دنیا کا وہ علاقہ جہاں سب سے زیادہ جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں، یہاں کے لوگ کیا غذا کھاتے ہیں؟ آپ بھی جانئے

دنیا کا وہ علاقہ جہاں سب سے زیادہ جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں، یہاں کے لوگ کیا غذا ...
دنیا کا وہ علاقہ جہاں سب سے زیادہ جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں، یہاں کے لوگ کیا غذا کھاتے ہیں؟ آپ بھی جانئے

  

ابوجہ(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم شکل جڑواں بچے ہونا اگرچہ کوئی انہونی نہیں ہے مگر شاید لاکھوں میں ایک واقعہ ہوتا ہو گا کہ جڑواں بچے ہوں اور ہو بہو ہم شکل بھی۔ تاہم آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ افریقی ملک نائیجیریا میں ایک گاﺅں ایسا بھی ہے جس میں ہم شکل جڑواں بچوں کی بھرمار ہے اور لگ بھگ ہر گھر میں جڑواں ہم شکل بچے موجود ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق اس گاﺅں کا نام ایگبو اورا (Igbo Ora)ہے جس میں ہم شکل جڑواں بچے پیدا ہونے کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں کے باسیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں ہم شکل جڑواں بچے پیدا ہونے کی وجہ ’اوکرا‘ نامی درخت ہے جس کے پتے وہ کھاتے ہیں۔ انہی پتوں کی تاثیر ہے کہ ان کے ہاں ہم شکل جڑواں بچے پیدا ہوتے ہیں۔

بعض مقامی لوگ اس کی وجہ آملہ کو بھی کہتے ہیں جو وہاں کی ایک مقامی ڈِش ہے جو میٹھے آلو اور کسابی (Cassava)نامی ایک پودے کے بیج کے آٹے سے تیار ہوتی ہے۔ یہاں ہم شکل جڑواں بچوں کی تعداد کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ گاﺅں کے سکول میں کل 100بچے پڑھتے ہیں جن میں 9جوڑے ہم شکل جڑواں بہن بھائیوں کے ہیں۔یہاں خواتین اوکرا درخت کے پتے اتار کر فروخت کرتی ہیں جن میں دیگر چیزیں ملا کر ایک ڈِش تیار کی جاتی ہے جو یہاں کی مرغوب غذا ہے۔ یہ پتے فروخت کرنے والی ایک خاتون ’اوینکی بیمی مور‘ کا کہنا تھا کہ ”ہمارے ہاں ہم شکل جڑواں بچے پیدا ہونے کی وجہ اوکرا کے پتے ہی ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت میں خود ہوں۔ میں اوکرا کے پتے فروخت کرتی ہوں اوریہ پتے میری روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ میرے ہاں ہم شکل جڑواں بچوں کے 8جوڑے پیدا ہوئے۔“

تاہم طبی ماہرین مقامی لوگوں کے یہ مفروضے ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ نائیجیریا کے شہر لیگوس کی معروف گائناکالوجسٹ ایکوجومی اولارینواجو کا کہنا ہے کہ ”ان لوگوں کے ہاں ہم شکل جڑواں بچے زیادہ پیدا ہونے کی وجہ کچھ اور ہی ہے۔اس کی وجہ آملہ اور اوکرا کے پتے قطعاً نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ چیزیں نائیجیریا سمیت دیگر کئی افریقی ممالک میں کھائی جاتی ہیں لیکن اس گاﺅں کے علاوہ کہیں بھی اتنی بڑی تعداد میں ہم شکل جڑواں بچے نہیں ہوتے۔ چنانچہ ہم سائنسی اعتبار سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کی وجہ اوکرا کے پتے اور آملہ ہیں۔اس کی ایک وجہ ان لوگوں کے جینز ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ نسل درنسل خاندان میں ہی شادیاں کرتے آ رہے ہیں اور ممکنہ طور پر اب ان میں کچھ ایسے جینز ارتقائی طور پر نمو پا گئے ہوں جو ہم شکل جڑواں بچوں کی وجہ بن رہے ہوں۔“

مزید : تعلیم و صحت