وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے مختلف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )  لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ  پنجاب کے انتخاب کی درخواستوں پر  فیصلہ محفوظ کرلیا۔ دوران سماعت    مسلم لیگ (ق) کے وکیل نے ڈپٹی سپیکر پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے   درخواست کی سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس امیر بھٹی نے کی ،  دوران  سماعت  مسلم لیگ (ق) کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے  ڈپٹی سپیکر پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  ڈپٹی سپیکر نے سیکرٹری  اسمبلی پر پابندیاں عائد کرنا شروع  کر دیں ، ہمیں ڈپٹی سپیکر پر اعتماد نہیں ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پھر ایسی صورتحال میں کیا کیا جائے ؟۔

حمزہ شہباز کے وکیل اعظم نذیر تارڑ  نے دلائل میں کہا کہ  سپیکر خود امیدوار ہیں ، وہ کوئی  اختیارت استعمال  نہیں کر سکتے ،  یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ڈپٹی سپیکر کے پاس اختیار نہیں ،سپیکر کے امیدوار بننے پر ڈپٹی سپیکر اختیارات استعمال کر سکتا ہے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمیں وزیر اعلیٰ پنجاب کا شفاف الیکشن کرانا ہے ، فریقین مشترکہ طور پر ووٹنگ کیلئے پریزائیڈنگ افسر مقرر کریں ۔

  اس سے قبل  سپیکر کے وکیل امتیاز صدیقی نے دلائل دیے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اسمبلی کا معاملہ آچکا ہے ، حمزہ شہباز ، ڈپٹی سپیکر کی درخواستیں خارج ہونی چاہئیں ، انہوں نے اسمبلی سے باہر ہوٹل میں بیٹھ کر اجلاس بلا لیا ،  آئین سے انحراف کوئی مذاق نہیں ہے ، انہوں نے جسے ہوٹل میں وزیر اعلیٰ بنایا وہ کہتا ہے کہ مجھ سے احکامات لو ۔

چیف جسٹس لاہوہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ  حلف لینے سے قبل ایسا انتخاب کیسے قانونی ہو سکتا ہے ؟،  16 اپریل یا کسی بھی تاریخ کا اجلاس کنڈکٹ کیسے ہوگا؟۔ سپیکر کے وکیل نے کہا کہ یہ سب رولز میں موجود ہے ، سپیکر کا متبادل ڈپٹی سپیکر ہے ، اگر یہ دونوں موجود نہ ہوں تو ہاؤ س کو پینل چلائے گا۔

اس سے قبل  حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ  ڈپٹی سپیکرنےاپنےآفس کاچارج سنبھال لیا، عدالتی حکم پرڈپٹی سپیکر نے اپنے آفس  کاچارج لیاہے۔مسلم لیگ (ق) کے وکیل نے ایک بار پھر درخواستوں کو  ناقابل سماعت قرار دیدیا ،  علی ظفر نے کہا کہ  پہلے درخواستوں  کے قابل سماعت ہونےپردلائل دوں گا، لاہورہائیکورٹ کےپاس الیکشن کی تاریخ بدلنےکاکوئی اختیارنہیں، اجلاس کب بلانا ہے کب ملتوی کرناہے،عدالتوں کومداخلت کااختیارنہیں، میری استدعاہےکہ پنجاب اسمبلی رولز موجود ہیں،   جو رولز میں ہےوہی پروسیجرمیں ہےکہ ہاؤس کس طرح چلاناہے، سپریم کورٹ نے کہا آرٹیکل  69 کے تحت  مداخلت نہیں کرسکتی۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ رولز میں کہیں نہیں لکھا کہ اجلاس ملتوی نہیں ہو سکتا، وکیل سیکرٹری اسمبلی نے کہا کہ سیشن ملتوی ہو سکتا ہے لیکن ختم نہیں ہو سکتا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ امیر بھٹی نے کہا کہ  روز میں ہے کہ وزیر اعلیٰ کے الیکشن فوری  کرائے جائیں ، بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیاکہ روز میں الیکشن کیلئے مخصوص وقت کا نہیں لکھا گیا ۔ چیف جسٹس نے  ریمارکس دیے کہ ووٹنگ سے ایک روز قبل کاغذات نامزدگی  کا مکمل کرنا لازمی ہے ۔

 بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل تک ملتوی ہوا ہے ،  وزیر اعلیٰ کے انتخاب کیلئے رولز پر عمل کیا جا رہا ہے ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب سے بھاگ نہیں رہے ،سپیکر کی موجودگی میں ڈپٹی سپیکر پاور کو استعمال نہیں  کر سکتا ، سپیکر نے  اپنے اختیارات ڈپٹی سپیکر کو  منتقل نہیں کئے ، ووٹنگ کےروز سپیکر اپنے اختیارات ڈپٹی سپیکر کو منتقل کریں گے ۔

عدالت نے استفسار کیا کہ  سپیکر خود وزیر اعلیٰ کا انتخاب لڑ رہا ہے تو کیا وہ اپنے اختیارات استعمال کر سکتاہے ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -