‎سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا ۔۔۔اسلام کی خاتون اوّل

‎سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا ۔۔۔اسلام کی خاتون اوّل
‎سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا ۔۔۔اسلام کی خاتون اوّل
سورس: Wikimedia Commons

  

‎آپ کا نام خدیجہؓ تھا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے خدیجہؓ  بنت خُویلد بن اسد بن عبدالعزٰی بن قصی بن کلاب ، آپؓ کا نسب چوتھی پشت میں حضور خاتم النبیینﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے، آپؓ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو اسد سے تھا ، قبیلہ بنو اسد اپنی شرافت ایمانداری اور کاروباری معاملات کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں قابل عزت واحترام تھا۔

‎ اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا بچپن سے ہی نہایت نیک تھیں اور مزاجاً شریف الطبع خاتون تھیں۔مکارمِ اخلاق کا پیکر جمیل تھیں رحم دلی ،غریب پروری اور سخاوت آپؓ کی امتیازی خصوصیات تھیں، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں آپ رضی اللہ تعالی عنھا طاہرہ یعنی پاکدامن کے لقب سے مشہور تھیں، مالدار گھرانے میں پرورش پانے کیوجہ سے دولت و ثروت بھی خوب تھی ، علاوہ ازیں حسنِ صورت اور حسنِ سیرت میں بھی اپنی ہم عصر خواتین میں ممتاز تھیں، آپؓ انتہائی دانا اور سمجھدار خاتون تھیں ۔

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے والد محترم خویلد بن اسد اعلیٰ درجے کے تاجر تھے ، جب بڑھاپے کی دہلیز  تک پہنچے تو انہوں نے اپنا سارا کاروبار اپنی بیٹی اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کے سپرد کر دیا ۔ آپ رضی اللہ تعالی عنھا حجازِ مقدس میں سب سے زیادہ مالدار خاتون شمار ہوتی تھیں، آپ رضی اللہ تعالی عنھا کی تجارت کا سامان عرب سے باہر ملکِ شام اور یمن میں سال میں دو مرتبہ جاتا تھا ۔۔۔بعض محدثین نے لکھا ہے کہ اکیلا اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا سامانِ تجارت مکہ مکرمہ کے سارے تجارتی قافلوں کے سامان کے برابر ہوتا تھا۔ 

‎جب آپ رضی اللہ تعالی عنھاکےکانوں تک نبی کریمﷺ کی امانت وصداقت کا چرچا پہنچا تو آپ رضی اللہ تعالی عنھا نے نبی کریم ﷺ سے سامان تجارت لیکر ملکِ شام جانے کی درخواست کی جسے آپ ﷺ نے قبول فرمایا۔

‎اس دوران سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰؓ نے اپنے غلام میسرہ کو خصوصی ہدایت کی کہ وہ آپ ﷺ کے کسی معاملے میں دخل اندازی نہ کرے ۔ اللہ تعالی نےاس تجارتی سفر میں بےحد برکت دی اورنفع پہلےسےبھی دو گُنا ہوا، چونکہ میسرہ دورانِ سفر قریب سےآپ ﷺ کے حسنِ اخلاق معصومانہ سیرت کاتجربہ اورمعاملہ فہی کا مشاہدہ کر چکا تھا،اسلئے اس نےبرملا اسکا اظہار کرتےہوئےسیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کو بتایاکہ آپﷺ نہایت معاملہ فہم،تجربہ کار ،خوش اخلاق،دیانت دار،امانت دار،شریف النفس اورمدبرانسان ہیں۔آپ ﷺنےواپس پہنچ کرتجارتی معاملات کاعمدہ حساب پیش کیاجس سے سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہابہت متاثر ہوئیں۔۔۔

سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰؓ کی ‎پہلی شادی ابو ہالہ ہند بن نباش تمیمی سے ہوئی جبکہ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی عتیق بن عاید مخزومی سے ہوئی ، کچھ عرصہ بعد وہ بھی چل بسے تو دنیاوی معاملات سے دل برداشتہ ہو کر زیادہ وقت حرم کعبہ میں گزارتیں ، جس کے باعث آپؓ کے مزاج مبارک میں تقدس و شرافت مزید بڑھ گئی۔۔۔ قریش کے نامور اور صاحبِ ثروت سرداروں نےآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پیغام نکاح بھجوایا لیکن اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب کو یکسر انکار کردیا مگر حضور نبی کریمﷺ  کے حسنِ اخلاق اور زبان کی سچائی کی وجہ سےآپ  ﷺ کے ساتھ نکاح کرنے کی خود خواہش فرمائی۔ چنانچہ نفیسہ بنت اُمیہ بیان کرتی ہیں جب حضور نبی کریم ﷺ سفرِ شام سے واپس تشریف لائے تو  اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے آپﷺ کی خدمت میں نکاح کا پیغام دے کر بھیجا ۔۔۔اسی طرح طبقات الکبریٰ میں روایت ہے کہ اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنی بہن سے کہا کہ جاؤ حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میری طرف سے نکاح کا پیغام پیش کریں۔۔۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے  چچا جناب ابوطالب سے اس کا ذکر فرمایا۔۔۔ اُنہوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا ، جس پر حضور نبی کریمﷺ نے اپنی رضا مندی کا اظہار فرمایا ۔۔۔

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے چچاعمرو بن اسد   کےمشورے سےپانچ سو درہم مہر مقرر ہوا۔ بوقت نکاح آنحضرت ﷺ کی عمرِ مبارک پچیس(25)سال جبکہ اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی عمرِ مبارک چالیس (40) سال تھی۔ آپ ﷺ کا یہ پہلا نکاح تھا جو اعلانِ نبوت سے تقریباً پندرہ سال پہلے ہوا ۔اس مبارک نکاح سے‎ اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اتنی خوشی ہوئی کہ انہوں نے اپنے تمام غلام آزاد کر دیئے تاکہ یہ شادی انکے لئے یادگار بن جائےاور وہ ساری زندگی مسرت و راحت اور دعائیں دیتے ہوئے گزاریں۔

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سرکار دوعالمﷺ کے قرب کی دولت سرمدی پا کر اپنی ساری دولت آپﷺ کے قدموں پہ نچھاور کرتے ہوئے عرض کی، میرے آقاﷺ! آپﷺ اس دولت کے مالک ہیں، جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں، میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔۔۔چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ یہی مال ودولت بعثت نبویﷺ کے بعد نصرتِ اسلام کا سبب بنی اور حضور نبی کریمﷺ معاشی فکر سے آزاد ہو کر دعوتِ دین کا فریضہ کما حقہُ نبھاتے رہے۔ 

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب حضور نبی کریم ﷺ کی لسانِ طیبہ سے غارِ حرا میں پیش آنے والے احوال سنے تو آپﷺکو تسلی دی اور عرض کیا یارسول اللہﷺ  ! اللہ کی قسم اللہ تعالی آپﷺ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔۔ آپﷺ تو صلہ رحمی کرنے والے، کمزوروں کا بوجھ اٹھانے والے، محتاجوں کیلئے کمانے والے، مہمان نوازی کرنے والے اور راہِ حق میں مصائب سہنے والے ہیں۔ 

‎حضور نبی کریم ﷺ کی محبوب رفیقہِ حیات اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسلام قبول کرنے کے بعد بصد دل وجان اپنے آپؓ کو اور اپنی تمام دولت کو اسلام کے مشن کے فروغ کیلئے وقف فرمایا اور ہر ابتلاء وآزمائش میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا ،خوشی وغمی کےلمحات میں آپﷺ کےشانہ بشانہ رہیں،مصائب وآلام کی کھٹن ساعتوں میں نہ صرف خود ثابت قدم رہیں بلکہ حضور نبی کریم ﷺ کی دلجوئی بھی کرتی رہیں۔ فراخی و تنگی ہر حال میں صابر و وشاکر رہیں ۔ آپؓ عزم و ہمت، جرات وشجاعت ، صبر واستقامت کا کوہِ گراں تھیں۔ ‎ اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ خوش نصیب ترین خاتون ہیں جنہیں حضور نبی کریم ﷺ کیساتھ تنِ تنہا طویل رفاقت کا عرصہ جو پچیس سال پر محیط ہے۔ گزارنے کا موقع نصیب ہوا، آپؓ کی تمام تر زندگی انتہائی پُرمسرت اور خوشگوار تھی۔ 

‎اُم المؤمنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے حضور نبی کریم ﷺ کیساتھ ازدواجی زندگی اتنی سلیقہ شعاری و دانشمندی اور محبت و مودت کیساتھ گزاری کہ حضور نبی کریمﷺ انکی رحلت کے بعد بھی اکثر وبیشتر گزرے ہوئے لمحات کو یاد فرماتے اور سیدہ طیبہ طاھرہ رضی اللہ عنھا کےاوصاف و کمالات بیان فرماتےتو بقیہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن جذباتِ رشک سےمملو ہو جاتیں۔‎اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں حضور نبی کریمﷺ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالی عنھن میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں کرتی جتنا سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا پر،حالانکہ وہ میرے نکاح سے پہلے ہی وفات پا چکی تھیں۔ 

‎حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ جبرائیل علیہ السلام حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہﷺ ! خدیجہ(رضی اللہ تعالی عنھا)ایک برتن لیکر آ رہی ہیں جس میں سالن اورکھاناہے،جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں تو آپﷺ اُنہیں اللہ تعالی کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں اور انہیں جنت میں خاص موتیوں سے تیار کردہ محل کی خوشخبری دیں ۔

‎اُم المؤمنین سیدہ عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ جب کبھی حضور نبی کریم ﷺ کوئی جانور  ذبح فرماتے تو اس کا گوشت بڑے اہتمام کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کی سہیلیوں کے گھروں میں پہنچاتےاور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ گھر میں گوشت پکا ہو اور آپ ﷺ نے اسے تناول فرمانے سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کو یاد نہ کیا ہو ۔

‎حضور نبی کریم ﷺ کے دل میں سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کی یاد کس درجہ سمائی ہوئی تھی؟ اسکا انداز آپ اس حدیث مبارکہ کو پڑھ کر کیجیئے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا کی بہن ہالہ بنت خویلد جن کی آواز سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کے کافی مشابہ تھی وہ ایک دن حضور نبی کریمﷺ سے ملاقات کیلئے مدینہ (طیبہ) آئیں اور گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی ،اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں کہ انکی آواز سنتے ہی حضور نبی کریم ﷺ کو بے اختیار سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنھا کی یاد آگئی اور انکی زندگی کا زمانہ آنکھوں میں پھر گیا، ایک عجیب کیفیت آپ ﷺ پر طاری ہو گئی۔۔ وہ اندر آئیں تو انہیں دیکھ کر آپ ﷺ بے ساختہ فرمانے لگے اوہ خدایا ! یہ تو ہالہ ہیں ( ایک لمحہ کیلئے میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنھا)آگئیں۔

‎ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا روایت فرماتی ہیں کہ ایک روز حضور نبی کریم ﷺ شدت سے اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یاد فرمارہے تھے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اس سُرخ رخساروں والی بڑھیا کو آج تک نہیں بھولے حالانکہ انہیں وفات پائے ایک زمانہ ہو چکا ہے اور اللہ تعالی نے ان سے کہیں بہتر بیوی( اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے) آپ ﷺ کو عطا کی ہے ۔(‎میاں بیوی کے درمیان یہ نازو ادا اور لاڈ کی بات ہے جیسے سیدہ طیبہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا ہی کہہ سکتی تھیں)۔۔۔آپ ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کو جواب دیتے ارشاد فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا! اس دنیا میں خدیجہ ( رضی اللہ تعالی عنھا) کا کوئی بدل نہیں ہو سکتا ،اعلانِ نبوت کے بعد جب دنیائےِ کفر وشرک میری نبوت و رسالت کا انکار کر رہی تھی تو (سیدہ)خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنھا) ہی وہ واحد ہستی تھی جو مجھ پر ایمان لائیں۔۔۔ یہ خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنھا) ہی تھیں جس نے اپنے مال سے میری مدد کی اور فریضئہ نبوت و رسالت کی ‎بجا آوری میں میری تائید و حمایت کی ۔۔۔پھر فرمایا یہ خدیجہ (رضی اللہ تعالی عنھا) ہی تھیں جنہیں اللہ تعالی نے میری اولاد کیلئے منتخب فرمایا ۔(ایک بیٹے ابراھیم جو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ ام المؤمنین سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنھا  کے بطن مبارکہ سے تھا انکے سوا باقی تمام اولاد قاسم طاہر طیبؓ، زینبؓ، رقیہؓ ،اُم کلثومؓ اور سیدہ  فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنھن اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کے بطن مبارک سے متولد ہوئیں)۔۔۔ 

‎ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا بیان فرماتی ہیں کہ ایک روز ایک معمر خاتون ہمارے گھر آئیں ۔ حضور نبی کریمﷺ انکی طرف متوجہ ہوئے اور دیر تک کمال التفات اور محبت وشفقت سے محوِ گفتگو رہے ، آپ ﷺ نے ان کی اور انکے گھر والوں کی خیریت دریافت فرمائی اور پوچھا کہ ہم جب مکہ سے ہجرت کرکےمدینہ چلےآئےتو آپ لوگ کن کن حالات سےگزرے اورکیا کیاواقعات پیش آئے ؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا بیان فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ اپنی اپنائیت اور چاہت کے مطابق اس سے سوالات پوچھتے رہے۔۔۔ مجھے اس بڑھیا پر رشک آنے لگا " جب وہ معمر خاتون چلی گئیں تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ وہ بڑھیا کون تھیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ خدیجہ ( رضی اللہ تعالی عنھا )کی سہیلی تھیں۔۔۔ جب ہم مکہ میں رہا کرتے تھے وہ اکثر ہمارے گھر آیا کرتی تھیں۔۔۔ خدیجہ ( رضی اللہ تعالی عنھا) اس سے بہت محبت کرتی تھیں ۔۔۔

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا پچیس (25) سال تک آپ  ﷺ کی جانثار ، اطاعت گزار اور وفا شعار زوجہ مطہرہ بن کر اس دنیا میں حیات رہیں اور ہجرت سے تین سال قبل چونسٹھ(64) سال کی عمر مبارک پا کر ماہ رمضان کی دس تاریخ کو مکہ معظمہ میں رحلت فرمائی گئیں۔

‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کی حیات طیبہ خواتین اسلام کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے ۔۔۔‎اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کے اسوہ طیبہ پر عمل پیرا ہو کر خواتین اسلام دارین کی فوز و فلاح پا سکتیں ہیں۔۔۔ ‎اللہ تعالی میری ماؤں بہنوں بیٹیوں کو اُمّ المومنین سیدہ خدیجۃُ الکُبریٰ رضی اللہ تعالی عنھا کے اُسوہ کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائیں ۔ آمین یا رب العالمین۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -روشن کرنیں -