سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین جمہوریت کی حفاظت کیلئے تھا،لیاقت بلوچ

سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین جمہوریت کی حفاظت کیلئے تھا،لیاقت بلوچ

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے رہائش گاہ پر سیاسی، سماجی کارکنان، سینئر صحافیوں اور احباب کے اعزاز میں افطار ڈنر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے آئین، جمہوریت اور پارلیمانی نظام کی حفاظت کے لیے تاریخی فیصلہ دیا۔ عمران خان سرکار نے فیصلہ پر عملدرآمد سے فرار کے لیے بھونڈے انداز میں خوفناک ہاتھ پاؤں مارے، لیکن ریاستی اداروں نے کسی ایڈونچر کی بجائے عملدرآمد کا ماحول پیدا کرکے قومی کردار ادا کیا۔ عدمِ اعتماد تحریک کی کامیابی کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے بھی صبر و استقامت اور منظم رہنے کا کردار ادا کیا۔ عمران خان نے آخری بال تک لڑنے کا اعلان پورا کرنے کے لیے اپنوں اور مخالفین کو سولی پر چڑھائے رکھا۔

، لیکن بالآخر آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کے سامنے سرنڈر ہی ہونا پڑا۔

 بہتر ہوتا کہ سابق وزیراعظم سپورٹس مین شپ کا مظاہرہ کرتے ہوئے گریس فل کردار ادا کرتے، لیکن انہوں نے ذاتی انا اور تکبر کو ترجیح دی۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا بھان متی کنبہ اکثریت میں آگیا۔ نئی حکومت کے لیے عمران سرکار کے مہنگائی، بے روزگاری، ہوشربا قرضے، قومی وسائل میں کمی اور بدانتظامی کی انتہا کی وجہ سے قومی سٹرکچر کی تباہی کا تحفہ عذاب بنارہے گا۔ مختلف الخیال جماعتوں کا حکومت پر قبضہ زیادہ دیر نہیں چل پائے گا۔ شفاف اورغیرجانبدارنہ عام انتخابات ہی بحرانوں کا پائیدار حل ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ یہ امر نوشتہ دیوار ہے کہ حکومت چلانا اور حالات کو نبھانا آسان ٹاسک نہیں، کم از کم وقت میں قومی قیادت ڈائیلاگ کا راستہ کھولے۔ قومی ترجیحات، انتخابات اصلاحات، اسلام سے متصادم قوانین کا خاتمہ، امریکہ، بھارت، اسرائیل کی سازشوں، مداخلت اور ریشہ دوانیوں کے مقابلہ کے لیے قومی سلامتی اور خارجہ حکمت عملی پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جائے۔ امریکہ مخالف نعرہ ہی نہیں مضبوط قومی حکمت عملی کا تقاضہ ہے کہ نائن الیون کے بعد سے ''گو امریکہ گو'' تحریک کی قیادت جماعت اسلامی کررہی ہے۔ اب یہ حقیقت سب پر واضح ہورہی ہے، نعرے اور جذباتی ماحول کی بجائے قومی پالیسی پر اتفاق کیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -