قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن؟

قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن؟
قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن؟

  

پاکستان کی عدالتوں میں زیر سماعت مقدموں کو سامنے رکھا جائے تو قبضے کی کئی اقسام اور طریقے ہیں۔ ایک تو کوئی فرد گروہ یا کمپنی کسی سرکاری اراضی پر قابض ہو جاتی ہے۔ دوسری قسم ہے کہ کسی علاقے کے مخصوص گروہ عام افراد کی زمین یا پلاٹ پر بزور طاقت قبضہ کر لیتے ہیں۔ تیسرا طبقہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا ہے جو اپنے قریب ترین علاقوں میں زمینوں پر قبضہ کرتی ہیں اور پھر مالکان کو زمین انتہائی کم قیمت پر بیچنے پر مجبور کرکے اپنے قبضے کو قانونی کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ عزیز رشتہ دار، دوست یا پراپرٹی ڈیلر بھی دھوکہ دہی یا فراڈ کے ذریعے زمین ہتھیا لیتے ہیں۔

قانون کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کے قریب ہر وہ فرد جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر سرکاری یا غیر سرکاری زمین پر قبضہ کرتا ہے اور مسلسل اس کوشش میں ہوتا ہے کہ اس کے قبضے میں زیادہ سے زیادہ زمین آجائے وہی قبضہ مافیا کہلاتا ہے، لیکن سرکار از خود صرف اسی کے خلاف کارروائی کرتی ہے،جو سرکاری زمینوں پر قابض ہوتا ہے۔  لا اینڈ جسٹس کمیشن کے مطابق قبضہ مافیا کی تعریف یہ ہے کہ ’کوئی بھی فرد یا افراد کسی بھی دوسرے کی غیر منقولہ جائیداد پر غیر قانونی یا زبردستی قبضہ کرے، پاکستان میں کسی بھی فرد کو اس کی زمین یا جائیداد سے محروم کئے جانے یا قبضہ کرنے کے خلاف قانون ’ال لیگل ڈسپوزیشن ایکٹ 2005‘ موجود ہے۔ اس ایکٹ کے تحت ’کسی بھی شخص کو بغیر کسی قانونی اختیار کے حق نہیں کہ وہ کسی فرد کو جو کسی زمین پر قانونی طور قابض ہو یا اس کا مالک ہو، اس کی زمین سے محروم کرے، ہتھیائے، قبضہ کرے یا اس پر اپنا کنٹرول جمائے‘۔اس قانون کے تحت سیشن جج مقامی پولیس کو معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے اور پھر عدالتی حکم کی روشنی میں اصل حق دار کو زمین دلانے میں کردار ادا کرتا ہے۔ملک میں کرپشن بد عنوانی اور رشوت کے قبضہ مافیا بھی اب اہم مسائل میں شامل ہیں قبضہ مافیا کے پیچھے ہاتھ سیاست دانوں پولیس اور بیورو کریٹ کا ہی ہوتا ہے، جس کے سبب قبضہ مافیا پر ہاتھ ڈالنا مشکل ہوتا ہے،لیکن موجودہ حکومت نے ان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہوا ہے۔اگرچہ حکومت کی راہ میں بہت سی رکاٹیں اور تنقید سامنے آتی ہے،قبضہ مافیا سے حکومت بھی متاثر ہوتی ہے اور کئی خاندان تو اس گروپ سے نجات حاصل نہیں کر پاتے ہیں موجودہ حکومت نے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے اب تو اضلاع اور دیہاتوں کی سطح تک اس آپریشن کا دائرہ کار وسیع ہو گیا ہے،  ہر حکومتی دور میں ان قبضہ گروپوں کا راج رہا ہے اور طاقت ور عناصر ان کی ہمیشہ سپورٹ کر تے جس سے حکومت اور ہزاروں خاندان متاثر ہیں، بلکہ بیرون ممالک مقیم پاکستانی زمینیں خرید کر باہر جاتے تو ان پر بعد میں قبضہ ہو جاتا،اب اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے سے اور ان کی گرفتاریوں کے بعد عوام کو کچھ سکون کا سانس ملے گا۔

مزید :

رائے -کالم -