کپتان کا نیا سفر 

 کپتان کا نیا سفر 
 کپتان کا نیا سفر 

  

 اتوار کی شام پورے ملک میں تحریک انصاف کے حامیوں نے جو مظاہرے کئے، اس سے ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ عمران خان پوری طرح پاکستانی سیاست میں موجود ہیں۔ اسی وقت دنیا کے مختلف شہروں میں بھی عمران خان کی حکومت ختم کرنے کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ عمران خان نے جاتے جاتے نئی حکومت کے لئے امپورٹیڈ گورنمنٹ کا جو نعرہ دیا تھا وہ خاصا مقبول ہو گیا ہے۔ بعض لوگ ان مناظر کو دیکھ کر اس لئے حیران تھے کہ جانے والے حکمران کے ساتھ لوگ نہیں رہتے، یہاں تو عمران خان کسی جگہ جلسے میں موجود بھی نہیں تھے اور گھر بیٹھ کر سارے منظر کو دیکھ رہے تھے۔ نوازشریف کو جب نا اہل کیا گیا تو وہ خود اسلام آباد سے مجھے کیوں نکالا؟ کا سوال کرتے ہوئے لاہور کی طرف بذریعہ جی ٹی روڈ آئے تھے۔ عمران خان کے لئے عوام از خود باہر نکلے ہیں اور یہ ہماری سیاست کا نیا ٹرینڈ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن نے عمران خان کو وقت سے پہلے گھر بھیج کر غلطی کی ہے، اس عمل سے عمران خان کی 3 سال آٹھ ماہ کی بری کارکردگی کہیں دب کر رہ گئی ہے اور غیر ملکی مداخلت کے حوالے سے ان کا بیانیہ سارے منظر نامے پر چھا گیا ہے۔ مدت پوری کر کے رخصت ہوتے تو عمران خان کے پاس سوائے معذرت خواہانہ رویئے کے اور کچھ نہ ہوتا۔ اپوزیشن کی کوششوں سے ایک سال چار ماہ پہلے گئے ہیں تو ان کے پاس ایک جارحانہ بیانیہ ہے ایسا بیانیہ جو عوام میں کلک کر گیا ہے اور جس کا توڑ آسانی سے نہیں ہو سکے گا۔

عمران خان اگرچہ ایک ہیرو کی طرح اپنے فیصلے کے ساتھ ایوان اقتدار سے رخصت نہیں ہوئے۔ وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم بن گئے جنہیں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں برخواست کیا گیا۔ اقتدار چھوڑنا ایک مشکل کام ہوتا ہے۔ تاہم اقتدار کو ٹھوکر مارنے والوں کی تاریخ میں اپنی عزت ہوتی ہے۔ 27 مارچ وہ دن تھا جب اسلام آباد میں تحریک انصاف کا بہت بڑا جلسہ ہوا اس دن اگر عمران خان مستعفی ہونے کا اعلان کر دیتے تو شاید ان کی مقبولیت آج سے بھی زیادہ ہوتی تاہم ان کے حامیوں کا کہنا یہ ہے کہ 23 مارچ سے 9 اپریل تک جو حالات و واقعات پیش آئے، ان کی وجہ سے عمران خان کا وہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ انہیں امریکی خواہش پر یہاں کے امریکی ایجنٹوں کے ذریعے نکالا جا رہا ہے۔ پاکستان میں وزرائے اعظم وقت سے پہلے اقتدار سے نکالے جاتے رہے ہیں، یہ تو ہماری تاریخ ہے۔ تاہم اس بار جو حالات ہوئے وہ پہلے کبھی پیش نہیں آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کسی وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب بھی نہیں ہوئی۔ عمران خان نے اگرچہ اپنے خلاف غیر ملکی سازش کا بیانیہ تو بڑی مہارت سے ترتیب دیا ہے۔ تاہم تحریک عدم اعتماد کے ضمن میں ان کی طرف سے جو تاخیری حربے اختیار کئے گئے وہ غیر آئینی بھی تھے اور جمہوری روایات کے خلاف بھی، ان کی وجہ سے ان کے بارے میں یہ تاثر ابھرا کہ وہ اقتدار کے بغیر رہ نہیں سکتے۔ شہید بے نظیر بھٹو کو اس لئے آج بھی یاد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کا سامنا بڑے حوصلے، بردباری اور وقار کے ساتھ کیا تحریک کی ناکامی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے جو خطاب کیا تھا، وہ بھی لوگوں کو یاد ہے۔ اس کے ہر لفظ سے جمہوریت اور اعلیٰ روایات جھلک رہی تھیں حالانکہ ایسے موقع پر انسان فتح کے نشے میں آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔

بہر حال جو بھی ہوا وہ اب تاریخ کا حصہ ہے اس وقت سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ کپتان اقتدار کی چکا چوند سے نکل کر پھر اسی سنگلاخ دنیا میں آ گئے ہیں جو جدوجہد سے عبارت سمجھی جاتی ہے۔ انہیں اب جائزہ لینا ہے کہ وہ اقتدار میں رہ کر اپنے دعوے پورے کیوں نہیں کر سکے۔ اپنے نئے پاکستان کو تعمیر کرنے میں انہیں ناکامی کیوں ہوئی؟ کیا وجوہات تھیں جو ان کے پاؤں کی زنجیر بن گئیں اور وہ کسی شعبے میں بھی عوام کو ریلیف نہیں دے سکے۔ یہ غیر ملکی سازش کا بیانیہ تو آج کی بات ہے، اس سے پہلے تو ان کے پاس سوائے اپنے مخالفین کو چور، ڈاکو، لٹیرے کہنے اور انہیں این آر او دینے کے کچھ بھی نہیں تھا۔ انہوں نے چن چن کر ایسے لوگ اپنے اردگرد رکھے جو منہ پھٹ تھے جنہوں نے ایک ایسے کلچر کو متعارف کرایا جو ہماری سیاست میں پہلے موجود نہیں تھا۔ نجانے انہیں کس نے یہ مشورہ یا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے مخالفین کی کردار کشی کا سامان پیدا کریں، اس کیلئے باقاعدہ ایک سیل بنائیں جو جھوٹ سچ کی بنیاد پر سیاسی مخالفین کی کردار کشی کرتا رہے اقتدار میں رہ کر انسان کو بہت کچھ یاد نہیں رہتا، خوشامدیوں میں گھر کے ویسے بھی حاکمِ وقت کو کچھ ہوش نہیں ہوتا کہ دن کیسے گزر رہے ہیں، ہر طرف ہر ا ہی ہرا نظر آتا ہے۔ غیر منتخب افراد کو عہدے دے کر نظام چلانے کی قیمت انہیں اس طرح چکانی پڑی کہ پارٹی کے اندر گروپ بن گئے۔ اصل طاقت منتخب افراد ہوتے ہیں، غیر منتخب لوگوں کی تو کوئی ایسی اساس نہیں ہوتی، جو مشکل وقت میں فائدہ دے سکے۔ ویسے بھی ایک اتحادی حکومت میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ یہاں تو نیچے سے قالین کھسکتا رہا اور کپتان کو خبر تک نہ ہوئی۔ پتہ اس وقت چلا جب پارٹی کے اندر گروپ بن گئے منحرفین پیدا ہو گئے اور اتحادیوں نے رخ بدلنا شروع کر دیئے۔

کپتان کا نیا سفر شروع ہو چکا ہے، مگر بظاہر آسان نظر آنے والا یہ سفر بہت کٹھن ہے وہ سب سے مخالفت مول لے کر ایک بار پھر اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ان کے نزدیک صرف عوام کی محبت ہی انہیں کافی ہے، ان کے اردگرد جو لوگ موجود ہیں وہ انہیں پاکستان کا مقبول ترین لیڈر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ مقبولیت اپنی جگہ لیکن سیاست ایک دوسری چیز ہے۔ اس میں صرف مقبولیت ہی کام نہیں آتی، اور بھی بہت سے عناصر اہمیت رکھتے ہیں سب سے پہلے تو کپتان کو یہ بات سمجھنی ہو گی کہ سیاست کرکٹ کا کھیل نہیں ہے۔ اس میں آخری بال تک انتظار نہیں کرتے بلکہ آخری بال سے بچتے ہیں۔ کرکٹ میں ایک ٹیم سامنے ہوتی ہے، سیاست میں ٹیم سامنے نہیں ہوتی بلکہ چھپ کر وار بھی کرتی ہے، جس کا انہیں حالیہ دنوں میں اندازہ ہو گیا ہوگا، یہاں ہر قدم سنبھل سنبھل کر اٹھانا پڑتا ہے۔ مخالف کو کمزور سمجھنے کی غلطی برے دن دکھا سکتی ہے۔ کپتان کو بظاہر شکست ہوئی ہے مگر مقبولیت کم نہیں ہوئی، انہوں نے نئے سفر میں پرانی غلطیاں نہ دہرائیں تو باوقارت انداز میں واپسی بعید از قیاس نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -