اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کیوں؟

اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کیوں؟
اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کیوں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مجھے سپین میں پشپ افتخار ملے اوراپنی داستانِ غم سناتے ہوئے مدد کا مطالبہ کیا۔ اس کی کہانی کا خلاصہ یہ تھاکہ فیصل آباد کے علاقے داود کالونی میں واقع چاہنا ہانگ کانگ اور امریکا کی مشنریز کے زیر اہتمام چلنے والا مفت تعلیم کا سکول،، نیو کونو ونٹ سکول سسٹم،، جہاں 1500 بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس سکول میں واسا فیصل آباد ڈسپوزل اسٹیشن، گندے کنویں، بنانا چاہتا ھے، سکول انتظامیہ نے واسا کو متبادل زمین بھی مہیا کی لیکن وہاں اہل محلہ نے واسا کو گندے کنویں نہیں بنانے دئیے، وہاں ناکامی کے بعد واسا اب اس اقلیتی بچوں کے سکول میں گندے کنویں بنانے کے آرڈرز کر رہی ہے، ان گندے کنووں کے شور اور بدبو میں بچے تعلیم کیسے حاصل کر سکیں گے؟ اور بیماریاں پھیلنے کے خدشات اپنی جگہ اتم موجود ہیں، واسا کو سکول میں گندے کنویں بنانے سے روکا جائے، سکول انتظامیہ چائنا کے افراد پر مشتمل ہے وہ بہت پریشان ہیں کہ ہم مفت تعلیم دے رہے ہیں اور فیصل آباد کی انتظامیہ ہمارے ساتھ کیسا سلوک کر رہی ہے، ابھی تک یہ ایک نیشنل اشو ہے لیکن کل کو یہ انٹرنیشنل اشو بن جائے گا، کیونکہ یورپی یونین اور یو این او کے سامنے کرسچن پادری اور بشپ احتجاج کرنا چاہتے ہیں جنہیں ابھی یہ کہہ کر روکا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت یہ نا انصافی نہیں ہو نے دے گی۔حکومتی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ کمشنر فیصل آباد کو حکم دیا جائے کہ وہ ایم ڈی واسا اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ مل کر اس غلط عمل کرنے رک جائیں۔تحریر کنندہ ایک کالم نگار ہے اور یورپ میں اس سکول کے حوالے سے ہونے والی زیادتی کو رکوانے کے لئے پاکستان آیا ہے ، تحریر کنندہ بشپ افتخار اور یورپی بشپ اور پادری حضرات کو کہہ کر آیا ہے کہ ہماری حکومت اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا عزم کئے ہوئے ہے اس لئے کرسچن کمیونٹی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔


ہم نے ان کے ساتھ وعدہ کیا کہ ان شا اللہ ہم پاکستانی مسلمان کرسچین بچوں کے ساتھ یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے، ہم نے معروف کالم نگار منصور آیافاق سے ملاقات کیاور انہیں تمام حالات سے با خبر کیا ۔ انہوں نے بھی وعدہ کیا کہ ہم یہ کام نہیں ہونے دیں گے، بچوں کے حوالے سیماحولیات کے معاملات پر انٹرنیشنل سطح پر بہت کام ہو چکا ہے اور ہم بھی اخلاقی طور پر ایک ترقی یافتہ قوم ہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کا یہاں پورا خیال رکھا جاتا ہے۔


اردو صحافت کی اہم ترین شخصیت ہارون الرشید سے ملا ان سے ساری گزارش کی انہوں نے وعدہ کیا۔وہ اور منصور آیافاق جا کر چیف سیکرٹری سے ملے چیف سیکرٹری نے کمشنرفیصل آیاباد کو حکم بھی دیا کہ سکول کے ساتھ گندگی کے کنویں نہ بنائے جائیں، صوبائی وزیر سپیشل ایجوکیشن چوہدری اخلاق سے ملاقات کی انہوں نے ایم ڈی واسا کو فون کیا کہ ایسا کام نہ کیا جائے۔ مشہور کالم نویس مظہر برلاس سے کہاانہوں نے وزیر اعلی عثمان بزدار سے بات کی۔انہوں نے بھی کمشنر فیصل آباد کوپیغام بھجوایا کہ یہ غلط کام نہ کیا جائے اس کے باوجود آج وہاں گندے کنویں بنانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، کچھ مقامی رہائشیوں نے اس غلط عمل کے خلاف دبے لفظوں میں احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا اور لین دین کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے منصور آیافاق نے واسا کے صوبائی وزیر محمود الرشید کو تمام معلومات فراہم کیں اور انہیں کہا کہ یہ کام فوری طور پر رکوایا جائے صوبائی وزیر موصوف نے بھی وعدہ کیا ہے کہ میں ابھی اس کام کو رکواتا ہوں ،اب دیکھتے اور انتظار کرتے ہیں کہ پاکستان میں چند متعصب افسران اقلیتی بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی بتایا جانا ضروری ہے کہ اس سکول سسٹم کو چائنا ، ہانگ کانگ اور امریکہ کی مشنیریز چلا رہی ہیں ، سکول میں تعلیم با لکل مفت دی جاتی ہے ، کوئی داخلہ فیس تک نہیں لی جاتی، اس کے ساتھ ساتھ اس سکول کے فاونڈر بشپ افتخار جنہیں پاکستان میں مقدمات میں الجھا دیا گیا تھا وہ اس وقت سپین کے دارلحکومت میڈرڈ میں اپنے بچوں کے ساتھ تارک وطن کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکا ہے ، یہ وہی بشپ افتخار ہے جس نے مختلف ممالک کی مشینریز کو قائل کیا تھا کہ وہ پاکستان میں پرائمری سکول بنائے اور تمام اخراجات وہ مشنریز نے برداشت کرنے تھے ، ہزاروں پرائمری سکولوں کو خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا بلکہ اس کے بر عکس جس نے یہ خواب دیکھا اسے بمعہ خواب تعلیم دشمن عناصر نے پاکستان سے بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔نیو کانوونٹ سکول سسٹم کی انتظامیہ نے ایک اور ایسا انسانیت پر مبنی کام کیا ہے جس پر جتنا فخر کیا جائے وہ کم ہو گا ، سکول انتظامیہ نے سکول کی عمارت کے ساتھ ایک دوسری عمارت بنائی ہے جس میں تین سو یتیم بچوں کی کفالت کی جاتی ہے ،انہیں پالا جاتا ہے اور پڑھا لکھا کر معاشرے کا اچھا شہری بنانے میں مدد کی جاتی ہے یہاں بچے یتیم اور مسکین ہیں ، بے آیاسرا ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں اور نیو کانوونٹ سکول سسٹم کی انتظامیہ نے ان بچوں کو پالنے اور پڑھانے لکھانے کا بندوبست کیا ہے ،

ان معاملات کو دیکھتے ہوئے اب پڑھنے والے خود ہی انصاف کریں کہ یتیم بچوں کی کفالت کرنے اور پندرہ سو بچوں کو مفت تعلیم دینے والے لوگوں کے ساتھ ہماری انتظامیہ اور افسران کیسا غلط سلوک کر رہے ہیں ، صرف اس لئے کہ وہ ایسا کرنے والے کرسچن ہیں ، یہ اقلیت ہیں ؟ یہ بے آیاسرا اور یتیم ہیں ؟ فیصل آیاباد کے کمشنر ، ایم ڈی واسا اور ڈپٹی کمشنر کو چاہیے کہ وہ فی الفور سکول کے ساتھ گندے کنویں ’’ ڈسپوزل پمپس ‘‘ بنانے کا کام بند کریں اور ان کنووں کے لئے کسی دوسری جگہ کا انتخاب کریں جہاں گندے کنویں بنانے سے کسی کو اعتراض نہ ہو۔ ذرائع بتا رہے ہیں کہ ایم ڈی واسا انٹی کرپشن کی جانب سے مقدمہ بنائے جانے کے ڈر سے خود کو بچاتے ہوئے کرسچن کمیونٹی کی صحت اور زندگی کو داؤ پر لگا رہا ہے ، وزیر اعظم پاکستان ، آرمی چیف پاک افواج ، چیف جسٹس سپریم کورٹ، وزیر اعلیٰ پنجاب، صوبائی وزیر واسا محمود الرشید اور دوسرے حکومتی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ واسا کی جانب سے بنائے جانے والے اس نیشنل اشو کو انٹرنیشنل اشو بننے سے روکیں اور گندے کنووں کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کے آیارڈرز کر کے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

مزید :

رائے -کالم -