اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 121

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 121
اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 121

  

ایک مرتبہ شمس دبیر نامی ایک شاعر طویل قصید لکھ کر حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ قصیدہ سنانے کے بعد اس نے آپ سے افلاس دور کرنے کے لیے دعا کی درخواست کی۔

آپ نے اس کو تھوڑی سی شکر دے کر کہا ’’جاؤ اللہ تعالیٰ تمہیں خوشحال کرے۔‘‘

ابھی آپ کے یہ کلمات سن کر شاعر گھر پہنچا ہی تھا کہ سلطان غیاث الدین بلبن نے نامہ بھیج کر اس کو اپنے پاس بلوا کر اپنا میر منشی مقرر کردیا۔

ضرور پڑھیں: اسد عمر کی چھٹی

***

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 120 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک دفعہ خلیفہ وقت نے حضرت جنیدؒ بغدادی کا امتحان لینے کی غرض سے اپنی ایک خاص کنیز کو خوبصورت لباس پہنا کر آپ کی جانب روانہ کیا اور ساتھ ہی اسے یہ ہدایت بھی کردی کہ حضرت جنیدؒ کے سامنے پہنچ کر نقاب الٹ کر یہ کہنا کہ میں ایک امیر زادی ہوں اگر آپ میرے ساتھ ہم بستر ہوجائیں تو میں آپ کو دولت سے مالا مال کردوں گی۔ اور واقعہ کی نوعیت معلوم کرنے کے لے ایک غلام کو بھی اس کنیز کے ہمراہ بھیج دیا اور جب اس کنیز نے خلیفہ کی ہدایت کے مطابق آپ کے سامنے اظہار مدعا کیا تو آپ نے سر جھکا کر ایک ایسی سرد آہ کھینچی کہ اس کنیز نے وہیں دم توڑ دیا۔

جب غلام نے واپس آکر خلیفہ سے واقعہ کی نوعیت بیان کی تو خلیفہ کو بہت صدمہ ہوا کیونکہ وہ خود اس کنیز سے محبت کرتا تھا۔

خلیفہ وقت نے آپ کی خدمت میں پہنچ کر عرض کیا ’’یہ بات آپ نے کیسے گوارا کی کہ میری محبوب ہستی کو دنیا سے رخصت کردیا۔‘‘

آپ نے جواب دیا ’’امیر المومنین کی حیثیت سے تمہارا فرض تو مومنین کے ساتھ مہربانی کرنا ہے لیکن مہربانی کی بجائے تم نے میری چالیس سالہ عبادت کو ملیا میٹ کرنا کیسے گوارا کرلیا؟‘‘

***

ایک عورت نے گھر کا تنور جلایا۔ جلا کر نماز پڑھنے لگی۔ خیال یہ تھا کہ نماز پڑھ کر روٹی پکاؤں گی۔ اس عورت کو دو اڑھائی سال کا بچہ تنور کے پاس ہی کھیل رہا تھا۔

شیطان آیا اور اس بچے کو تنور کے بالکل نزدیک پہنچا کر اس عازی عورت کے پاس آکر کہنے لگا ’[دیکھ تیرا بچہ تنور کے نزدیک ہے۔ تو نماز توڑ کر بچے کو وہاں سے اٹھا لے، ایسا نہ ہو کہ بچہ تنور میں گر کر جل جائے۔‘‘

اس عورت نے بالکل خیال نہ کیا اور بدستور نماز پڑھتی رہی۔ شیطان کو بہت غصہ آیا۔ اس نے بچے کو اٹھایا اور تنور میں پھینک دیا۔ اس کے بعد عورت کے پاس آکر بولا ’’تو نماز پڑھ رہی ہے اور تیرا بچہ تنور میں گر گیا ہے۔ جلدی دوڑ شاید ابھی جان باقی ہو اور وہ سسکتا ہوا مل جائے۔ اری کم بخت! نماز تو تُو پھر بھی پڑھ سکتی ہے۔ اگر بچہ مرگیا تو پھر نصیب نہ ہوگا۔‘‘

شیطان نے اپنی طرف سے مامتا کے جذبات کا اظہار کردیا اور بھی بہت کچھ کہا لیکن عورت پر شیطان کی ان باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ پورے انہماک کے ساتھ نماز پڑھتی رہی، عورت کی ثابت قدمی دیکھ کر شیطان آگ بگولا ہوگیا اور وہاں سے اپنا منہ لے کر چلا گیا۔

جب وہ عورت نماز سے فارغ ہوئی۔ نہایت اطمینان کے ساتھ تنور کے پاس گئی۔ دیکھا کہ بچہ تنور میں پڑا ہوا ہے۔ آگ بھڑکی ہوئی ہے مگر بچے پر اس آگ کا کوئی اثر نہیں بلکہ وہ انگاروں سے کھیل رہا ہے۔

من کان اللہ کان اللہ لہ (جو اللہ کا ہوگیا اللہ اس کا ہوگیا) (حدیث)

***

حضرت حاتم اصمؒ نے ایک روز فرمایا ’’ایک دفعہ شیطان میرے سامنے آیا اور اس نے مجھے روٹی کپڑے کے لالچ میں پھسلانا چاہا مگر مَیں نے اس کو ایسا جواب دیا کہ ملعون مایوس ہوکر واپس چلا گیا۔‘‘

مریدوں نے پوچھا ’’اس نے کیا کہا اور آپ نے کیا جواب دیا تھا۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’شیطان نے مجھ سے کہا کہ کیا کھائے گا۔ مَیں نے جواب دیا موت!‘‘

پھر اس نے پوچھا ’’تو پہنے گا کیا؟‘‘

مَیں نے جواب میں کہا ’’کفن!‘‘

اس نے پھر کہا ’’رہو گے کہاں؟‘‘

مَیں نے کہا ’’قبر میں‘‘

اس پر شیطان مایوس ہوکر میرے پاس سے چلا گیا۔

***

ہرات کے بادشاہ ملک حسین نے حضرت خواجہ نقشبندؒ کی خدمت میں شکارکا گوشت بھیجا۔ اس وقت آپ کی مجلس میں بہت سے علماء و مشائخ بیٹھے تھے۔ وہ سب کے سب گوشت کھانے لگے مگر آپ نے نہ کھایا۔

علماء نے کہا ’’شکار کے گوشت میں حرمت کا کسی قسم کا شبہ نہیں ہوتا۔ اس لیے آپ کو یہ گوشت کھا لینا چاہیے۔‘‘

آپ نے فرمایا ’’بادشاہ کے دسترخوان کا کھانا میرے لیے جائز نہیں ہے۔‘‘(جاری ہے)

اللہ والوں کے قصّے... قسط نمبر 122 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اللہ والوں کے قصے