نوجوان کا شتکار قتل، پنکھے سے جھولتی لاش برآمد، شہری کی خودکشی 

نوجوان کا شتکار قتل، پنکھے سے جھولتی لاش برآمد، شہری کی خودکشی 

  

 کوٹ ادو،رحیم یارخان، میلسی (تحصیل رپورٹر،بیورو رپورٹ،نامہ نگار)نامعلوم افراد نے ٹیوب ویل کے احاطے میں تیزدھار آلے کے پے درپے وار کر کے  نوجوان کا شتکار کو قتل کر دیا۔ تھانہ صدر میلسی میں ایف آئی آر نمبر115/22درج کراتے ہوئے مقتول کے بھائی حافظ سلطان ارشاد نے بتایا کہ وہ تھانہ بازار میلسی کا رہائشی طالب علم ہے۔والد نے اسے،قتل ہونے والے سہیل ارشاد اور فیصل ارشاد سمیت تین(بقیہ نمبر59صفحہ6پر)

 بھائیوں کو بستی نوری خمیسی جلہ جیم میں 6 ایکڑ اراضی برابر دی۔جس کے ٹیوب ویل کی جانب وہ رات گئے روانہ ہوئے۔سہیل ارشاد موٹر سائیکل سی ڈی 70 پر سوار تھا جبکہ سلطان ارشادفیصل ارشاد دونوں بھائی ،محمد احمد کے ہمراہ پیدل تھے۔احاطہ ٹیوب ویل پہنچنے اور موٹر سائیکل کھڑی کر نے پر نامعلوم  افراد نے  تیز دھار آلوں سے سہیل ارشاد کے ماتھے، گردن،پیٹ،اور گلے پر کاری ضربیں لگا کر موت کے گھاٹ اتارا  جنہیں باہر کی طرف آتے وقت انہوں نے گیٹ پر موجود بلب کی روشنی میں شناخت کیا-پولیس نے 302/34ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا  قذافی کالونی کے رہائشی 30 سالہ اکبر نے آئے روز کے گھریلو جھگڑوں اور مالی پریشانیوں سے دلبرداشتہ گندم میں رکھنے والی گولیاں کھا لیں حالت غیر ہونے پر ورثا نے طبی امداد کیلئے شیخ زید ہسپتال منتقل کیا جہاں طبی امداد کے باوجود وہ جانبر نہ ہو پایا اور دم توڑ گیا۔ کوٹ دو کے نواحی قصبہ احسان پور میں غلام حسین مشوری کی بیٹی سکینہ بی بی جس کی شادی 8سال قبل ابڑینڈ برادری کے اللہ ڈیوایا کے بیٹے جاوید اقبال سے ہوئی تھی،دونوں میاں بیوی کے درمیان اکثر جھگڑا رہتا تھا،گزشتہ روز سکینہ بی بی کی نعش کمرہ میں لگے پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی جبکہ لڑکی کے والدین میں الزام عائد کیا کہ اس کی بیٹی کو قتل کرکے نعش پنکھے کے ساتھ لٹکائی گئی ہے، پولیس کی جانب سے خاوند کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر لڑکی کہ ورثانے نعش کو مین شاہراہ پر رکھ کر پولیس اور قاتل پارٹی کے خلاف احتجاج کیا جس پر پولیس نے مذاکرات کے بعد سکینہ بی بی کے والد غلام حسین مشوری کی مدعیت میں سکینہ بی بی کے خاوند جاوید اقبال،سسرا للہ ڈیوایا اور ساس سکینہ بی بی کے خلاف قتل کا مقدمہ نمبر 155/22زیر دفعہ302/34درج کر کے مقدمہ کی تفتیش شروع کر دی ہے 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -