سیاست کے بدلتے رنگ!

سیاست کے بدلتے رنگ!
سیاست کے بدلتے رنگ!

  

 پاکستان کی سیاست بھی عجیب ہے۔ ہر لمحے  گرگٹ کی طرح  رنگ بدلتی ہے۔ سیاسی موسم پلک جھپکتے تبدیل ہوتا ہے،اور سیاسی فضا بھی یکسر بدل جاتی ہے۔ اس کی  سیاست میں وہی کامیاب ہے جو  ابجد سے ہی نہیں، چالوں سے بھی واقف ہو، اس کی واضح مثال پاکستان مسلم لیگ (ق)  اور پیپلز پارٹی کی ہے، یہ چودھری خاندان کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اپنی بہترین حکمت عملی کے باعث ہمیشہ اقتدار میں اور اہم عہدوں پر فائز رہے،حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی پی ڈی ایم میں اکٹھی رہیں،  اسے آگ اور پانی کے ملاپ سے تشبیہ دیئے جانے کے ساتھ سیاسی کرشمہ بھی قرار دیا گیا۔آصف علی زرداری ایک منجھے ہوئے سیاست دان ہیں،  انہیں سب پر بھاری کہا جاتا ہے  قومی اسمبلی سے استعفوں کے معاملے پر وہ جس  طرح مسلم لیگ(ن) کے جال میں پھنسے، ان کی کسی کو سمجھ نہیں آئی۔پی ڈی ایم کے اجلاس میں آصف علی زرداری نے میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا،جواب میں محترمہ مریم نواز نے کہا کہ میں بھی ایک بیٹی ہوں اپنے والد کو کھونا نہیں  چاہتی جس پر آصف زرداری نے فوری طور پر اُن سے معذرت کی، آصف علی زرداری جیسی اہم شخصیت کا مریم نواز سے معذرت کرنے کو مریم نواز کی ایک بڑی سیاسی کامیابی کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، بعد ازاں سید یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے پر، مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جو موقف اختیار کیا اور پھر محترمہ مریم نواز سمیت  میاں محمد نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی پراسرار خاموشی  اپنے اندر صرف طوفان لئے ہوئے ہے، جس کے اثرات دکھائی دینا شروع ہو چکے ہیں۔

مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی ایک پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتیں، ان کے اختلافات کی نوعیت اور ہے۔ 2008ء میں بظاہر یہ دونوں جماعتیں اکٹھی تھیں،لیکن مفاد حاصل کرنے کے بعد یک دم الگ ہو گئیں،اور اس طرح مدمقابل آئیں کہ گھسیٹنے، گریبان پکڑنے، چوک میں سر عام لٹکانے اور پیٹ پھاڑنے تک کے بیانات سامنے آئے،پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کو جھانسہ دے کر پنجاب میں اپنے قدم مضبوط کرنا چاہتی تھی،ان کے مقابل محترمہ مریم نواز تھیں، جنہوں نے پیپلز پارٹی سے فائدہ اٹھایا، پھر ایسے طریقے سے  پی ڈی ایم سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا کہ اپنے پر الزام بھی نہیں آنے دیا، پنجاب میں جو پیپلز پارٹی چاہ رہی تھی،اس کی تو نہ چلی۔

سیاست کے بدلتے رنگوں کو سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اس کی چالیں شطرنج اور تاش کے پتوں سے زیادہ خطرناک  ہیں، انہیں کب، کہاں، کس وقت اور کس موقع پر چلنا، دکھانا یا استعمال کرنا ہے،  یہ کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں ہے۔ 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو بقول اپوزیشن کے، کامیاب کروایا گیا تو اپوزیشن نے اس وقت تحریک کیوں نہیں چلائی،اس وقت انتخابی نتائج کو تسلیم کیوں کیا،جبکہ مولانا فضل الرحمن نے اس حوالے سے آواز بھی اٹھائی، لیکن کسی اپوزیشن جماعت نے مولانا فضل الرحمن کا اس طرح ساتھ نہیں دیا، جس طرح دینے کا حق تھا۔اپوزیشن اگر حکومت کے خلاف تحریک نہ چلاتی تو آج  حکومت کے معاملات زیادہ خراب ہوتے۔ اصول تو یہی ہے کہ تحریک انصاف کو اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے دی جائے، اسے سیاسی شہید نہ بنایا جائے، بقول وزیراعظم عمران خان  پانچ سال بعد  معاملات بہتر نہ ہوئے تو عوام کی عدالت میں وہ جواب دہ ہوں گے۔

ملک کا سیاسی موسم  ابر آلود  ہے، اور کسی وقت بھی تبدیل ہونے کو ہے، میاں محمد شہباز شریف کے بھی خوشحالی کے دن قریب ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کو میاں محمد نواز شریف کے بعد ایک  بڑی سیاسی جماعت بنانے میں میاں محمد شہباز شریف  نے 1985ء سے 1990ء تک جو شب و روز محنت اور کاوش کی، اس پر میاں شہباز شریف  خراج تحسین  کے مستحق ہیں۔میاں محمد شہباز شریف کو اپنی اس محنت کا پھل ملنے کو ہے۔ حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی کی خوشیاں بھی دوبالا ہونے کو ہیں،  پیپلز پارٹی پنجاب میں جو حاصل کرنا چاہتی تھی،  اب وہی کچھ مسلم لیگ (ن)خود کرے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت کا سٹیرنگ پہلے ہی جہانگیر ترین کے ہاتھوں میں تھا۔بقول رانا ثناء اللہ،جہانگیر ترین نے حکومت  بنانے کے لئے جو جہاز استعمال کیا تھا، انہیں حکومت کو ختم کرنے کے لئے  اب اس جہاز کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

مزید :

رائے -کالم -