تبدیلی کے بعد تبدیلیاں!

تبدیلی کے بعد تبدیلیاں!

  

وفاق میں تبدیلی اقتدار کے ساتھ اور بھی حالات بدلنے کے امکانات ہیں۔ اکثر اعلان بھی سامنے آ چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا  کے گورنر فرمان شاہ، سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور گلگت بلتستان کے گورنر نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب میں گزشتہ دنوں تعینات ہونے والے گورنر نے ابھی کسی فیصلے کا اعلان نہیں کیا، وہ اغلباً وزیراعلیٰ کے انتخابات کا انتظار کریں گے۔ بلوچستان کی طرف سے بھی خاموشی ہے، جبکہ پی سی بی سے لے کر مختلف محکموں کے سربراہوں تک لوگ تبدیلی ہی کا خیال کر رہے ہیں، میاں محمد شہبازشریف کے وزیراعظم بننے اور پنجاب کا حتمی فیصلہ ہو جانے کے بعد ہی فضا صاف ہونا شروع ہو گی۔ تاحال گومگو کی کیفیت ہے، یہ درست کہ جو بھی برسراقتدار آئے اسے حکومت چلانے اور انتظامی امور کے لئے اپنی پسند کا اختیار ہوتا ہے، تاہم بہتر عمل یہ ہے کہ تمام شعبوں میں بہتری کے لئے پسند نا پسند کی بجائے اہلیت اور اصابت کو معیار بنایا جائے اور ایسے حضرات سے بھی چوکنا رہا جائے جو موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں، جن حضرات نے اب تک مستعفی ہونے کا اعلان کیا ان کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر تھی، یہ حضرات تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں اور کارکن کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ توقع ہے کہ نئی متحدہ حکومت اپنے سابقہ تجربے کی روشنی میں ایسے حضرات کو تعینات کرے گی جو ملکی مفاد اور آئین کا احترام پیش نظر رکھتے ہوئے دیانت داری سے فرائض انجام دیں، یوں نئی حکومت اس امتحان میں سرخرو ہو۔

مزید :

رائے -اداریہ -