پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سے کس ملک کے شہریوں کو عرب ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے سب سے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر عرب شہری بھی دنگ رہ گئے

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سے کس ملک کے شہریوں کو عرب ممالک میں ملازمت ...
پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں سے کس ملک کے شہریوں کو عرب ممالک میں ملازمت حاصل کرنے کیلئے سب سے زیادہ پیسے دینے پڑتے ہیں؟ ایسی حقیقت منظر عام پر آگئی کہ جان کر عرب شہری بھی دنگ رہ گئے

  

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک)عرب خلیجی ممالک کی کنسٹرکشن انڈسٹری اربوں ڈالر پر محیط ہے لیکن افسوس کہ اس شعبے میں کام کرنے والے غریب غیر ملکی محنت کشوں کی بھرتی کا خرچ انہیں خود ہی اٹھانا پڑتا ہے، جبکہ اربوں ڈالر کی مالک کمپنیاں اور کفیل ان کی سستی لیبر سے مستفید ہوتے ہیں۔

گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیویارک یونیورسٹی کے سٹرن سنٹر فار بزنس اینڈ ہیومن رائٹس کی ایک تحقیق میں پتہ چلا ہے کہ غیر ملکی محنت کش اپنی 10 سے 18 مہینوں کی تنخواہ کے برابر رقم اپنی بھرتی کے اخراجات کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ میگا پراجیکٹس کے لیبر اخراجات کم کرنے کے لئے ایک ہفتہ وار کنٹرول سسٹم کے ذریعے بھرتی کے اخراجات غریب محنت کشوں کی جیب سے کاٹے جارہے ہیں۔ ہفتہ وار محض چند ہزار کمانے والے غیر ملکی محنت کش ہزاروں درہم کی ریکروٹمنٹ فیس ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

’اب اگر کفیل نے غیر ملکی ملازمین کو آتے ساتھ ہی یہ چیز نہ دی تو بھاری جرمانہ کریں گے‘ سعودی حکومت نے بڑا اعلان کردیا، غیرملکیوں کو خوش کردیا

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیشی محنت کش بھرتی کے لئے سب سے زیادہ 6244 درہم (تقریباً ایک لاکھ 70 ہزار پاکستانی روپے) ادا کررہے ہیں جبکہ بھارتی محنت کش ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک دیتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کنسٹرکشن انڈسٹری کے اس استحصالی بزنس ماڈل کی وجہ سے غیر ملکی محنت کش قرضوں کے بوجھ تلے دب رہے ہیں اور ان کے لئے یہ بھی ممکن نہیں کہ وہ قرض اتارنے کے لئے اپنا کفیل تبدیل کرلیں یا کسی دوسرے ملک جاکر ملازمت کرلیں۔ مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ لالچی ایجنٹوں کی وجہ سے غریب محنت کشوں کو اپنی بھرتی کے اصل اخراجات سے کئی گنا اخراجات ادا کرنا پڑجاتے ہیں۔ اگر غیر ضروری اور ناجائز اخراجات کو نکال دیا جائے تو بھرتی کے کل اخراجات 40ہزار سے تقریباً 65 ہزار روپے تک بنتے ہیں، جن میں سفر کے اخراجات شامل نہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں عرب ممالک کی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ویزوں کی فروخت کے خلاف بنائے گئے قوانین کا اطلاق یقینی بنائیں اور لیبر بھیجنے والے ممالک میں موجود مقامی غیر قانونی ایجنٹوں کو بھی قوانین و ضوابط کے دائرے میں لانے کی کوشش کریں۔

رپورٹ کے مطابق خلیجی کفیلوں کو بھی قانون پابند کرتا ہے کہ وہ محنت کشوں سے ان کی بھرتی کے اخراجات وصول نہ کریں۔ چھ خلیجی ممالک، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین کے قوانین کے مطابق ویزوں کی فروخت غیر قانونی ہے۔ خلیجی حکومتیں ملٹی نیشنل اور مقامی کنسٹرکشن کمپنیوں کو غیر ملکی محنت کشوں کے لئے ویزے مفت یا انتہائی کم قیمت پر فراہم کرتی ہیں، لیکن خلیجی ممالک میں موجود ایجنٹ یہ ویزے بھاری قیمت پر جنوبی ایشیائی ممالک میں موجود ایجنٹوں کو بیچتے ہیں، جو ان کی قیمت مزید بڑھا کر غریب محنت کشوں کو بیچتے ہیں۔

مزید :

عرب دنیا -