تحریک انصاف اور اپوزیشن کا کردار

  تحریک انصاف اور اپوزیشن کا کردار

  

سابق حکمران جماعت تحریک انصاف کی طرف سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ وہ قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفے دینا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے یہ خبریں بھی موجود ہیں کہ تحریک انصاف میں اس معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں اور بہت سے ارکان اسمبلی اور رہنماؤں کا خیال ہے کہ استعفے دے کر اپوزیشن اتحاد کی حکومت کے لئے میدان کھلا چھوڑنے کی بجائے ہمیں اسمبلی میں رہ کر اس کا مقابلہ کرنا جاہیے۔ اس بارے میں حتمی فیصلہ پارٹی کی کور کمیٹی کرے گی۔ اس وقت قومی اسمبلی کی صورتِ حال یہ ہے کہ تحریک انصاف 140ارکان کے ساتھ ایوان کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ باقی جماعتیں اس سے کم نشستیں رکھتی ہیں اور موجودہ تشکیل پانے والی اتحادی حکومت کے پاس بھی ایوان میں صرف سادہ اکثریت ہے۔ تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کا خیال ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جب ارکان مستعفی ہوں گے تو ایک بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے لئے ضمنی انتخاب کرانا ممکن نہیں رہے گا اور بالآخر نئے انتخابات کا اعلان ہو جائے گا۔ ایک حکمتِ عملی تو ہو سکتی ہے، تاہم ضروری نہیں کہ حالات ویسے ہی رونما ہوں، جیسے استعفے دینے کے بعد توقع کی جا رہی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا فوری انتخابات کے لئے اجتماعی استعفے دینے کی تجویز پارٹی کو ملک کے سب سے بڑے ایوان میں نمائندگی سے محروم کر سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس فیصلے کے بعد ملک میں لازمی طور پر عام انتخابات ہو جائیں۔ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں کہہ چکا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے سات ماہ بعد ہی انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے گا۔ گویا سات ماہ سے پہلے تو انتخابات کا انعقادہ ویسے بھی ممکن نہیں چاہے تحریک انصاف اسمبلی سے مستعفی ہی ہو جائے۔ یہ بات بھی کچھ زیادہ مناسب نہیں لگتی کہ تحریک انصاف میاں محمد شہباز شریف کے وزیراعظم بننے پر استعفے دینا چاہتی ہے۔ اسمبلی میں جس کی اکثریت ہے وہ جسے چاہے وزیراعظم بنائے، اُسے ڈکٹیٹ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ بہتر تو یہی ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے تحریک انصاف جو آج کی بڑی اپوزیشن ہے، سو بار سوچ لے۔ تیرکمان سے نکل جائے تو واپس نہیں آتا۔ موجودہ اسمبلی اگر اپنی مدت پوری بھی کرے تو صرف ایک سال 4ماہ ہی برقرار رہ سکتی ہے۔ ظاہر ہے یہ سال انتخابات کا ہے، خود کل کی متحدہ اپوزیشن اور آج کی حزب اقتدار بار بار یہ کہہ چکی ہے کہ اصلاحات کے بعد وہ انتخابات کرانا چاہتی ہے۔ اس لئے مناسب تو یہی ہے کہ تحریک انصاف اسمبلی سے مستعفی ہونے کی بجائے ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرے۔ میدان کو خالی نہ چھوڑے اور قانون سازی کے وقت اپنا کردار اس طرح ادا کرے کہ ملک و قوم کو اس کا فائدہ ہو۔ تحریک انصاف جب اقتدار میں تھی تو اس نے اپوزیشن سے ورکنگ ریلیشن شپ قائم نہیں کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے قانون سازی کے لئے آرڈیننسوں کا سہارا لینا پڑا۔ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے دوٹوک اعلان کر رکھا تھا کہ وہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے نہیں ملیں گے۔ حکمران جماعت کو اس کا نقصان یہ ہوا کہ قومی اسمبلی میں اس کی کارکردگی مثالی نہیں رہی۔ اب اگر اپوزیشن میں آکر تحریک انصاف یہی رویہ رکھتی ہے اور بطور اپوزیشن قومی اسمبلی میں اپنا کردار ادا نہیں کرتی تو اس کا اسے فائدہ نہیں نقصان ہی ہوگا۔ ایک اچھی اور مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرکے تحریک انصاف حکومت سے عوام کے لئے بہت سا ریلیف حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے اس کردار کی وجہ سے آنے والے انتخابات میں عوام کی طرف سے اسے بھرپور پذیرائی بھی مل سکتی ہے۔ پھر یہ بات بھی تحریک انصاف کے ذمہ داروں کو ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے حکومت جو قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تحریک انصاف اسمبلی میں موجود نہ ہوئی تو اپنی کوئی بات شامل نہیں کروا سکے گی۔ 

عمران خان کو اب اسمبلی کے اندر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ وہ بڑے بڑے جلسے کرنے کی اپنی روایت سے نکلیں ایک مقبول و دبنگ اپوزیشن لیڈر کے طور پر قومی اسمبلی کے اندر اپنا کردار ادا کرکے وہ حکومت کو مشکلات سے دوچار کر سکتے ہیں، ویسے بھی جمہوریت میں اپوزیشن کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ عوام کی ایوان کے اندر حقیقی نمائندگی کا فریضہ اپوزیشن ادا کرتی ہے۔ اس بار تو تحریک انصاف کے پاس ایوان میں بھرپور نمائندگی موجود ہے۔ بجائے اس نمائندگی کو ختم کرکے سڑکوں کی سیاست کرنے کے کہیں بہتر ہوگا کہ اسمبلی میں رہ کر حزبِ اختلاف کا فریضہ ادا کیا جائے۔ اگر تحریک انصاف جلد انتخابات چاہتی ہے تو اس کا بھی بہتر راستہ یہی ہے کہ اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومت پر دباؤ ڈالا جائے۔ تحریک انصاف نے اپنے دورِ حکومت میں ووٹنگ کے لئے انتخابی مشینوں کے استعمال، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور شفاف انتخابات کے لئے بہت سے منصوبے بنائے تھے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اسمبلی میں رہ کر ان کا دفاع کرے۔ استعفوں کے حامی تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ اگر خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں اور ان میں تحریک انصاف کے امیدوار حصہ نہیں لیتے تو میدان مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے خالی رہ جائے گا۔بہتر تو یہی ہے موجودہ اسمبلیوں کو چلنے دیا جائے اور باقی ماندہ آئینی مدت کو پورا کیا جائے، اگر اس سے پہلے حکومت اور اپوزیشن میں نئے انتخابات پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اسمبلیاں وقت سے پہلے بھی ختم کی جا سکتی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی اس وقت بنیادی ذمہ داری ہے کہ ملک کو بحران اور عدم استحکام سے نکالیں اور مل بیٹھ کر مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل طے کریں۔

مزید :

رائے -اداریہ -