک میں دو جماعتیں حکومتیں بناتی رہیں اور دونوں نے ہی غلطیاں کیں آئین پر سمجھوتہ کرنے میں دونوں جماعتیں شریک ہیں۔ملک میں انتخابی اصلاحات کی ضرورت ہے آئین میں شفاف انتخابات کے الفاظ کاغذی نہیں ہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو آئین کے الفاظ پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے۔

مزید : قومی /اہم خبریں