سلیکٹڈ وزیراعظم سے امپورٹڈ حکومت تک  

 سلیکٹڈ وزیراعظم سے امپورٹڈ حکومت تک  
 سلیکٹڈ وزیراعظم سے امپورٹڈ حکومت تک  

  

 یادش بخیر جب اگست 2018ء میں عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا تو یہ ایک ناقابلِ یقین واقعہ تھا جو پاکستان کے روائتی وزرائے اعظم کے لئے ایک حادثہ تھا۔ اگرچہ یہ حادثہ رونما ہو چکا تھا لیکن پھر بھی پاکستانی اپوزیشن لیڈروں کو بالخصوص اور دنیا بھر کی سیاسی برادری کو بالعموم اس کا یقین نہ ہوا تھا۔ وہ عمران خان کو تادیر پاکستان کا ایک حادثاتی وزیراعظم ہی سمجھتی اور لکھتی رہی۔ آپ کو یاد ہوگا ایک طویل عرصہ تک عمران خان کے آگے وزیراعظم لکھنے سے پہلے ”کرکٹر ٹرنڈ پالٹیشن“ (ایسا کرکٹر جو ”ازراہِ اتفاق“ سیاستدان بن گیا ہو) لکھا جاتا رہا۔ یہ تو جب بعد میں وزیراعظم نے بین الاقوامی معاملات کی تفہیم پر بات چیت شروع کی اور غیر ملکی جغادری صحافیوں کو انٹرویو دیئے تو ان کو معلوم ہوا کہ یہ شخص ’کرکٹر‘ سے اوپر اٹھ کر واقعی سیاستدان بن چکا ہے۔ ایک آدھ میگزین نے تو انہیں سیاستدان (Politicion) کی بجائے سیاسی مدبر (Statesman) بھی لکھنا اور کہنا شروع کیا۔ لیکن جہاں تک پاکستان کی سیاسی اپوزیشن کا تعلق تھا تو وہ ان کو اول روز سے الیکٹڈ کی بجائے سلیکٹڈ وزیراعظم کہتی رہی۔

قومی اسمبلی کے فلور پر بھی ان کو بارہا اس لقب (یا خطاب) سے یاد کیا جاتا رہا۔ اور یہ لقب اُن کے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں ان کے ساتھ چپکا رہا۔ ان کے بارے میں کہا گیا کہ ان کو فوج لے کر آئی ہے، وہ فوج کے منتخب کردہ اور چہیتے ہیں اور پاکستان کے عوام نے ان کو منتخب نہیں کیا۔دوسرے معنوں میں آج تک جتنے بھی سویلین وزیراعظم اس عہدے پر سرفراز ہوئے، وہ سب کے سب گویا فوج کے منتخب کردہ (Selected) تھے۔ اس لقب نے خان صاحب کو نہ صرف چیں بہ جبیں کئے رکھا بلکہ بعض اوقات وہ سیخ پا بھی ہوئے لیکن کبھی آپے سے باہر نہ ہوئے…… میں سمجھتا ہون، یہ ان کا بڑا پن تھا!

پاکستان ایک جوہری اور میزائلی قوت ہے۔ عمران خان کو اس بات کا ہرگز کوئی علم نہ تھا کہ پاکستانی فوج اس معاملے میں دوسرے جوہری ممالک کی افواج کے مقابلے میں کہاں کھڑی ہے۔لیکن ازراہِ عہدہ چونکہ جوہری جنگ کے آغاز کا بٹنِ اختیار اُن کے پاس تھا، اس لئے ان کو اس بارے میں تفصیلی بریفنگ کی ضرورت تھی۔ 2018ء کے نصف آخر میں GHQ میں ان کو جب اس پر بریفنگ دی گئی تو فوج کو معلوم ہوا کہ عمران خان اس موضوع پر یکسر بے علم اور نابلد نہیں اور اس فیلڈ میں بھی ان کا مطالعہ کافی ”تسلی بخش“ ہے…… یہ بات مجھے میرے فوجی عزیزوں کے رفقائے کار اور دوستوں نے بتائی۔ ان کو بھی یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جب خان صاحب کو ملٹری آپریشنز اور ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹس میں تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی تو ان کے سوالات اور تجسس کا دائرہ، سابق وزرائے اعظم سے کہیں وسیع و عریض تھا…… اور یہ ایک خوش آئند بات تھی بالخصوص اس تناظر میں کہ ان کا ماضی کرکٹ اور دوسری سپورٹس سرگرمیوں سے وابستہ رہا تھا۔ علاوہ ازیں ان کو جوہری جنگ و جدل سے متعلق کئی اصطلاحات کا بھی علم تھا۔ عام حالات میں کسی نئے منتخب وزیراعظم کو GHQ کی عمومی ورکنگ اور اس کی تنظیم و تشکیل کا کچھ زیادہ شعور نہیں ہوتا لیکن اس روز جب وہ 8،10 گھنٹے تک یہ بریفنگ لیتے رہے تو فوج کی سینئر لیڈرشپ کے لئے یہ امر تعجب خیز کے علاوہ مسرت انگیز بھی تھا!

یہ درست ہے کہ وزیراعظم کا ملٹری سیکرٹری ان کو معمول کی ابتدائی بریفنگ کا ذمہ دار ہوتا ہے لیکن عمران خان کا ماضی عسکری کیرئیر سے یکسر بیگانہ اور لاتعلق تھا۔ان کا کوئی رشتے دار بھی پیشہ ء سپاہ گری سے کبھی وابستہ نہیں رہا تھا لیکن خدا نے بعض لوگوں کو ایک سے زیادہ فیلڈز میں دلچسپی اور معلومات سے نوازا ہوتا ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ان ابتدائی ماہ و سال میں خود خان صاحب اپنے خطابات میں بتایا کرتے تھے کہ مسئلہ زیر بحث میں ان کے ساتھ فوج کا نقطہ ء نظر بھی یہی ہے۔ یہ بات انہوں نے اپنی تقاریر میں اتنی بار دہرائی کہ اپوزیشن کو یہ کہنا پڑا کہ وزیراعظم کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ ہر اہم بین الاقوامی یا قومی مسئلہ میں یہ حوالہ بھی دے کہ فوج بھی اس مسئلے میں میرے ساتھ ہے۔ شاید یہ اسی اعتراض کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اس کے بعد فوج کا نام لینا بند کر دیا (اور میرا خیال ہے کہ یہ ان کا صائب فیصلہ تھا)

ساری دنیا میں روٹین کی ایک پریکٹس یہ ہے کہ جب بھی کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم کسی بیرونی دورے پر جاتا ہے تو اس کو وہاں کے ان VIPs کا بائیوڈیٹا بھی بتایا جاتا ہے جن سے ان کی ملاقات شیڈول ہوتی ہے۔ اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کن کن عالمی واقعات، موضوعات و مسائل پر کیا بات کہنی اور کس سے گریز کرنا ہے۔ یہ سب کچھ ایک فائل کی صورت میں ملک کی وزارتِ خارجہ، وزارت دفاع اور ان وزارتوں کے متعلقہ سیکرٹری باقاعدہ اَپ ڈیٹ اور Vetting کرکے ان کے حوالے کرتے ہیں۔ اسی طرح جب کسی فارن ملک کا VIP، پاکستان کے وزیراعظم / صدر سے ملاقات کرنے آتا ہے تو اس VIP کا بائیو ڈیٹا اور متعلقہ معلومات بہم پہنچانا بھی متعلقہ محکموں کا فرض ہوتا ہے۔ پھر رفتہ رفتہ جب کوئی وزیراعظم / صدر دوسری تیسری بار بیرون ملک جاتا ہے تو اس کے مبلغِ علم اور روانیء گفتگو میں اس ملک کے بارے میں ایک مثبت بہاؤ آ جاتا ہے۔

چین، سعودی عرب، ایران اور دوسرے ملکوں کے دوروں پر جاتے ہوئے عمران خان نے جو بریفنگ متعلقہ وزارتوں سے لی نجانے ان میں کن کن مقامات و موضوعات پر ان کے افکار و خیالات پاکستان کے محکمانہ افکار و خیالات سے ہم آہنگ نہ تھے کہ پاکستانی وزارت دفاع کو یہ احساس ہونے لگا کہ ان کا وزیراعظم ان حدود سے باہر نکلنے لگا ہے جو پاکستان کے جیوملٹری اور جیو سٹرٹیجک معاملات سے ماوراء ہیں۔ میرا خیال ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ دو برس سے عمران خان اور وزارتِ دفاع کے افسرانِ بالا کے مابین ایک ہلکی سی اختلافی لکیر حائل ہونا شروع ہو گئی تھی جو بالآخر DG آئی ایس آئی کی تعینات میں کھل کر سامنے آئی۔ اس قسم کے اختلافات اگر ہوں بھی تو دل میں رکھے جاتے ہیں اور ان کو زبان پر نہیں لایا جاتا۔ لیکن پاکستان آرمی سمجھتی ہے کہ ایک ایسے موضوع پر جو خان صاحب کی ڈومین نہیں تھی اور فوج کا اندرونی معاملہ تھا، خان صاحب نے وہ ریڈ لائن کراس کی جو GHQ سے نکل کر آگے کی حدود کو چھونے لگی۔ جب لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکو پشاور کور کا کمانڈر مقرر کیا گیا اور ان کی جگہ ایک نئے لیفٹیننٹ جنرل کو پوسٹ کیا گیا تو اس کے نوٹی فیکیشن کے اجراء میں جو تاخیر ہوئی وہ بے وجہ اور بلا سبب تھی۔ یہ بات بھی فوج کی اعلیٰ لیڈرشپ کے لئے دل میں میل لانے کا باعث بنی ہو گی ہر چند کہ عمران خان نے وہی کیا جو فوج نے کئی روز پہلے کر دیا تھا۔ لیکن ایک بار جب شیشے میں بال آ جائے تو وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

میری نگاہ میں شائد یہ پہلا بال نہیں ہوگا۔ خان صاحب ویسے بھی خودداری کی حدود سے باہر نکل کر اب خودسری کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو ہر فن مولا سمجھتے ہیں جو فوج کو شاید پسند نہیں۔ یہ ان کا تنہا مسئلہ نہیں، ہٹلر، سٹالن، چرچل، روزویلٹ اور ماضی کے دوسرے سویلین حکمران اسی آزار کا شکار تھے۔ بعض نے اس مرض سے جلد چھٹکارا حاصل کر لیا جبکہ بعض نے اس ”خود سری“ کی بھاری قیمت چکائی…… اس کے لئے دوسری جنگ عظیم کی تفصیلات قارئین کی بہتر رہنمائی کر سکتی ہیں …… آپ کو یاد ہوگا جب چند روز پہلے ایک جلسہ ء عام میں عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر کہا تھا کہ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کو ’ڈیزل‘ نہ کہا کرو۔ یہ حوالہ دینے کا ان کا عمل درست تھا یا غلط، اس سے قطع نظر یہ بات تو ثابت ہو گئی تھی کہ فوج کی اعلیٰ ترین لیڈرشپ اپنے وزیراعظم کو ایسی باتوں سے منع کرتی رہی جو بظاہر معمولی اور مضحکہ خیز ہوتی ہیں لیکن بعد میں عوامی پسند یا نا پسند کی پشت پر جو بڑے اور دیرپا نقصانات ملک کو اٹھانے پڑتے ہیں، وہ اندوہناک ہو سکتے ہیں اور ہم نے دیکھا کہ پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا۔ سوال کسی شخصیت کا نہیں ہوتا ملک کی ترقی یا تنزلی کا ہوتا ہے، اس کا خیال رکھنا چاہیے۔

اب عمران خان نے آخر میں ”امپورٹڈ حکومت“ کی اصطلاح استعمال کرنی شروع کی جو میرا خیال ہے فوج اور ملک کے لئے ایک اور حوالے سے نقصان دہ تھی…… اس پر مزید بحث پھر کبھی سہی!

مزید :

رائے -کالم -