ایک دن ’’پاکستانی انجینئر‘‘ کے ساتھ

ایک دن ’’پاکستانی انجینئر‘‘ کے ساتھ
ایک دن ’’پاکستانی انجینئر‘‘ کے ساتھ

  

قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں، کسی ملک کی تعمیر و ترقی میں دیگر ماہرین کے ساتھ ساتھ انجینئرز کا بھی کلیدی رول ہوتا ہے۔ انجینئرز کی معاونت کے بغیر تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل ناممکن ہوتی ہے۔

دورِ قدیم سے ہی انجینئرز نے ایسے ایسے کمالات دکھائے ہیں کہ وہ ’’عجائباتِ زمانہ ‘‘ کہلائے۔ وہ دیوارِ چین ہو، اہرامِ مصرہوں یا مغلیہ دور کے محلات و باغات، مساجد اور مقبرے۔

یہ سب انجینئرز اور انجینئرنگ کی بدولت ہی ممکن ہوسکے۔ نوعِ انسانی کے لئے سہولیات کی فراہمی، مشرق و مغرب میں تعمیر کردہ پُر شکوہ عمارات وسائل آمدورفت و رسد و رسائل اور موبائل ٹیکنالوجی کی بے تحاشا ترقی یہ سب انجینئرز کے ہی کمالات ہیں۔غیر ممالک کو چھوڑ کر آج ہم آپ کی ملاقات اپنے وطنِ عزیز کے ایک ’’انجینئر عابد صاحب‘‘ سے کرواتے ہیں۔

آپ محکمہ ترقیات میں عرصہ دراز سے ’’خدمات‘‘ سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ کے کریڈٹ پر کئی بڑے پراجیکٹ اپنی بہار دکھا رہے ہیں، انہوں نے اپنے سرکاری گھر کے بڑے گیٹ پر آکر ہمارا استقبال کیا۔ خوش نما لان کے ایک کونے میں ہماری نشست کا اہتمام تھا۔ اُن سے کئے گئے سوالات مع جوابات ہم نذرِ قارئین کرتے ہیں۔

سوال:۔عابد صاحب! ایک عمدہ زندگی گزارنے کے لئے تو کئی اور بھی شعبے ہیں، جیسے میڈیکل، اکاؤنٹنگ یا ٹیچنگ وغیرہ، مگر آپ نے ’’انجینئرنگ‘‘ کے شعبے ہی کا انتخاب کیوں کیا؟

جواب:۔وہ مسکراتے ہوئے دیکھیں! یہی سوال آپ سے بھی کیا جاسکتا ہے، آپ انجینئر، ڈاکٹر یا کچھ اور بننے کے بجائے، صحافی ہی کیوں بن گئے؟

سوال:۔ بہت خوب عابد صاحب! بات مگر یہ ہے کہ ایک صحافی کا ہدف شاید ’’مناسب زندگی‘‘ بسر کرنا ہوتا ہے، نہ کہ پیسہ اکٹھا کرنا یا پُر تعیش سہولیات کا حصول، ویسے بھی کہاجاتا ہے کہ ’’آدمی کو زندہ رہنے کے لئے کھانا چاہیے نہ کہ وہ کھانے کے لئے زندہ رہے‘‘شاید ہی آپ نے کسی صحافی کی اربوں کی جائیداد وغیرہ کا سنا ہوگا، جبکہ ہمارے مشاہدے میں آیا ہے کہ اکثر انجینئرز پیسہ اکٹھا کرنے کے لئے پُر جوش قسم کی ’’محنت‘‘ کرتے ہیں اور اپنے ’’ٹیکنیکل کمالات‘‘ کی بدولت ’’حصولِ زر‘‘ آسان بنا لیتے ہیں، لہٰذا ہمارا پہلے والا سوال اپنی جگہ قائم ہے۔

جواب:۔ (ایزی چیئر پر پہلو بدلتے ہوئے) آپ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہہ رہے۔ دراصل میرے والد صاحب ایک سکول ٹیچر تھے۔ بچوں کو پڑھاتے ہوئے وہ سوچا کرتے کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر ’’بڑا‘‘ آدمی بنے اور بڑا آدمی بننے کے ’’فوائد‘‘ ہر کوئی جانتا ہے۔

ویسے بھی تقریباً سبھی والدین اپنی اولاد کے لئے کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ جونہی میں میٹرک تک پہنچا، انہوں نے مجھے امتحانات میں مارکس حاصل کرنے کے ’’گر‘‘ سکھانا شروع کردیئے۔

آپ شاید، نہیں جانتے، ان دنوں فقط نہایت اچھے مارکس ہی کسی میڈیکل یا انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلے کا سبب ہوتے تھے۔ آج کل تو تقریباً ہر بڑے شہر میں پرائیویٹ سیکٹر میں انجینئرنگ اور میڈیکل یونیورسٹیاں قائم ہوچکی ہیں، جہاں بھاری فیسوں کے عوض کم مارکس والے طلباء کو بھی داخلہ مل جاتا ہے اور نتیجتاً جو انجینئرز تیار ہو کر نکل رہے ہیں،اُن کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے۔

سوال:۔سنا ہے آپ کے ’’امتیازی مارکس‘‘ حاصل کرنے میں کچھ حصہ آپ کے والد صاحب کے چند دوست اساتذہ اور ایک سینئر ’’شاگرد خاص‘‘ کا بھی ہے، جنہوں نے آپ کے ’’اُردو‘‘ اور ’’انگریزی ادب‘‘ کے امتحانی پرچے حل کئے تھے۔

کچھ روشنی ڈالیں گے؟

جواب:۔(اُن کے چہرے پر سلوٹیں سی پڑگئیں) دیکھیں! ہر شعبہ ملازمت میں حاسدین ہوا کرتے ہیں اور ایسی باتیں میرے حاسدین ہی پھیلا سکتے ہیں۔ جو لوگ میرے بارے میں ایسی بے تکی ہانک رہے ہیں میں انہیں جانتا ہوں۔ وہ فقط میری ’’ترقی‘‘ سے جلتے ہیں، جس کی مجھے کوئی پرواہ نہیں۔

سوال:۔خیر چھوڑیں! آپ ماشاء اللہ ایک نام ور انجینئر ہیں اور آپ کے کریڈٹ پر کئی شاندار پراجیکٹس ہیں جو آپ کی محنت شاقہ کا ثبوت ہیں مگر کیا معاوضہ فقط سرکاری تنخواہ ہی ہے یا دیگر ’’فوائد‘‘ بھی ساتھ منسلک ہوتے ہیں؟

جواب:۔(ہنستے ہوئے) آپ کے سوالات پر میں حیران ہو رہا ہوں۔ مجھے تو آپ کسی اور ہی دنیا کے صحافی لگتے ہیں۔ آپ کو آج کی دنیا کے حالات کے بارے میں کچھ آگاہی نہیں۔ جو انجینئر اپنی ’’ذہانت‘‘ کو ’’راحت‘‘ میں نہیں بدل سکتا، اسے یہ ملک چھوڑ دینا چاہیے۔

میں نے اگر تنخواہ پر ہی گزارہ کرنا ہوتا تو یقین جانیے’’مِڈل ایسٹ‘‘ میں مجھے یہاں سے کئی گنا زیادہ تنخواہ مل سکتی تھی، مگر جو ’’سکون‘‘ یہاں اپنے ملک کی خدمت میں ہے وہ کسی اور ملک میں کہاں؟آپ نے اگر ’’معاشیات‘‘ پڑھی ہوتی تو آپ جانتے کہ یہ بیچاری ’’تنخواہ‘‘ تو ہمارے لئے ایک معصوم سا معاوضہ ہے اصل ’’معاوضہ‘‘تو ہماری اُن ’’سہولیات‘‘ میں چھپا ہوتا ہے جو ہم اپنے فرائض کی بجا آوری میں حاصل کرتے ہیں۔

یہ بڑا سرکاری گھر، ٹرانسپورٹ، ملازمین وغیرہ جیسی اضافی سہولیات کسی اور ملک میں میسر نہیں۔ مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہمارے کئی انجیئنرز بے شمار سرمایہ کے مالک ہیں جو انہوں نے اپنے اختیارات کے بل پر حاصل کیا ہے۔

سوال:۔اس بات سے تویہی سمجھا جائے گا کہ اختیارات کا غلط استعمال ہی ایسی اضافی آمدن کا سبب ہوتا ہے۔ کیا ایسی صورت میں ’’گرفت‘‘ کا کوئی نظام نہیں ہے؟

جواب:۔حضور آپ کے سوال کی سادگی کچھ نقلی سی لگتی ہے۔ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں یہاں ہر فیلڈ میں ’’اوپر‘‘ سے ’’نیچے‘‘ تک کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔

آپ اپنی ہی مثال لے لیں، آپ جو کچھ بھی تیار کرکے لے جائیں گے، کیا وہ من و عن شائع کردیا جائے گا؟ یقینی طور نہیں، کیونکہ آپ کے اوپر جو ایڈیٹر صاحب ہوں گے، وہ اپنی سوچ اور پالیسی کے مطابق کانٹ چھانٹ کریں گے۔

یہی وہ سلسلہ ہے جو اس ملک میں رائج ہے۔ آپ اپنا اختیار استعمال کرچکے اور ایڈیٹر صاحب اپنا کریں تو گرفت کیسی؟ یہاں بھی ایسی ہی کانٹ چھانٹ ہوتی رہتی ہے اور کام چلتا رہتا ہے، رکتا نہیں۔

سوال:۔ آپ کی یہ ’’کانٹ چھانٹ‘‘ والی تھیوری ہمارے سوال کا جواب تو نہیں، مگر چھوڑیں! یہ بتائیں آپ کو اپنی پروفیشنل لائف میں کبھی مایوسی کا سامنا بھی کرنا پڑا؟

جواب:۔(انجینئر صاحب کے چہرے پر کئی رنگ بکھرگئے) نہایت اہم سوال ہے۔ بات پرانی ہے، مگر مجھے یاد ہے،جب میں نے ملازمت جوائن کی تو دیکھا کہ ڈیپارٹمنٹ کے اکثر سرکردہ انجینئرز نہایت ایماندار اور وضعدار قسم کے لوگ ہوا کرتے تھے، محنتی اور قابل ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔

اتنا زیادہ جاہ و حشم بھی نہیں ہوتا تھا۔ کاموں کی کوالٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا تھا اور نہ ہی کنٹریکٹر حضرات کچھ ایسی سوچ رکھتے تھے۔

مجھے یاد ہے نوجوانی میں کچھ کر گزرنے کی آدمی میں بہت لگن ہوتی ہے۔ میں نے بھی ایک پراجیکٹ ترتیب دیا تھا۔ جس دفتر میں بیٹھ کر ہم لوگ کام کرتے تھے وہ شہر کی ایک معروف شاہراہ پر واقع تھا۔

دفتر خاصا پرانا تھا اور نہایت معقول رقبے پر محیط تھا۔ میں نے دن رات محنت کی، پرانا ریکارڈ نکلوایا، کچھ ہم خیال انجینئر دوستوں سے مشاورت کی اور نہایت عرق ریزی کے بعد ایک منصوبہ تیار کیا۔ میرے منصوبے کے مطابق، دفتر والی جگہ پر ایک ’’کمرشل مال‘‘ تعمیر ہونا تھا۔

جسے میں نے خود ڈیزائن کیا تھا۔ اس کمرشل مال میں ہمارے سرکاری دفاتر کے علاوہ بھی کئی نجی دفاتر قائم ہونا تھے۔ میں نے اپنی فنانشل ٹیم کی معاونت کے ساتھ پورے حساب کے ساتھ اپنی تجاویز تیار کیں۔ میری ان تجاویز کے نتیجے میں مذکورہ عمارت بغیر حکومتی اخراجات کے تعمیر ہونا تھی۔

مکمل ’’مالی زائچے‘‘ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ و مراعات کی ادائیگی کے بعد بھی حکومت کو ایک بڑی ’’معقول‘‘ آمدنی متوقع تھی۔ میں نے یہ تمام سفارشات حکام بالا تک تحریری طور پر ارسال کیں اور ذاتی طور پر بھی کوشش کی، مگر نجانے کیا ہوا؟ میری محنت، میری جدوجہد اکارت گئی، مجھے شاید کوئی دیوانہ سمجھا گیا۔اپنی محنت کی ایسی تحقیر دیکھ کر میں نہایت مایوس ہوا( ان کے چہرے پر ایک گھٹا سی چھائی اور معدوم ہوگئی)۔

سوال:۔ آپ کی بات سے محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں ’’ٹیلنٹ‘‘ کی کمی نہیں، مگر ’’قدر‘‘ نہیں کی جاتی اور چیزوں کو جوں کا توں ہی چھوڑ دینے کو بہتر سمجھا جاتا ہے یعنی بقول منیر نیازی:

منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے؟

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

جواب:۔ دیکھیں! حالات جیسے بھی ہوں، ٹیلنٹ خود کو منوا ہی لیتا ہے، میری ایک تجویز رد ہوگئی تو کیا ہوا؟ مستقبل تو امکانات سے منور ہے ابھی میرے کئی پراجیکٹ ’’زیر تعمیر‘‘ ہیں، جن کی تکمیل سے مجھے بھی کسی ’’پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘ کی اُمید ہے دعا کریں اور ہاں آپ کو بھی کبھی اپنے گھر کا ڈیزائن یا نقشہ منظوری جیسا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو بندہ حاضر ہے۔ (ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور رخصت چاہی)۔

مزید : رائے /کالم