مثالی ریاست صرف عدل و انصاف سے قائم رہ سکتی ہے۔۔۔۔

مثالی ریاست صرف عدل و انصاف سے قائم رہ سکتی ہے۔۔۔۔
مثالی ریاست صرف عدل و انصاف سے قائم رہ سکتی ہے۔۔۔۔

  

مصنف :ملک اشفاق

قسط: 28

 اخلاقی نقطہ نگاہ سے اس مثالی ریاست کا جائزہ لیں تو 3 خوبیاں عیاں ہوںگی۔ -1 دانائی-2 بہادری و شجاعت-3 اعتدال

 دانائی حکمرانوں کی نمایاں خصوصیت ہے، شجاعت سپاہیوں کی اور اعتدال تینوں طبقوں میں یکساں پایا جاتا ہے۔

 یہ مثالی ریاست صرف عدل و انصاف سے قائم رہ سکتی ہے۔ عدل سے مرادایسی مطابقت جو سارے سیاسی نظام میں ربط و میل جول پیدا کرے اور تمام طبقات کو ان کاموں میں مشغول رکھے جن کےلئے وہ موزوں اور فطری صلاحیتیں رکھتے ہیں تاکہ وہ اپنی خواہشات کو پورا کر سکیں۔ ایسا نظام ہی سیاسی عدل کےلئے مقصود ہے۔ اگر اس کے برخلاف نظام ہوگا تو شہری مسلسل مصیبتوں کا شکار رہیں گے۔

 اس کو ثابت کرنے کےلئے افلاطون اپنے سیاسی نظام کو زوال کی حالت میں تصور کرکے ان لوگوں کی طبیعتوں اور ذہنی کیفیتوں کا نقشہ پیش کرتا ہے جو مختلف دساتیر کی پیداوار ہیں۔ اس کے مطابق جس ریاست کا دستور جس قدر غیر معیاری ہوگا، اسی نسبت سے اس کے شہری لالچ، حرص اور ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونگے اور ایسے غیر معیاری دستور کے باعث وہ ہر طرح کی مسرت و سکون سے محروم ہوں گے۔

 زوال کے پہلے درجے میں ریاست کے حکمران شہرت پسند، نام و نمود اور شان و شوکت کے خواہش مند ہوتے ہیں اور یہی خواہشات ان کو اپنے فرائض سے غافل کر دیتی ہیں۔ وہ دوسروں کی کامیابیوں سے حسد کرنے لگتے ہیں۔ خوشامد کرنے والے ان کو حقائق کی دنیا سے دور لے جاتے ہیں اور وہ اچھائی اور بھلائی میں فرق نہیں کر پاتے۔ دولت کی حرص ان کو اعلیٰ مقاصد بھلا دیتی ہے اور وہ دولت ہی کو بڑائی کا معیار سمجھتے ہیں۔ ان کی یہ سوچ معاشرے کو امیر اور غریب طبقے میں تقسیم کر دیتی ہے۔ حکمران کے حرص کے باعث ملک کا نظام تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اور عام لوگ خوف و ہراس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جرائم، قتل و غارت اور قانون کی خلاف ورزی عام ہو جاتی ہے۔ اختیار و اقتدار چند حرص کے اندھوں کے ہاتھوں مقید ہو کر رہ جاتا ہے جو ریاست کو تباہی کے دھانے پر لے جاتے ہیں۔ نامساعدہ حالات کے باعث جمہوریت کےلئے راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ لیکن یہ جمہوریت لاقانونیت کو جنم دیتی ہے۔ جس میں تصنع و بناوٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے اور شہری مکار، خود غرض اور مفاد پرست ہو جاتے ہیں لوگ گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں اور ریاستی معاملات میں اپنے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ کردار اور چال چلن کے لحاظ سے بدترین لوگ سیاسی جماعتوں کے لیڈر بن جاتے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کےلئے ہر طرح کی اخلاقی دیواروں کو پھلانگ جاتے ہیں۔ آخر ایسے لوگ مطلق العنان حکمران بننے کےساتھ ساتھ اپنی خواہشوں کے غلام بن جاتے ہیں۔ ان کی حرص و ہوس انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ خواہشات کی تکمیل کےلئے کوئی ظالمانہ حرکت نہیں جو ان سے سرزد نہیں ہوتی۔ ان کا ضمیر بالکل مردہ ہو جاتا ہے۔ یہ علمی اور اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔

 ریاست میں اتحاد اسی وقت پیدا ہوتاہے جب عدل و انصاف کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس طرح دانائی، بہادری و شجاعت اور اعتدال کو معاشرے میں فروغ ملتا ہے۔ لوگ اپنے کاموں میں مشغول ہو جاتے ہیں اور لوگوں سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اس طرح تمام طبقات میں ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -