وزیراعلی پنجاب کا انتخا ب، دوست مزاری پر یزائیڈنگ افسر مقرر، لاہور ہائیکورٹ ک رجسٹرار کو ڈپٹی سپیکر کا بند آفس کھلوانے، اسمبلی کا معائنہ کرنے کا حکم 

  وزیراعلی پنجاب کا انتخا ب، دوست مزاری پر یزائیڈنگ افسر مقرر، لاہور ...

  

      لاہور(نامہ نگار) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس محمدامیر بھٹی نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مسلم لیگ (ن) کے رہنماحمزہ شہباز شریف کی دائردرخواستوں پروزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کو پریذائیڈنگ افسر مقرر کردیا ہے، دوران سماعت دوست محمد مزاری نے کہا کہ میرا آفس بند ہے،عدالت نے کہا کہ اس کا حکم دیدیا ہے،آپ کو جو حکم دیا آپ اتنا کریں،آپکے اختیارات کے متعلق فیصلہ کل 12 اپریل کوکریں گے،عدالت نے ڈپٹی سپیکر کا آفس کھلوانے کیلئے جاوید قصوری کو عدالتی معاون مقرر کردیا،عدالت نے سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو عدالتی معاون مقرر کیاہے،عدالت نے سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی کو بھی آفس پنجاب اسمبلی کی صورتحال دیکھنے کا حکم دیاہے،درخواستوں پر سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری عدالت میں پیش ہوئے،اسی دوران کامل علی آغا کی جانب سے دائر درخواستوں میں فریق بننے کی استدعا کر دی،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے دیکھنا یہ ہے کہ آیا پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس طرح ملتوی ہو سکتا ہے،مسلم لیگ (ق) کے وکیل نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر پرائزیڈنگ افسر کے عہدے کیلئے مقرر نہیں ہوسکتے، عدالت نے رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ڈپٹی سپیکر کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ ڈپٹی سپیکر کا آفس کھلوانے اور اسمبلی کا معائنہ کریں گے،اسمبلی کے اندر عدالت کوئی کارروائی نہیں کر سکتی۔ن لیگ اور ق لیگ کے وکلاء کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی،سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل نے کہا کہ جب سپیکر موجود ہے تو ڈپٹی اسپیکر پاور کیوں استعمال کرے گا،کامل علی آغا کی جانب سے عامر سعید راں نے کہا کہ ہمیں حمزہ شہباز شریف کی درخواست میں پارٹی بنایا جائے،عدالت نے کہا کہ آپ تو اس درخواست میں پارٹی ہیں،ہم نے صرف اس معاملے کو سننا ہے کہ وزیر اعلی کے انتخاب کو کس طرح کروایا جاتا ہے،عدالت نے سیکرٹری اسمبلی کو روسٹر پر بلا لیااور استفسار کیا کہ بتائیں پراسیس کب شروع ہوا،سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے عدالت کوبتایا کہ یکم اپریل کو استعفیٰ آیا اور دو کو نومینیشن آئی،سیکروٹنی کے بعد کاغذات نامزدگی منطؤر کر لیے گئے،عدالت نے استفسار کیا کہ اسکے بعد کیا ہوا؟سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ 3 اپریل کے لیے ووٹنگ کے لیے بلایا گیا،فاضل جج نے پوچھا کہ کیا ڈپٹی سپیکر کا نوٹیفکیشن ہوا،سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا جی نوٹیفکیشن ہوا،عدالت نے کہا نوٹیفکیشن پیش کریں،سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ 3 تاریخ کو اجلاس کے دوران لڑائی اسکی تمام فوٹیج موجود ہے،لڑائی کے بعد بعد اجلاس 6 اپریل تک ملتوی کردیاگیا،4 اپریل کو میں نے اسمبلی میں ہوئے نقصان کی رپورٹ دی،اسکے بعد 5 اپریل کو اجلاس 16 اپریل تک کے کیے ملتوی کردیا، 5 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر اسمبلی نے اجلاس 16 اپریل کیلئے ملتوی کیا جس کانوٹیفکیشن جاری ہوا،6 اپریل کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ اجلاس 6 کو دوبارہ طلب کیا گیا ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں کہ الیکشن ملتوی ہو سکتا ہے،رولز کے مطابق پڑھ کر بتائیں کیا ملتوی ہو سکتا ہے،رولز کے مطابق جو میں سمجھ سکتا ہوں کے الیکشن کی تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی،سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے مزید کہا کہ 5 بجے سے پہلے ملتوی نہیں ہو سکتا، الیکشن اگر 16 کو شیدؤل ہے تو 15 تاریخ کو 5 بجے سے پہلے پہلے کاغزات جمع کروانے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں اپ اس کو اور آگے لے کر چلیں، سکروٹنی کا پڑھیں، دیکھیں یہاں پر بھی ٹائم کا آگے پیچھے ہو سکتا ہے لیکن دن نہیں،سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی، عدم اعتماد کی تحریک کے بعد اختیارات واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،سیکرٹریٹ نے رولز کے مطابق کاروائی کی،فاضل جج نے کہا کہ میں یہ پوچھ رہا ہوں کے ڈپٹی اسپیکر کی پاورز کی کنسیلیشن کا نوٹیفکیشن جاری کیا؟سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے کہا 6 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آگئی،جب عدم اعتماد آگئی تو ڈپٹی سپیکر بھی اجلاس چیئر نہیں کرسکتا،5 اپریل کو ڈپٹی سپیکر نے 16پریل تک کارروائی ملتوی کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، بعد میں سوشل میڈیا پر اجلاس کا علم ہوا کہ 6 اجلاس بلا لیا گیا، اسمبلی سیکرٹریٹ میں کسی کو بھی اس کا علم نہیں تھا، چیف جسٹس نے کہا کیا 16 اپریل تک اجلاس ملتوی کرنے کی قانونی حیثیت ہے،سرکاری وکیل نے عدالت کوبتایا کہ اسمبلی رولز سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنے کا اختیار دیتے ہیں،فاضل جج نے کہا الیکشن کو 16تک لے جانے کی کیا ضرورت تھی،قانون پابند کرتا ہے کہ مخصوص وقت میں عمل مکمل ہو، آپ نے جانتے ہوئے کہ یہ غیر قانونی ہے کیوں اتنی تاخیر کی گئی،فاضل جج نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل بتائیں کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیا بیان دیا،ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے کہا کہ میں نے وہاں بیان دیا کہ سپیکر آئین کے مطابق عمل کرے گا، فاضل جج نے کہا آپ کب سپریم کورٹ میں پیش ہوئے،ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میں نے الیکشن کے متعلق سپریم کورٹ میں کوئی یقین دہانی نہیں کروائی،کمرہ عدالت میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی امتیازصدیقی اور اعظم نذیر تارڑ میں تلخ کلامی بھی ہوئی، اعظم نذیر تارڑ نے کہا میں اگر غلط بیانی کر رہا ہوں تو آپ کمپلین فائل کر سکتے ہیں،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سینئروکلا ء ہیں،کورٹ کے آفیسرز ہیں، آپ کلائنٹ کی حد تک بات کریں، پرسنل ہونے سے گریز کریں، میں تو حیران ہوں کہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں،کسی کو یاد نہ کروائیں آپ سب محترم ہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آپ بتائیں کیا بات ہوئی،جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ میں نے یہ کہا تھا کہ جو آئین اجازت دیتا ہے اس کے مطابق ڈپٹی سپیکر کام کرے گا۔مسلم لیگ (ق) کے رہنما کامل علی آغا کے وکیل نے کہا کہ 4 تاریخ کو سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کی سماعت کی،ن لیگی وکیل اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس سے متعلق بحث سپریم کورٹ میں ہوئی،ہم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پنجاب اسمبلی میں بھی معاملات خراب ہیں،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ میں نے سیشن سے متعلق بات کی تھی الیکشن کی نہیں،میں نے یہ بیان دیا تھا کہ جو بھی ہوگا رولز کے مطابق ہوگا،حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ڈپٹی سپیکر باغ جناح میں بھی اجلاس کر سکتا ہے، ایڈووکیٹ جنرل احمد اویس نے کہا کہ اپوزیشن نے نجی ہوٹل میں اجلاس بلا کر حمزہ شہباز کو منتخب کر لیا، ڈپٹی سپیکر نے اس اجلاس کو چیئر کیا،حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ وہاں ڈپٹی سپیکر نے اجلاس نہیں کروایا، وہ ایک سیاسی اجتماع تھا، سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے وہاں ایک نائب قاصد تک کو جانے کی اجازت نہیں دی، یہاں حمزہ شہباز عدالت آیا ہے جو امیدوار ہے، حمزہ شہباز کے کاغذات منظور ہوئے تو 6 اپریل کو الیکشن ہونا چاہئے تھے، چیف جسٹس نے کہا کہ رولز کسی وجہ سے ہی بنتے ہیں، یہ تو نہیں ہو سکتا ہے کہ جب چاہا رولز پر عمل کیا جب چاہا نظر انداز کر دیا، آپ کہتے ہیں اجلاس 16کو بلایا ہے،وزیراعلی کا انتخاب کل کیوں نہیں ہو سکتا،توڑ پھوڑ درست ہوتے ہوئے اتنا وقت نہیں لگنا،آپ نے دس دن کیلئے ملتوی کر دیا۔عدالت کو بتایاگیاکہ ایم پی ایز کو ہوٹل میں بند کر کے رکھا گیا ہے،ان کو باہر آنے کی اجازت دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ان کی بات کر رہے جو ازخود حبس بے جا میں رہ ہے ہیں،بتائیں کہ اب کیا مسئلہ ہے کہ سولہ سے پہلے الیکشن نہیں ہو سکتے، سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل نے کہا کہ لا اینڈ آرڈر کی وجہ سے ایسا کیا گیا، سی ڈی موجود ہے کہ اس دن اسمبلی میں کیا ہوا، اسمبلی کے اندر حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے، اس وقت سپیکر اور ڈپٹی سپیکر موجود نہیں الیکشن جلد نہیں ہو سکتے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سب مل کر مسئلے کا حل نکال لیں، میں دو بجے تک سماعت ملتوی کرتا ہوں پھر اس کے بعد دیکھتے ہیں، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، حمزہ شہبازکے وکیل اور ایڈووکیٹ جنرل مل کر معاملہ حل کریں، آپ سب مل کر حالات بہتر کریں، ہمیں دنیا کو تماشا نہیں دکھانا، ہم سب اس دھرتی کے رہنے والے ہیں، مجھے جو کچھ ہو رہا ہے اس پر دکھ ہے، سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل نے کہا کہ جس دن الیکشن تھا اس دن پنجاب اسمبلی میں بلوا ہو گیا،ہمارے پاس تمام ویڈیوز موجود ہیں،آرٹیکل 69 کے تحت اسمبلی کی کاروائی کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا،چیف جسٹس نے کہا آپ دو چار دن میں الیکشن کروا لیں، 10 دن ہو گئے ہیں الیکشن نہیں ہوئے، ہمیں ایک اچھے شہری کی حیثیت سے بیٹھ کر خود فیصلہ کریں،آپ بیٹھ جائیں مجھے 2 بجے تک بتا دیں،اگر آپ 2 بجے تک نہیں کر سکتے تو کل بھی نہیں ہوگا، حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ یہ معاملہ سپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور امیدوار کا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے آفس میں بیٹھ کرکر طے ہو،گھر کا معاملہ ہے گھر میں ہی بیٹھ کر خوش اسلوبی سے حل ہوجائے گا،چیف جسٹس نے کہا کہ اب تو چائے کی ضرورت نہیں ہو گی، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کے آفس بیٹھ جائیں،سماعت دوبارہ شروع ہوئی تواعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے کہا کہ ہم آپ کے شکر گزار ہیں آپ نے موقع دیا،قانون کی منشا ہے کہ اس معاملے کو نہیں رہنا چاہیے،کل یا پرسوں انتخاب کروا دیا جائے،سپیکر کے وکیل نے کہا کہ سولہ اپریل کو بارہ بجے کے قریب انتخاب ہو جائیں گے،عدالت نے کہا آپ کو اس لیے بھجوایا تھا کہ کچھ آگے پیچھے ہو کر معاملے کو سلجھائیں،اعظم نذیرتارڑ نے کہا میں نے بتایا کل نہیں تو پرسوں افطار کے بعد انتخاب کا وقت رکھ لیں،عدالت نے کہا یہ کوئی سوال نہیں کہ ممبران وہاں بیٹھ نہیں سکتے،آپ نہیں کروانا چاہتے تو اور بات ہے۔پرویزالٰہی کے وکیل نے کہا کہ سولہ اپریل کو انتخاب کروانے کیلئے وقت دیا ہے،سولہ کو انتخابی عمل مکمل ہو جائے گا،عدالت نے کہا آپ دونوں پارلیمنٹرینز ہیں،آپ کو اس کا حل نکالنا چاہیے۔پرویزالٰہی کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر مشاورت کر لیتا ہوں،عدالت نے کہا ہم چاہتے ہیں اسمبلی کے معاملات وہاں ہی رہیں،تمام معاملات آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے،ن لیگ کے وکیل اعظم نذیرتارڑ نے کہا ہمیں پتہ ہو کہ الیکشن کب ہوں گے،اور کون کروائے گا،عدالت نے کہا ڈپٹی سپیکر ہی انتخاب کروائیں گئے،ہم چاہتے ہیں کہ بدھ کے روز درخواست رکھ لی جائے، چیف جسٹس نے کہا بھیجا تو آپ کو اس لئے تھا کہ آپ بہتر مشاورت کریں، جتنے دوست گئے تو وہ تو آپکی معاونت کیلئے ساتھ گئے تھے، آپ تو پھر وہی کے وہی کھڑے ہیں،یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نئی بلڈنگ میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، یہ تو بہانہ بنا رہے ہیں،عدالت نے سیکرٹری پنجاب اسمبلی سے استفسار کرتے ہوئے اظہار برہمی کیا،سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل نے کہا کہ ہم سولہ کو الیکشن لازمی کرانا چاہتے ہیں،عدالت نے کہا کہ آپ پارلیمنٹرینز ہیں لیکن آپ کچھ صحیح کرنا ہی نہیں چاہتے، عدالت نے اعظم نذیرتارڑ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا آپ کورٹ کی اندر کی باتیں نہ کریں،اعظم نذیر تارڑ نے کہا میری تو چھوٹی سے استدعا ہے کہ کیا ایک کنیڈیٹ یہ کہے گا کہ کب کیا ہو گا،سپیکرکے وکیل نے کہا مجھے کل تک کا وقت دیا جائے،میں مشاورت کر لیتا ہوں،عدالت نے کہا نہیں آج ہی کوئی فیصلہ کرنا ہے،اعظم نذیرتارڑ نے کہا 28 مارچ کو عثمان بزدار نے استعفیٰ دیا،یکم اپریل کو گورنر نے استعفیٰ کو منظور کیا،پنجاب اس وقت بغیر حکومت کے چل رہا ہے،ڈپٹی سپیکر نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے کہ انہیں آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کرنی دی گئیں،سپیکر پنجاب میں وزیراعلی کے امیدوار ہیں،قانون کے مطابق ڈپٹی سپیکر اسمبلی کے معاملات کو دیکھے گا،سپیکر نے غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کے اختیارات کالعدم قرار دے دئیے،سپیکر نے اسمبلی اجلاس سولہ اپریل تک ملتوی کر دیا،عدالت نے مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ مزید سماعت آج 12اپریل تک ملتوی کردی۔

لاہورہائیکورٹ 

مزید :

صفحہ اول -