میلسی میں وکیل قتل،لاہور ہائیکورٹ کا 19اپریل تک رپورٹ پیش کرنیکا حکم

میلسی میں وکیل قتل،لاہور ہائیکورٹ کا 19اپریل تک رپورٹ پیش کرنیکا حکم

  

  میلسی (نامہ نگار)میلسی بار کے سینیر وکیل مہر عبدالغفورایڈوکیٹ قتل کیس۔لاہورہائی کورٹ ملتان بنچ جسٹس سہیل نا صر نے صفحہ  مثل کا جائزہ لینے کے بعد ایس پی (انوسٹیگیشن)وہاڑی کو تفتیش مکمل کرنے اور 19 اپریل  کو رپورٹ پیش کر نے کا حکم سنایا جس کے(بقیہ نمبر14صفحہ6پر)

 بعد ایس پی (انوسٹی گیشن)وہاڑی ڈاکٹر بشری جمیل میلسی آئیں اور موقع واردات ماڈل ٹان میلسی میں واقع مقتول کے گھر کا معائنہ کیا اور اہل محلہ سے مل کر "پبلک او پینین" معلوم کیا جس میں مبینہ طور پر مقتول وکیل اور ان کے ڈرائیور سلمان شاہ کے جھگڑے بارے اہل محلہ نے شہادتیں قلم بند کرائیں۔ یادرہے کہ سینیر قانون دان مہر عبدالغفور ایڈوکیٹ کی موت کو ملزمان نے خودکشی قرار دیا تھا۔تاہم بعد ازاں مقتول کی  بیوہ شبانہ پروین۔بیٹی شانزہ پروین اور سابق ڈرائیورسلمان شاہ کے خلاف تھانہ سٹی میلسی میں مقدمہ نمبر 638/21زیر دفعات 302/34ت پ درج کیا گیا۔تحفظات ظاہر  کرنے  پر ملزمان کا کیس میلسی کی سیشن کورٹ کی بجائے ہائی کورٹ کے حکم پر کہروڑ پکا سیشن کورٹ منتقل کیا گیا جہاں سے ضمانت خارج ہونے پر ملزمان نے لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے رجوع کیا۔ فاضل عدالت کے حکم پر اب تفتیش مکمل رپورٹ کے لیے  ایس پی وہاڑی  کر رہی ہیں قتل سے جڑے مزید شواہد سامنے آنے کی توقع ہے دریں اثنا موقع واردات پر ایس پی (انوسٹی گیشن) وہاڑ ی ڈاکٹر بشری جمیل  کے ہمراہ ڈی ایس پی میلسی فرخ جاوید ایس ایچ او سٹی میلسی موجود تھے ۔

قتل

مزید :

ملتان صفحہ آخر -