بازاروں،مارکیٹوں میں رش،جوتوں کپڑوں کی خریداری تیز

بازاروں،مارکیٹوں میں رش،جوتوں کپڑوں کی خریداری تیز

  

ملتان (نیوز  ر پو رٹر) رمضان المبارک کے دسویں روزہ تک پہنچنے اور عید الفطر کے قریب آنے پر شہر کے بازاروں اور مارکیٹوں کی رونقیں پھر سے لوٹ آئی ہیں۔مہنگائی کی لہر کے باوجود گارمنٹس،جوتوں،کپڑوں، مصنوعی جیولری، میک اپ کے سامان کی مانگ میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے۔دکانداروں نے عید سیزن کمانے کے لئے ان اشیا کے نرخوں میں خود ساختہ اضافہ بھی کر دیا ہے جس کی وجہ سے خواتین اور شہریوں کو پریشانی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ دن ڈھلتے ہی بازاروں، مارکیٹوں میں خریداروں کی ہر گزرتے دن کے ساتھ تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ بازاروں میں خریداروں کے رش کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں (بقیہ نمبر28صفحہ6پر)

۔دکانداروں کی جانب سے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیئے تشہری مہم بھی جاری ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں کینٹ،حسین آگاہی، کالے منڈی، اندھی کھوئی، اندرون شہر،گلشن مارکیٹ،مین مارکیٹ ممتازآباد، گردیزی مارکیٹ وغیرہ میں عید الفطر کی آمد قریب آنے پر ریڈی میڈ گارمنٹس،جوتوں، کپڑوں، مصنوعی جیولری، میک اپ کے سامان کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔دکانوں پر خواتین سمیت شہریوں کا رش لگا ہے جو کہ شام کے بعد بڑھ جاتا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ یہ رش عید رات تک جاری رہے گا۔ایک سوال کے جواب میں دکانداروں نے بتایا کہ اب زیادہ تر ریڈی میڈ گارمنٹس اور جوتوں کی خریداری کا کام کیا جا رہا ہے۔ ادھر دوسری جانب عید خریداری کے کام میں تیزی آتے ہی دکانداروں نے عید سیزن کمانے کے لئے ان اشیا کے نرخوں میں 25 سے 30 فیصد کاخود ساختہ اضافہ بھی کر دیا ہے جس کی وجہ سے خواتین اور شہریوں کو پریشانی کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔ خواتین کا کہنا ہے کہ جب عید کی تیاریوں میں تیزی اور جو ش وخروش پیدا ہوا ہے تو دکانداروں نے نرخوں میں اضافہ کر دیا ہے جو کہ افسوسناک ہے۔شد ید گر می اور حبس کے باوجودخوا تین کی جانب سے عید خریداری کا سلسلہ جاری ہے اور وہ ریڈی میڈ ملبوسات، مصنوعی جیولری، میک اپ کے سامان کی خریداری میں لگی ہیں۔ اس عید الفطر کیلئے خواتین ریڈی میڈ ملبوسات کو ز یادہ پسند کر رہی ہیں۔جس کی و جہ سے شہر بھر کی بوتیکس پر رش دیکھا جارہا ہے صارفین کا کہنا ہے کہ عید کے موقعہ پر خود ساختہ مہنگائی پیدا کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ سفید پوش طبقہ مہنگائی کے عذاب سے بچ سکے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -