کاروباری کلچر

  کاروباری کلچر
  کاروباری کلچر

  

 خبر ہے کہ یورپ، آسٹریلیا، کینیڈا اور بہت سے غیر مسلم ملکوں میں رمضان کی آمد پر د کانداروں نے مسلمانوں کو اشیا کی قیمتوں میں خصوصی رعائیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاکہ مسلمان اس مہینے کی رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹتے ہوئے مالی طور پر بوجھ محسوس نہ کریں۔ یہ ان ملکوں کا وتیرہ ہے کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو ان کے خصوصی دنوں میں مالی آسودگی سے ہم کنار کریں تاکہ اس دن کو منانے والے اپنی خوشیوں سے بھر پور استفادہ کریں۔مسلمان ملکوں کی،مگر اپنی ہی روایتیں ہیں۔یہاں دکاندار چونکہ خود مسلمان ہوتا ہے اس لئے وہ ناجائز منافع بھی رحمتوں اور برکتوں کا حصہ ہی شمار کرتا اور لوٹ مار کرتا ہے۔وہ خلق خدا کو خراب کر کے بہت خوش ہوتا ہے۔ اس رمضان سے دو دن پہلے یکایک ہر چیز کا ریٹ دگنا کر دیا جاتا ہے۔ پھل، سبزی، گوشت اور دوسری ساری اشیا کی قیمتیں دوگنا ہو جاتی ہیں۔ ہم لوگوں سے آسودگی چھین لیتے ہیں۔ ہم دوسروں کو خوش نہیں دیکھ سکتے۔ قوم بھی اس ذلت کی اس قدر عادی ہو چکی ہے کہ لوگ چپ چاپ یہ برداشت کرتے اور کوئی احتجاج نہیں کرتے۔ میں  حیران ہوں کہ پورے ملک سے صرف ایک خبر آئی ہے کہ کسی تاجر نے رمضان میں لوگوں کے لئے اشیا بہت رعایت پر دینی شروع کر دی ہیں  اور وہ پشاور کا کوئی غیر مسلم تاجر ہے۔ بڑی اچھی بات ہے، مگر مسلمانوں پر اللہ کا خاص کرم ہے کہ وہ ایسی نیکی جیسی کوئی حرکت بالکل نہیں کرتے۔ مجھے ڈر ہے کہ کسی دن مسلمانوں کا جذبہ ایمانی جوش میں آ گیا تو اس غیر مسلم تاجر کو رمضان کی برکتیں نہ سمیٹنے پر توہین مذہب کے الزام میں سر بازار سنگ سار نہ کر دیا جائے۔

 رمضان کا ذکر تو اپنی جگہ،بد دیانتی، بے ایمانی، جھوٹ اور فریب ہماری کاروباری قدروں کا ایک حصہ بن چکا ہے اور ہم نفع کے لالچ میں ہر غلط کام کرتے اور اسے کاروباری ذہانت قرار دیتے ہیں۔دو سال پہلے میں نے گھر میں دو کمرے بنوائے۔آخر میں پینٹ کا مرحلہ آیا۔ ایک صاحب جو گھروں میں رنگ روغن کے ماہر تھے، تشریف لائے۔ کمروں کے ایک ایک کونے کو دیکھا ہی نہیں پوری طرح سونگھا اورمسکراتے ہوئے بولے، ماشا اللہ، بڑے اچھے کمرے بنائے ہیں۔ لاکھوں خرچ کر دئیے ہیں آپ نے۔شاید مجھے لاکھوں کی جھلک دکھا کر خوش کرنا چاہتے تھے۔ اس مہنگائی کے دور میں ایک کمرے کی لاگت بھی کئی لاکھ ہوتی ہے، دو کمرے یقیناکئی لاکھ کی لاگت سے تیار ہوئے تھے اس لئے حیرت کی کوئی بات نہ تھی۔ تھوڑا سوچ کر کہنے لگے، بنتا تو زیادہ ہے، مگر آپ شریف آدمی نظر آتے ہیں، چلیں آپ صرف ایک لاکھ دے دیں۔ ایک لاکھ روپیہ میں نے حیرت سے پوچھا، بھائی یہ صرف مزدوری کے ہیں۔ کہنے لگے پینٹ کون سا مہنگا ہے دس بارہ ہزار میں آ جائے گا آپ کہیں گے تو اس کا انتظام بھی ہم کر لیں گے، آپ کی خوشی ہمارا پہلا مقصد ہے۔ 

میں ہنس دیا کہ اس قدر دکھ دینے والی بات اور اسے خوشی کے لیبل میں وہ بڑی صفائی سے ڈھال رہا تھا۔میں نے کہا کہ تمہاری مزدوری ہزار یا بارہ سو روپے ہو گی۔ چار یا پانچ دن کا کام ہے۔ تم دس دن کا بھی لگا لو،دس یا زیادہ سے زیادہ بارہ ہزار روپے بن جائیں گے۔ تم لاکھ روپے مزدوری کس چیز کی مانگ رہے ہو۔وہ ناراض ہو گیا اور کہنے لگا۔ آپ لوگ کمرہ بنانے پر لاکھوں خرچ کر دیتے ہو، مگر ہم غریبوں کو صرف ایک لاکھ دینا  آپ کو مشکل دکھائی دیتا ہے۔ ہمارا حق تو نہ چھینیں۔میں نے اس سے معذرت کی کہ میں اس کی حق تلفی کا مرتکب ہوا اور اسے یقین دلایا کہ اگر مجھے اس کی غریبی کا حق سمجھ آ گیا تو کوشش کروں گا کہ ایک پورا کمرہ ہی اسے تحفے کے طور پر دے دوں۔ لاکھ روپے مزدوری دینے سے یہ فیصلہ بہت بہتر ہو گا۔ 

کوشش کے بعد ایک دوست نے دو آدمی بھجوائے، استاد اور شاگرد تھے۔ استاد کی مزدوری بارہ سو اور شاگرد کی ایک ہزار۔آتے ہی انہوں نے پانچ درجن ریگمار لانے کا حکم دیا جوانہیں مہیا کر دئیے گئے۔ چار دن وہ ریگمار سے کھیلتے رہے۔ جب بھی جاؤ وہ آرام سے بیٹھے ہوتے اور مجھے دیکھتے ہی کہتے کہ جناب بڑا مشکل کام ہے اصل میں کورا ہے بہت صفائی مانگتا ہے، ہماری انگلیوں کا دیکھیں، کیا حال ہے۔یہ کہتے وہ ہاتھ گھما دیتے، مگر انگلیاں کبھی نہ دکھاتے۔چوتھے دن حکم ہوا کہ صبح پینٹ درکار ہے، مگر کوالٹی کے لئے آپ کو فقط فلاں پینٹ ہی لانا ہے۔ آپ کی دیواروں پر رونق آ جائے گی۔مجھے بار بار وہی پینٹ لانے کے لئے وہ بضد تھے۔ میں ایک واقف دکاندار کے پاس پینٹ لینے گیا اور اسے کسی اچھے پینٹ کا پوچھا۔اس نے دو تین اچھے پینٹس کے بارے بتایا۔ میں نے بتایا کہ میرا کاریگر فلاں پینٹ لانے پر بضد تھا تو ہنسنے لگا۔پتہ چلا کہ ایک آدھ کے سوا تمام پینٹ کمپنیاں اپنا پینٹ بیچنے کے لئے ہر ڈبے میں ایک مخصوص رقم رکھتی ہیں، جو کاریگر ڈبہ کھولتے وقت اپنی جیب میں ڈالتا ہے۔یہ اس کاریگرکی مفت میں آمدن ہے۔اب یہ ایک ریس کی شکل اختیار کر گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقم کا لالچ دے کر گھٹیا سے گھٹیا پینٹ آسانی سے بیچ لو۔ حکومتی سطح پر اس کے سدباب کی کوئی صورت نہیں۔ اس لئے یہ کام فیکٹریوں والے بڑی دلیری سے کرتے ہیں۔میں اپنی مرضی کا پینٹ لے آیا۔ کاریگر مجھ سے ناراض ہو گیا کہ یہ پینٹ تو کرنا میرے بس میں نہیں۔ اسے کرنے کے لئے آپ کو مجھے ڈبل مزدوری دینی ہو گی،مگر کیوں، اس لئے کہ تمہاری پسند کی پینٹ کی ہر بالٹی میں تقریباً پانچ سے چھ سو روپے ہوتے ہیں، تمہیں اس رقم کا افسوس ہے۔اس نے بڑی ڈھٹائی سے کہا کہ ضرور ہے۔ وہ مجھ غریب کا جائز حق تھا۔آپ نے وہ روکا ہے تو وہ نقصان آپ ہی کو پورا کرنا ہے۔ بہرحال میں نے وہ کام کس طرح مکمل کروایا ایک لمبی داستان ہے۔ ہم نے من حیث القوم فیصلہ کیا ہے کہ ہر شعبے اور ہر جگہ کرپشن کرنا ہے، ہمارے نزدیک کرپشن مہنگائی کا توڑ ہے  اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کرتی ہے۔ وہ شخص جو رب کی ذات پر یقین کامل رکھے اور کرپشن کو برا سمجھے اسے پاگل اور احمق قرار دے کر ہر چیز سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -