جھگڑنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیے کہ جھگڑے کی کیا وجہ ہے؟

جھگڑنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیے کہ جھگڑے کی کیا وجہ ہے؟
جھگڑنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیے کہ جھگڑے کی کیا وجہ ہے؟

  

مصنف:ڈاکٹر ڈیوڈ جوزف شیوارڈز

قسط:37

کیا اچھی تقریر کی جا سکتی ہے؟

ہر کوئی خواہش کرتاہے کہ اس میں عوام کے سامنے اچھی تقریر کرنے کی اہلیت ہو لیکن بہت سے لوگ اپنی یہ خواہش پوری نہیں کر پاتے لیکن کچھ لوگ عوام کے سامنے بہت اچھی تقریر کرتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

اس کی وجہ بہت سادی سی ہے کہ بہت سے لوگ معمولی اور چھوٹی باتوں پر توجہ مرکوز کر کے بڑی اور اہم باتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جب تقریر کی تیاری کرتے ہیں تو اپنے آپ کو ہدایات دیتے ہیں کہ جب میں تقریر کرنے لگوں تو بالکل سیدھا کھڑا رہوں گا۔ میں اِدھر اُدھر بھی نہیں دیکھوں گا اور نہ ہی ہاتھوں کو ہلاﺅں گا۔ لوگوں کو معلوم نہ ہونے دو کہ میں نے تقریر کے نوٹس بھی تیار کر رکھے ہیں۔ مجھے گرائمر کی غلطی بھی نہیں کرنا ہوگی۔ میں اونچی آواز میں بولوں گا لیکن زیادہ اونچی آواز بھی ٹھیک نہیں وغیرہ وغیرہ۔

لیکن جب مقرر تقریرکرنے کھڑا ہوتا ہے تو کیا ہوتا ہے؟

کیونکہ اس نے اپنے آپ کو بے شمار ہدایات دے رکھی ہوتی ہیں، اس لیے وہ گھبرا جاتا ہے۔ اپنے آپ سے پوچھتا ہے کیا میں کوئی غلطی تو نہیں کررہا لیکن پھر وہ چھوٹی اور غیراہم کی طرف توجہ کر لیتا ہے۔ بڑی اور اہم باتوں سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے جبکہ بڑی اور اہم باتیں ہی کسی کو اچھا مقر ربناتی ہیں۔

ایک اچھا مقرر کبھی نہیں سوچتا کہ اسے سیدھاکھڑا ہونا چاہیے یا اسے گرائمر کی غلطیاں کرنا چاہیے اور حاضرین اس کے بارے میں کیا سوچتے ہیں جبکہ ہمارے ملک کے اعلیٰ درجہ کے مقررین بھی چھوٹی موٹی غلطیاں کر جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو وہ ناخوشگوار غلطیاں بھی کرجاتے ہیں۔

تمام کامیاب مقررین میں ایک بات مشترک ہوتی ہے ”کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں اور ان کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ ان کی بات دھیان سے سنیں۔“

پبلک کے سامنے تقریر کرتے وقت معمولی باتوں پر دھیان نہ دیں۔

 جھگڑوں کی وجوہات کیا ہیں؟ 

جھگڑنے سے پہلے اپنے آپ سے پوچھیے کہ جھگڑے کی کیا وجہ ہے؟ 99فیصد جھگڑوں کی وجہ معمولی اور غیراہم معاملات ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر جان کام سے تھوڑا سا تھکا ہوا گھر آتاہے۔ گھر میں شام کا کھانا تیار نہیں ہے۔ بس اس نے شکایتی لہجے میں بولنا شروع کر دیا، اس کی بیوی کا بھی دن کوئی اچھا نہ گزرا تھا، بس اس نے اپنے دفاع میں کہنا شروع کر دیا۔ آخر آپ کھانا بنانے کیلئے پیسے ہی کتنے دے کر گئے تھے یا پھر یہ کہہ دیا کہ جیسے سٹور دوسروں کے گھروں میں ہیں ہمارے گھرمیں اتنا اچھا سٹور نہیں ہے پھر کھانا کیسے بنتا۔ اس سے جان اور بھڑک اٹھا۔ تمہیں تو کچھ کرنا ہی نہیں آتا پھرباقاعدہ لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ ایک دوسرے پر الزام لگائے جاتے ہیں۔ پرانی باتوں کو دہرایا جاتا ہے، ایک دوسرے کے رشتے داروں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ دونوں کے ذہنوں پردباﺅ بڑھ جاتا ہے۔ معاملہ سدھرنے کی بجائے بگڑتا جاتا ہی۔ دوسرا جھگڑا پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کر جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی، حقیر سی باتیں دھرائی جاتی ہیں حالانکہ جھگڑے کی وجہ کوئی خاص نہیں ہوتی۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم “ نے شائع کی ہے ( جُملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -