صاحبزادہ فضل کریم حق گوئی و بیباکی کا پیکر

صاحبزادہ فضل کریم حق گوئی و بیباکی کا پیکر
صاحبزادہ فضل کریم حق گوئی و بیباکی کا پیکر

  

قلم تو ایک اور موضوع پر اٹھانا تھا لیکن ایک ایسے بطل حریت کا یوم وصال آ پہنچا کہ انہیں خراج عقیدت پیش کرنا لازمی ہو گیا ، 15اپریل صاحبزادہ فضل کریم کا یوم وفات ہے ، صاحبزادہ فضل کریم یوں تو ایک معروف دینی گھرانے سے تعلق رکھنے اور مسلم لیگ ن کی جانب سے ایم این اے ، ایم پی اے اور وزیر رہنے کی وجہ سے دینی حلقوں میں کافی معروف تھے لیکن انہیں اصل شہرت دہشت گردوں کے خلاف واضح اور اصولی موقف اپنانے اور اس پر ڈٹ جانے سے ملی ۔ دہشت گردی کی مخالفت میں انہوں نے نہ تو کسی منافقت سے کام لیا اور نہ ہی کسی موقع پر وہ حق گوئی سے پیچھے ہٹے یہی وجہ تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف کٹھن سفر کے دوران انہیں اپنی پرانی اتحادی جماعت مسلم لیگ ن کے مد مقابل بھی آنا پڑا اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ کی جانب سے دہشت گردوں کی مبینہ سرپرستی پر ان کے خلاف لانگ مارچ تک کرنا پڑا ۔

جب وطن عزیز میں ہر طرف دہشت گردوں نے تباہی مچائی ہوئی تھی اور بڑے بڑے علماء کرام بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اس دور میں صاحبزادہ فضل کریم نے دہشت گردوں کے خلاف آواز بلند کی اور ملک بھر سے علماء و مشائخ کو جمع کر کے سنی اتحاد کونسل قائم کی اور دہشت گردوں کے خلاف تاریخی جدوجہد کی اس تحریک کے دوران جامعہ نعیمہ لاہور کے مہتمم اور ناظم اعلی تنظیم المداراس ڈاکٹر سرفراز نعیمی ایک خود کش دھماکے میں شہید ہوئے۔

صاحبزادہ فضل کریم 1954ء میں فیصل آباد میں پیدا ہوئے، قیام پاکستان کے وقت ان کا خاندان قصبہ دیال گڑھ ضلعی گورداسپور مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے لائل پور (فیصل آباد ) آیا ۔اس دوران کئی افراد شہید بھی ہوئے ، ان کے والد محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد پاکستان کے سب سے بڑے عالم اور صاحب کرامت بزرگ تھے ۔وہ برصغیر کی دنیا بھر میں معروف علمی و روحانی ہستی مولانا احمد رضاخان فاضل بریلوی کے مدرسہ دارالعلوم منظر اسلام بریلی سے فارغ التحصیل تھے ۔آج بھی پاکستان میں محدث اعظم کے لقب سے جانے جاتے ہیں ، چھ بہنوں اور تین بھائیوں میں صاحبزادہ فضل کریم کا نمبر تیسرا تھا۔ان کے برادر اکبر، صاحبزادہ پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ 1977ء میں 22 برس کی عمر میں ان کی شادی ہوئی اور نکاح بانی سربراہ متحدہ مجلس عمل مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی نے پڑھوایا ، تعلیم مدرسہ رضویہ مظہر العلوم جھنگ بازار لائل پور سے 1987ء میں اسلامک سٹیڈیز میں ماسٹرز اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اسلامیات کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے امریکا ،برطانیہ،مصر،شام سمیت بہت سے ملکوں کے تبلیغی دورے بھی کئے فیصل ، چنیوٹ روڈ پرعظیم الشان دینی جامعہ محدث اعظم یونیورسٹی کا سنگ بنیاد بھی آپ نے ہی رکھا جو اب تکمیل کے مراحل میں ہے

سیاسی اور مذہبی تنظیمی زندگی کا آغاز بھی جمعیت علماء پاکستان اور جماعت اہلسنت سے کیا ،اکتوبر 1978ء میں ملتان کے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں ہونے والے کل پاکستان تاریخی سنی کانفرنس میں 15 ہزار علماء اور 10 لاکھ عوام کی موجودگی میں صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کو جماعت اہل سنت پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا اس وقت ان کی عمر صرف 24 برس تھی اور تب جماعت اہلسنت کے مرکزی امیر غزالی زماں رازی دوراں علامہ سید احمد سعید شاہ کاظمی جیسے جید بزرگ تھے صاحبزادہ فضل کریم 14 سال تک یہ ذمہ داریاں سر انجام دیتے رہے، سیاسی زندگی کا آغاز جمعیت علماء پاکستان سے کیا تب اس کے سربراہ اس وقت کے قائد حزب اختلاف علامہ شاہ احمد نورانی صدیقی تھے اور جمعیت علماء پاکستان ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت تھی پیپلزپارٹی کے بعد سب سے زیادہ ایم این ایز اسی جماعت کے تھے ۔

جب یہ جماعت مختلف دھڑوں کا شکار ہوئی تو صاحبزادہ صاحب نے اپنی جماعت مرکزی جمعیت علماء پاکستان کے نام سے قائم کی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کر کے2 دفعہ قومی اور 2بار صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ مسلم لیگ ن کی 1997، سے 1999ء کے عرصہ حکومت میں وہ وزیر اوقاف پنجاب بھی رہے اور انتہائی کامیابی کے ساتھ اپنا دور نبھایا۔ وہ 2002ء میں جب مسلم لیگ ن ملک بھر میں گنتی کی چند نشستیں ہی جیت پائی تھی تب بھی قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور مسلم لیگ ن کا ساتھ کسی بھی قیمت پر چھوڑنے سے انکار کر دیا اور ڈٹے رہے۔

2008ء میں جب جب ملک میں دہشت گردی کی وبا عام ہوئی انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھر پور آواز بلند کی اور ہر سطح پر ان کے خلاف جدوجہد کی اور حضرت قبلہ سید حسین الدین شاہ صاحب کے تحریک دلانے پر مختلف سنی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور سنی اتحاد کونسل قائم کی جس کے پہلے چیئرمین بھی وہ ہی منتخب ہوئے ۔سنی اتحاد کونسل میں انہوں نے 30 سے زائد سنی جماعتوں اور تنظیموں کو اکٹھا کیا جن میں مرکزی جمعیت علماء پاکستان ، پاکستان سنی تحریک ، جماعت اہلسنت ، نظام مصطفی پارٹی ،عالمی تنظیم اہلسنت سمیت دیگر جماعتیں شامل تھیں انہوں نے 23 مطالبات حکومت پنجاب کو پیش کیے جن میں سر فہرست دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے مدارس اور شخصیات کے خلاف کاروائی ، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیاں روکنے اور حکومتی شخصیات کی جانب سے کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کے واقعات کی روک تھام وغیر شامل تھے ، مطالبات پورے نہ ہونے پر حکومت سے اختلافات ہوئے تو نہ صرف حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی بلکہ متحدہ علماء بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے بھی استعفی دے دیا اور اسلام آباد سے لاہور تک نومبر 2010 میں بڑا لانگ مارچ بھی کیا۔اپریل 2011ء کو مینار پاکستان گراؤنڈ میں صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی زیر صدارت ملک گیر استحکام پاکستان سنی کانفرنس منعقد کی گئی، 14 اکتوبر 2012ء کو صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم کی زیر قیادت ناموس رسالت کے تحفظ، ڈرون حملوں، دہشت گردی، مہنگائی کے خلاف کراچی سے راولپنڈی تک ٹرین مارچ کیا گیا۔

صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم نے حضور نبی کریم (ص) کے گستاخانہ خاکوں اور امریکہ میں تیار ہونے والی گستاخانہ فلم کے خلاف بھی احتجاجی تحریک کی قیادت کی۔ ریمنڈ ڈیوس کے مسئلہ پر بھی صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم مسلسل میدان میں رہے، نومبر 2012ء میں جماعت اہل سنت پاکستان کے زیراہتمام گستاخان فلم کے خلاف راولپنڈی سے کراچی تک لبیک یارسول اللہ لانگ مارچ کی قیادت کرنے والوں میں بھی صاحبزادہ حاجی محمد فضل کریم شامل تھے، اس دور میں منایا جانے والا یوم عشق رسول صاحبزادہ فضل کریم کا ہی تجویز کردہ تھا ، جب داتا دربار ، سخی سرور ، مزار بابا فرید گنج شکر ، سمیت بڑے درباروں پر خودکشے حملے ہوئے اور خیبر پختونخواہ میں سنی علماء اور مشائخ کو شہید کرنے ، مزارات اور مساجد کو تباہ کرنے کے واقعات ہوئے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سمیت اس کے خلاف توانا آواز بلند کی اور دہشت گردوں سے بالکل نہ گھبرائے۔ ناظم اعلی تنظیم المدارس ڈاکٹر سرفراز نعیمی اسی دور میں خود کش حملے میں شہید ہوئے اور سابق وزیر مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی بھی قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے ۔سوات میں پیر سمیع اللہ کی شہادت اور فاٹا سے ایم این اے پیر نورالحق قادری کے پورے خاندان کی شہادت بھی اسی دور میں ہوئی لیکن صاحبزادہ فضل کریم اپنی تحریک میں ڈٹے رہے ،وہ آخری عمر میں مسلم لیگ ن کی جانب سے مطالبات تسلیم نے کیے جانے پر کافی دلبرداشتہ بھی تھے انہوں نے راقم کو اپنی وفات سے چند ماہ قبل یہ الفاظ خود کہے تھے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے ایک وزیر پر اپنے دیرینہ رفیق کو قربان کر دیا حالانکہ میرا مطالبہ تو صرف کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرنے والے وزیر کے خلاف کاروائی کا تھا ، انہیں دوسرا صدمہ اس وقت پہنچا جب سنی اتحاد کونسل میں شامل 2تنظیموں کے رہنماء امریکی دعوت پر دوسرے مسالک کے علماء کے ہمراہ امریکہ گئے اور واپسی پر چند ہزار ڈالر کا زاد راہ بھی لیتے آئے لیکن دیگر مسالک کے علماء کی تو بات نہ اچھالی گئی لیکن سنی اتحاد کونسل میں شامل 2تنظیموں کا انکشاف خود امریکیوں نے کر دیا اور ساتھ ہی شباب اسلامی نامی تنظیم کے سربراہ علامہ حیدر علوی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف ریلی نکالنے کے لیے فنڈ لینے کا بھی انکشاف کر دیا۔ اگرچہ یہ فنڈز اپنی ذاتی تنظیموں کے نام پر لیے گئے ،سنی اتحاد کونسل کا اس میں کردار نہیں تھا لیکن اس مسئلے دہشت گردوں کے حامی قلم کاروں نے خوب اچھالا ۔یہ الگ بات ہے کہ اس مسئلے پر پیر افضل قادری کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی بنائی گئی اور مذکورہ شخصیات کو سنی اتحاد کونسل سے نکال بھی دیا گیا لیکن امریکیوں کی جانب سے سنی اتحاد کونسل سے وابستہ کچھ تنظیموں کو نواز کر اس عظیم کونسل کیخلاف ہونیوالی سازش نے بھی صاحبزادہ فضل کریم کی صحت پر بہت برے اثرات مرتب کیے ۔

جب 2013ء کے انتخابات کا وقت ا?یا تو انہوں نے مسلم لیگ ق سے اتحاد کر لیا جس پر پیر محفوظ مشہدی نے کچھ دیگر علماء کے ہمراہ سنی اتحاد کونسل کا الگ گروپ بھی قائم کیا اور بدلے میں حق نمک کے طور پر مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کی رکنیت انعام میں پائی، صاحبزادہ فضل کریم نے اپنا متبادل امیدوار اپنے بڑے بیٹے صاحبزادہ حامد رضا کو بنایا تھا اور انہی کے لیے الیکشن کی تحریک بھی چلا رہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ اس مرد قلندر کو ظاہری حیات کی جانب سے جلد دغا دیے جانے کا ادراک ہو چکا تھا اور ہوا بھی وہی کہ وہ عام انتخابات سے ایک ماہ قبل ہی 15 اپریل 2013ء کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے اور وجہ جگر کا عارضہ بنا جس کی وجہ سے وہ 4اپریل سے الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں زیر علاج تھے۔انہیں جھنگ بازار فیصل آباد میں جامعہ رضویہ مظہر الاسلام کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

ان کے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹی اور 4 بیٹے شامل ہیں، ان کے بڑے بیٹے اور ان کی حیات میں ہی متبادل امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے والے صاحبزادہ حامد رضا ان کے جانشین بھی بنے اور سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین بھی منتخب ہوئے ، آج بھی دہشت گردی پر سخت موقف ان میں صاحبزادہ فضل کریم کی جھلک دکھاتا ہے، جب بھی پاکستان میں طالبانائزیشن اور دہشت گردی کا ذکر ہو گا تو اس کے خلاف سب سے توانا اور تاریخی جدوجہد کرنے والی شخصیت کے طور پر صاحبزادہ فضل کریم کا ہی نام آئے گا ۔

( بلاگر ایک نجی ٹی وی سے وابستہ ہیں ۔ان سے ryk2lhe@gmail.com پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -