امریکا اور بھارت کا ’’لاجسٹک سپورٹ معاہدے ‘‘پر اتفاق، دونوں ممالک ایک دوسرے کی فوجی بیس استعمال کرسکیں گے

امریکا اور بھارت کا ’’لاجسٹک سپورٹ معاہدے ‘‘پر اتفاق، دونوں ممالک ایک ...
امریکا اور بھارت کا ’’لاجسٹک سپورٹ معاہدے ‘‘پر اتفاق، دونوں ممالک ایک دوسرے کی فوجی بیس استعمال کرسکیں گے

  


نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا اور بھارت کے درمیان لاجسٹک سپورٹ معاہدے کے اصولوں پر اتفاق ہوگیاہے،جس تحت امریکہ اور بھارت نہ صرف ایک دوسرے کے فوجی اڈوں کو استعمال کر سکیں گے بلکہ دونوں ممالک کی فوجیں ایک دوسرے کے جنگی ساز و سامان بھی استعمال میں لا سکیں گی۔

بھارتی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق امریکہ کے ساتھ بھارت کا 10نکات پر مبنی ’’لاجسٹک سپورٹ معاہدے‘‘ پر اتفاق ہو گیا ہے ،حتمی مسودہ باہمی رضا مندی سے آئندہ چند ہفتوں میں تیار کر لیا جائے گا ۔امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اپنے بھارتی ہم منصب منوہر پاریکر سے نئی دہلی میں تفصیلی ملاقات کی اور دفاعی معاملات پر غور و حوض کیا گیا ،ملاقات کے بعد امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ معاہدے سے متعلق بنیادی اصولوں پر اتفاق ہوا ہے، معاہدے کا حتمی مسودہ باہمی رضامندی سے آئندہ چند ہفتوں میں تیار کرلیا جائے گا۔کارٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ اور بھارت دفاعی کامرس اینڈ ٹیکنالوجی پہل کے تحت دو نئے منصوبوں پر بھی اتفاق ہوا ہے، جس میں اسٹریٹجک حیاتیاتی تحقیقی یونٹ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ نے دو طرفہ دفاعی معاہدے کو موئثر بنانے کے لئے وزارت دفاع اور خارجہ کے حکام کے درمیان میری ٹائم سیکورٹی ڈائیلاگ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے ۔بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان امریکا بھارت ملٹری لاجسٹک سپورٹ معاہدے پر بات چیت کے بعد بعض امور پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے ۔منوہر پاریکر نے کہا کہ جیٹ انجن ٹیکنالوجی اور ایئرکرافٹ کیریئر سے متعلق تعاون بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی ہے، لاجسٹک سپورٹ معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی زمینی، فضائی اور بحری فوجی بیس کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے،جبکہ مستقبل قریب میں سمندری حدود میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دی جائے گی ۔،جبکہ دونوں ممالک نے شپنگ کی آزادی اور بین الاقوامی سطح کے قانون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔دوسری طرف امریکہ اور بھارت کی جانب سے ’’ لاجسٹک سپورٹ معاہدے ‘‘پر اتفاق پر عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت جنوبی سمندر اور بحر ہند میں چین کی بڑھتی ہوئی بحری قوت سے بھی خائف ہے اور معاہدے کا ایک مقصد چین کے مقابلے میں فوجی قوت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔جبکہ بھارت کے ساتھ اس طرح کے معاہدے خطے میں عدم توازن اور ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے حوالے سے بھی شدید خطرات لاحق ہونے اندیشہ پیدا ہو گیا ہے

مزید : بین الاقوامی