راہ دکھاتے ہوئے کالم

راہ دکھاتے ہوئے کالم
راہ دکھاتے ہوئے کالم

  

ادب و صحافت کے شہسوار سعید آسی کے بے لاگ تبصروں بھرے کالموں پر مبنی کتاب ’’تیری بکل دے وچ چور‘‘ اپنے اندر جھونپڑیوں سے محلات تک ،تجسس، طوفان اور دھماکہ سے اپنی اپنی صلیب خود اٹھانے کی جرات رندانہ لئے ہوئے ہے۔چار سو پندرہ صفحات پر مشتمل اس ادبی، علمی ،صحافتی، تاریخی اور فکری شاہکار میں زہر کا تریاق، عشاق کی خبر، سلطانی جمہور کی تحقیر، ثالثی کے بکھیڑے، پولیس گردی، دہشت گردی، سیاست دانوں کی سیاسی اور غیر سیاسی چالیں، ظالم کا ظلم، مظلوم کی مظلومیت جیسے عنوانات پر قلم زنی کی گئی ہے۔

کالم ’’محتسب کی خیر‘‘ میں لکھتے ہیں۔۔۔ ’’اگر حشر سامانیوں کا اہتمام کرتی یہ اچھل کود، دھماچوکڑی، شوراشوری، سینہ زوری، پوری دیدہ دلیری کے ساتھ جاری و ساری رہتی ہے اور اس کے نتیجے میں قوم کو خانہ جنگی میں دھکیل کر یوم آزادی کو خون آشام بنایا جاتا ہے تو ماضی کی تلخیوں کے ڈسے ہم راندہء درگاہ مقہور و مجبور عوام الناس کے لئے آنے والا یومِ آزادی مزید دربدری کا پیغام لے کر آ رہا ہے اور پھر اس بارے میں بھی کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہے گی کہ یہ طوفان کون اٹھاتا ہے۔ یہ بجلی کون گراتا ہے‘‘:

محتسب کی خیر اونچا ہے اسی کے فیض سے

رند کا، ساقی کا، خم کا، مے کا، پیمانے کا نام

اسی طرح اپنے ایک معروف کالم ’’عوام کی خدمت کا موجزن جذبہ‘‘ میں لکھا ہے کہ :

دل کو تھاما ان کا دامن تھام کے

نکلے دونوں ہاتھ اپنے کام کے

اگر اپنے مفادات کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ سودے بازی کرنا ہی عوام کی خدمت ہے تو پھر حضورِ والا ۔۔۔ ’’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘‘۔ آج ذرا دکھایئے تو سہی کہ سلطانی ء جمہور میں جمہور نام کا عنصر تو پاؤں تلے کچلے جانے والے کیڑے مکوڑوں کی طرح عالی جاؤں ، ناخداؤں، کرم فرماؤں کے سامنے راندہ درگاہ عوام الناس کی صورت میں ہی موجود ہے‘‘ ۔۔۔ سعید آسی کے کالموں پر مشتمل کتاب میں حالات و واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے اپنے خیالات ، مسائل کے حل کے طور پر سامنے آتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ مسئلہ کیا ہے۔

کس کا پیدا کردہ اور کیسے حل ہو سکتا ہے؟ اس لئے ’’تیری بکل دے وچ چور‘‘ ایک رہنما کتاب ہے۔ وہ اپنے کالم بعنوان ’’پولیس گردی، وکلاء گردی اور دہشت گردی میں پھنسی عدل گستری‘‘ کا اختتام یوں کرتے ہیں کہ ۔۔۔ اپنی پیدا کردہ خرابیوں کا ایک دوسرے پر ملبہ ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی روش ترک کرکے پہلے ادارہ جاتی باہمی اعتماد سازی کی فضا پیدا کی جائے پھر ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اپنے اپنے تجربات شیئر کرکے اجتماعی طور پر اصلاحِ احوال کا کوئی راستہ نکالا جائے، ورنہ ’’پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی‘‘ والے ماٹو کا حشر بھی ’’باکمال لوگ لاجواب پرواز‘‘ والا ہی ہوا چاہتا ہے، جس میں متلاشیانِ انصاف کے لئے خواری ہی خواری ہے۔ محض آٹو مشین والی اصلاح احوال معاشرے کے بدقماشوں کی سرکوبی نہیں کر سکتی‘‘۔

سعید آسی نے ہمیشہ حق سچ کی بات کی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں دانستہ طور پر برائی کا ساتھ نہیں دیتے۔ وہ کہتے ہیں: ’’میرا یہ المیہ ہے کہ میں زہر ہلاہل کو کبھی قند نہیں کہہ پایا، چنانچہ میرا آئین اور اس کے تحت قائم سسٹم پر یقین ہے تو آئین اور اس کے تحت قائم سسٹم کے ساتھ کھڑا ہونا میری مجبوری ہے، چنانچہ میرا یہی تجسس آپ کو میرے کالموں میں جابجا بکھرا ہوا نظر آئے گا جو روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں 2014ء سے 2017ء تک شائع ہونے والے میرے کالموں میں سے منتخب کئے گئے ہیں‘‘ ۔۔۔ اس کالم نویس نے چُن چُن کر بکل سے چور نکالے ہیں اور قارئین کو احساس دلایا ہے کہ تازہ دم ہو جائیں، اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں، اپنی چارپائی کے نیچے ڈنگوری مار کر دیکھ لیں ،کوئی زہریلا کیڑا نہ چھپا ہو۔ اپنا جائزہ لیں کہ آستین کا سانپ نہ ہو۔ اگر ایسا نہ کیا گیا، اپنا جائزہ نہ لیا گیا تو پھر ردعمل کے طور پر راستہ انقلاب اور تبدیلی کو جاتا دکھائی دیتا ہے:

پاؤں جمتے ہیں نہ دستار سنبھالی جائے

اب تو بس عزتِ سادات بچا لی جائے

بھوک بڑھنا ہی بغاوت کا سبب ہے آسی

یہ روایت میری سرکار نہ ڈالی جائے

مزید :

رائے -کالم -