12 اپریل 2010 ۔۔۔ یوم سیاہ

12 اپریل 2010 ۔۔۔ یوم سیاہ
12 اپریل 2010 ۔۔۔ یوم سیاہ
سورس:   Wikipedia

  

صوبہ سرحد کا نام قیام پاکستان کی مخالفت کرنے والی  اے این پی  کو خوش کرنے کیلئے تبدیل کر کے پختونخوا رکھ دیا گیا اگرچہ اے این پی کا یہ مطالبہ پرانا تھا جسے مسلم لیگ ن نے اپنے دوسرے دور حکومت میں بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جس کی وجہ سے ن لیگ اور اے این پی کا اتحاد ٹوٹ گیا تھا ۔ بعد میں متحدہ مجلس عمل کی اسلام کے نام پر بنی حکومت نے بھی پشتونستان نام کو لے کر سیاست چمکانے کی کوشش کی لیکن عوامی پذیرائی نہ مل سکی پھر پیپلزپارٹی کے دور میں یہ کوشش دوبارہ شروع ہوئی۔ پیپلزپارٹی کو اپنے مقاصد کا حصول عزیز تھا تو ن لیگ تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی کو ہٹوانا چاہتی تھی چاہے اس مقصد کے لیے کوئی بھی قربانی دینا پڑے ۔ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کے حصے میں کمی پر آمادہ ہونا بھی اس خواہش کے لیے تھا تاکہ نوازشریف کے تیسری بار وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

پیپلزپارٹی نے ن لیگ کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا ہزارہ کا علاقہ جو کہ پنجابی علاقہ ہی ہے اور اب یہاں کی زبان کو ہندکو کہتے ہیں جو پنجابی کا ہی ایک لہجہ ہے اس علاقے سے مسلم لیگ ن ہی فتح یاب ہوتی رہی ہے کیونکہ یہ علاقہ پختون نمائندہ جماعت کو ووٹ دینے کو تیار نہیں مسلم لیگ ن کے سابقہ ادوار میں یہاں سے منتخب پیر صابر شاہ اور مہتاب عباسی صوبے کے وزیراعلی بھی رہے ۔  پیپلزپارٹی ن لیگ کی مخالفت میں صوبے کا نام تبدیل کرنا چاہتی تھی اور ن لیگ پرویز مشرف کی جانب سے عائد شدہ تیسری بار وزیر اعظم اور وزیراعلی نا بننے کی شرط سے جان چھڑانا چاہتی تھی ۔ پرویز مشرف نے یہ شرط بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کا سیاست میں داخلہ روکنے کے لیے آئین کا حصہ بنائی تھی ۔ ن لیگ کی مخالفت کے بعد مذاکراتی کمیٹی بنی۔ دونوں جانب سے تین تین نام پیش کیے گئے مسلم لیگ ن کی جانب سے پیش کیے گئے تین نام ہزارہ ،اباسین اور خیبر تھے۔ اے این پی اور پیپلزپارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے ناموں میں پختونخوا ، پختونستان اور افغانیہ شامل تھا ۔ پختونخوا نام  کی شدید مخالفت مسلم لیگ ق ، پیپلزپارٹی شیرپاو اور مسلم لیگ فنکشنل نے کی تھی ۔ پارلیمانی کمیٹی نے دونوں اطراف سے ایک ایک نام چن لیا اور ن لیگ کے تجویزکردہ ناموں  میں سے ایک نام خیبر کو بھی ساتھ جوڑ دیا گیا اس متعصب  اقلیتی نام کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج ہوا ۔ ہزارہ کے عوام کو اس نام کے خلاف احتجاج کرنے کی پاداش میں اے این پی کی حکومت نے چارسدہ اور مردان سے  پولیس دستے منگوا کر خون میں نہلا دیا جس کے نتیجے میں ہزارہ کے نہتے لوگ شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہو گئے ۔  

ہزارہ اور صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں کے غیر پختون عوام نے آج تک اس نام کو تسلیم نہیں کیا اور اس کے خاتمے کے لیے جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اب ایک بار پھر وہی خدشات حقیقت بن کر سامنے آ گئے ہیں جو ہم جیسے لوگوں نے تب بھی اٹھائے تھے کہ اب اگلا مرحلہ اس نام سے خیبر نکال کر صرف پختونخواکرنا ہو گا اور یہ کوشش چند سال بعد ہی قومی اسمبلی میں محسن داوڑ کی قرارداد سے شروع ہو گئی ہے کہ لفظ خیبر کو ختم کیا جائے۔ صوبے کے نام کو ایک مخصوص قوم سے جوڑ دینا پہلے بھی درست نہیں تھا اور اب اس میں سے لفظ خیبر نکالنے کی کوشش ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ مقتدر حلقوں کو اس کا نوٹس لینا چاہیئے اور ن لیگ کو بھی اس کی مخالفت کر کے اپنی سابقہ غلطی اور جرم کا کفارہ اب ادا کر دینا چاہیئے۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -