خاندان تغلق اور ” خونی سلطان“۔۔۔۔(1320ءسے 1414ءتک)

 خاندان تغلق اور ” خونی سلطان“۔۔۔۔(1320ءسے 1414ءتک)
 خاندان تغلق اور ” خونی سلطان“۔۔۔۔(1320ءسے 1414ءتک)

  

مصنف : ای مارسڈن 

اس خاندان کے8 بادشاہ حکمران ہوئے۔ ان میں سے صرف2 مشہور ہیں۔ ایک اپنی برائیوں کی وجہ سے اور دوسرا نیکیوں اور حسن تدبیر کے لیے، بدنامی کا ٹیکا محمد تغلق کے ماتھے پر ہے جو اس خاندان کا دوسرا بادشاہ تھا اور نیک نامی اور سرخروئی کا سہرا فیروز تغلق کے سر پر ہے جو خاندان تغلق کا تیسرا بادشاہ ہوا ہے۔

 اس خاندان کا پہلا بادشاہ غیاث الدین تھا۔ یہ بلبن کے ایک ترک غلام کا بیٹا تھا، جس نے ایک ہندنی کے ساتھ شادی کر لی تھی۔ اس نے 5 سال سلطنت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا جونا خاں تخت پر بیٹھا، جو محمد تغلق کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے 27 برس بادشاہت کی۔ اس کا عہد ملک کےلئے وبال تھا۔ رعایا اس کو” خونی سلطان“ کہا کرتی۔ یہ ایسی عجیب و غریب اور ظالمانہ باتیں کیا کرتا تھا کہ لوگ اسے دیوانہ خیال کرتے تھے۔ اس کے عہد میں جب مغلوں نے بڑی بھاری فوج کے ساتھ ہند پر حملہ کیا تو بجائے اس کے کہ ان سے لڑتا، ان کو خزانے کا کل روپیہ دے کر واپس جانے پر راضی کیا۔

 خزانہ خالی ہو گیا تو اس نے تانبے کا سکہ جاری کیا اور رعایا کو مجبور کیا کہ چاندی کے روپے کی جگہ تانبے کا سکہ لے، مگر رعایا نے یہ منظور نہ کیا اس نے محصول بڑھانے شروع کیے اور بڑھاتے بڑھاتے پہلے سے 10 گنا کر دیئے، جب رعایا سے یہ محصول ادا نہ ہو سکے تو وہ کھیتی کیاری سے منہ موڑ، زمینوں کو بے کاشت چھوڑ بھاگ گئی۔ اب بادشاہ نے رعایا کے شکار کےلئے فوج بھیجی۔ سپاہ نے جنگلوں میں رعایا کو گھیر لیا اور اس طرح مار ڈالا جس طرح شکاری شکار کے وقت جنگلی جانوروں کو مارتا ہے۔

 محمد تغلق نے دربار دہلی کے باشندوں کو حکم دیا کہ دیو گری میں جو دکن میں دہلی سے 800 میل کے فاصلے پر ہے، چلے جائیں۔ اس نے دیوگری کا نام دولت آباد رکھا۔گویا نام ہی بدل دینے سے وہ شہر دولت کا گھر بن گیا تھا۔ دہلی سے دیوگری تک کوئی سڑک نہ تھی۔ بندھیا چل پہاڑ اور گنجان بنوں سے ہو کر جانا پڑتا تھا۔ راستے میں کھانے پانی کا کوئی انتظام نہ تھا۔ بہت سے لوگ راہ ہی میں مر کھپ گئے اور جو بچ کر دیوگری پہنچے، ان کےلئے مکان نہ تھے۔ آخر کار بادشاہ نے حکم دیا کہ تم پھر دہلی واپس چلے جاﺅ۔

 محمد تغلق ہندوﺅں پر اعتبار نہ کرتا تھا۔ جنگی اور ملکی سب عہدے افغانوں کو دیتا تھا، جو نہ ہندوﺅں کی زبان جانتے تھے، نہ ان پر رحم کرتے تھے۔ گو اپنے ملک کے باغیوں کی سرکوبی نہیں کر سکتا تھا، پھر بھی ایک لاکھ سپاہ چین میں بھیج دی کہ جاﺅ، چین فتح کرو۔ یہ تمام فوج یونہی ضائع ہوئی۔ اکثر تو ہمالیہ کی برف اور سردی میں گل ٹھٹھر کر مر گئی اور رہی سہی جو مڑ کر آئی، اسے بادشاہ نے قتل کرا دیا۔

 صوبہ داروں اور منصبداروں نے جب یہ بدنظمی دیکھی تو باغی ہو کر خود مختار بن گئے۔ گجرات، بنگال اور کرناٹک کے ہندو راجا جو علاﺅالدین خلجی کے وقت میں مطیع کیے گئے تھے، اب پھر خودمختار ہو گئے۔ 1336ءمیں ایک ہندو راجہ ہری ہرنے دریائے تنگ بھدرا پر بجے نگر میں اپنا راج قائم کیا۔ 1347ءمیں ایک سردار افغان حسن نامی نے دکن میں بہمنی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔

 محمد تغلق کے بعد اس کا بھتیجا فیروز تغلق تخت پر بیٹھا۔ یہ پٹھان بادشاہوں میں سب سے اچھا تھا۔ اس نے 40برس کے قریب بادشاہت کی اور ملک کی خوشحالی اور فارغ البالی کی بہت سی تدبیریں نکالیں، سڑکیں بنائیں، نہریں نکالیں، مسافروں کےلئے سرائیں تعمیر کیں اور عربی فارسی کے مدرسے قائم کیے۔ اس نے دوسرے پٹھان بادشاہوں کی نسبت رعایا کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا، مگر مذہب کے معاملے میں یہ بھی بڑا متعصب تھا، جو ہندو اپنا مذہب چھوڑنے سے انکار کرتے تھے ان پر اکثر یہ بھی بہت سختی کرتا تھا۔ ہندوﺅں کے مندر ڈھا کر ان کے مصالح سے مسجدیں بنانا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ یہ اپنے تذکرے میں جو اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا، خود یہ سب باتیں بیان کرتا ہے۔

 فیروز تغلق کے بعد 4 بادشاہ اور ہوئے۔ جنہوں نے کچھ تھوڑے عرصے کےلئے سلطنت کی۔ ان کے وقت میں صوبے پر صوبہ باغی ہوتا چلا گیا۔ کچھ صوبے راجپوت دبا بیٹھے، کچھ پٹھانوں نے لے لیے۔ تغلق خاندان کے آخری شاہ دہلی کا نام محمود تھا۔ دہلی اور اس کے مضافات پر اس کی حکومت کا دائرہ ختم تھا۔ اس کے عہد میں تاتاری مغلوں نے امیر تیمور کی سرداری میں ہند پر پھر حملہ کیا۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -