گلگت کی سڑکوں اور راستوں پر محبت بھرے دن اورشامیں 

گلگت کی سڑکوں اور راستوں پر محبت بھرے دن اورشامیں 
گلگت کی سڑکوں اور راستوں پر محبت بھرے دن اورشامیں 

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :44

سنیما سے نکل کر ہم این ایل آئی چوک تک آ ئے اور سڑک کے وسط میں ٹریفک کانسٹیبل کے ٹین کی چھتری والے خالی تھڑے پر بیٹھ گئے۔رات گہری ہو رہی تھی۔ہمارے باقی ساتھی شاید کمرے میں جا چکے تھے۔سڑک کے پار ایک بوڑھا اس وقت بھی برف کے گولے بیچ رہا تھا۔طاہر اس کے پاس گیا اور جائزہ لے کر گولا کھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میں نے اسے سفر میں گلے کی خرابی اور بیماری سے ڈرا کر گو لے سے پر ہیز کا مشورہ دیا۔اتنے میں وہ بو ڑھا خود ہی ایک پیا لی میں گولا بنا کر لے آیا جس پر سرخ، پیلے اور ہرے رنگ کامشروب ڈلا ہواتھا اور ہمیں پیش کیا۔میں نے معذرت آمیز انکار کیا تو بو ڑھے نے یقین دلایا کہ اس سے گلا خراب نہیں ہو گا۔ اس خلوص کو ٹھکرانا گناہِ کبیرہ تھا۔ ہم دونوں نے گولا کھا یا جو مزے دارتھا۔میں نے بو ڑھے غلام محمد کو پیسے دینا چاہے تو اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔

 ”آپ ہمارا مہمان ہے، جتنا دل کرے کھاو¿۔ آپ کا گلا خراب نہیں ہوگا۔“ 

ہمارے اصرار کے با وجود اس نے پیسے نہیں لیے۔ وہ ایک محبت کر نے والی قناعت پسند روح تھا۔اس کا فرمان تھا کہ دنیا میں محلّات بنا نے کے بجائے آ خرت کے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔اور مجھے لگ رہا تھا کہ آ خرت میں وہ یقیناً بہت صا حب ِ جائیداد ہو نے والا تھا۔ ہم اس کا شکریہ ادا کر کے واپسی کےلئے اٹھے۔

میں نے سہ پہر سے اب تک اتنے مختصر سے دورانیے اور چھوٹے سے دائرے میں اتنے اچھے لوگ دیکھے تھے کہ مجھے خود یقین نہیں آرہا تھا۔ اور سب کے سب عام لوگ۔ موچی، راہ گیر، میڈیکل سٹور والا، برف کے گولے والا۔۔۔ اور ہاں محترم ڈاکٹر اقبال بھی ۔ دنیا اتنی بھی بری نہیں جتنی نیک لوگ بتاتے ہیں !

ایک چائے خانے کا ملازم بچہ خالی کیتلی پکڑے جا رہا تھا۔ اسے راہ میں لو گو ں کا پھینکا ہوا جوس کا جو بھی خالی کاغذی ڈبا نظر آتا، وہ اس پر کود کر پٹا خا بجا تا ©”ٹھاہ“ کی ہلکی سی آواز کے ساتھ بچے کے چہرے پر خوشی کی مسکراہٹ آتی ۔بچپنا اور معاش ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ 

چوک میں رینجرز کے نئے دستوں نے ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ ہر جگہ کی طرح یہاں کے عام لوگ بھی محبت کرنے والے ہیں لیکن چند لو گ فرقہ وارانہ نفرت اور مسلکی تعصب کا زہر پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ با لعموم چند ہی ہوتے ہیں لیکن بہ وجوہ اکثریت پر حاوی ہو تے ہیں۔ میں نے گلگت کی سڑکوں اور راستوں پر، ان خاموش اور بل کھا کر خود میں گم ہو تی گلیوں میں مسرت اور محبت بھرے دن اورشامیں گزاری ہیں ۔ اس شہر کے ہراس، اداسی اور پریشان حالی سے میرے دل کو تکلیف پہنچتی تھی (شکر ہے اب حا لات دوبارہ بہ تر ہو گئے ہیں)۔

 ہو ٹل ذرا دور تھا اور ہم تھک بھی چکے تھے، نیند آرہی تھی اور ابھی ہو ٹل کی سیڑھیاں بھی سر کرنی تھیں۔ کمرے کا درجہ حرارت خوش گوار تھا۔ ہمارے کمرے کی کھڑکی بازار کی طرف کھلتی تھی جس سے باہر کی روشنی اور ٹریفک کا ہلکا ہلکا شور اندر آرہا تھا لیکن کچھ دیر میں یہ شور رات کی خاموشی میں بدل گیا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -