امریکی خط کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے: سراج الحق 

امریکی خط کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ جوڈیشل کمیشن تشکیل دے: سراج الحق 

  

لاہور(نمائندہ صوصی)امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ امریکی خط کے مسئلہ پر قوم بری طرح تقسیم، سپریم کورٹ تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے۔ قوم کی امیدوں کا مرکز اعلیٰ عدالت ہی ہے، تقسیم کا شکار عوام بیرونی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ سابقہ حکومت خط کو دھمکی آمیز اور ملک کے اندرونی معاملات میں کھلم کھلا مداخلت جب کہ نئی حکومت اس کے وجود سے ہی انکاری اور اسے پی ٹی آئی کی سازش قرار دے رہی ہے۔ حاضر سروس ججز پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات کیں،تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ریاست میں اخلاقی و جمہوری اقدار کی مسلسل پامالی افسوس ناک ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران آئین و قانون کی بالادستی مذاق بنی رہی، سیاسی جماعتوں نے مفادات کی لڑائی لڑی۔ اسلام آباد میں اقتدار کی جنگ میں سارا نقصان ملک و قوم کا ہی ہوا۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن، لیکن اس قدر پولررائزیشن ملک کے لیے تباہ کن ہے۔ قومی مؤقف کی تشکیل جمہوری قوتوں کا مشترکہ ایجنڈا ہونا چاہیے۔ نوٹوں اور لوٹوں کی بنیاد پر فیصلے ہوتے رہے، تو ملک مزید پیچھے جائے گا۔ آزاد میڈیا نے نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں کو بری طرح ایکسپوز کر دیا۔ 74برسوں سے ملک میں ایک ہی طرح کا سیاسی کلچر رائج ہے۔ وڈیروں اور جاگیرداروں کی پارٹیاں الگ الگ، کلب مشترک ہیں۔ نئی حکومت کو ماضی میں بھی موقع ملا، دیکھتے ہیں اب کیا بہتری آئے گی۔ نئے حکمرانوں کا ایک دفعہ پھر امتحان ہے۔ پی ٹی آئی کو عوام نے موقع دیا، مگر وہ ساڑھے تین برسوں میں ڈلیور نہیں کر سکی۔ جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ امریکا کی پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ہم نے امریکی مداخلت کے خلاف ماضی میں ”گو امریکا گو“ تحریک چلائی اور نیٹو افواج کی افغانستان پر حملہ کی کھل کر مخالفت کی۔ واشنگٹن کی اسلامی ممالک اور خصوصاً پاکستان کے خلاف پالیسیاں عیاں ہیں۔ ملک کی خودمختاری اور وقار کے تحفظ کے لیے عوام کو متحد ہو کر اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کا آغاز کرنا چاہیے۔پاکستان کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، مگر سات دہائیوں میں یہاں ایک دن کے لیے بھی قرآن و سنت کا نظام قائم نہیں ہوا۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ آخر -