پاکستانی سیاست کے بدلتے تیور، عمران خان کی" رخصتی"، اور شہباز شریف کی "انٹری "پر بین الاقوامی میڈیا کے دلچسپ تبصرے 

پاکستانی سیاست کے بدلتے تیور، عمران خان کی" رخصتی"، اور شہباز شریف کی "انٹری ...
پاکستانی سیاست کے بدلتے تیور، عمران خان کی
سورس: Twitter/@pmln_org

  

نیویارک (طاہر محمود چوہدری سے)  پاکستانی سیاست کے بدلتے تیور اور وزیراعظم عمران خان کی عدم اعتماد کے ذریعے رخصتی اور شہباز شریف  کے نئے وزیر اعظم بننے کے واقعہ کو بین الاقوامی الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر چلایا.

پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے  دوسرے روز بھی امریکی میڈیا نے اس پر خصوصی رپورٹس شائع کیں جن میں واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز، بلوم برگ، دی وال سٹریٹ جرنل، بوسٹن گلوب، سی این این، بی بی سی سمیت دیگر کئی نمایاں اخبارات و نیوز چینلز شامل ہیں. 

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ "معزول رہنما عمران خان کے لیے پاکستان کا نیا وزیر اعظم محض ’امریکہ کا غلام‘ ہے. اور ان کی حکومت کو ہٹانے کی سازش میں امریکہ کا ہاتھ ہے".

عمران خان کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ختم کرنے کے حوالے سے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا  "حالیہ ہفتوں میں، جیسا کہ عمران خان اقتدار میں رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے، اب جب کہ وہ اقتدار سے باہر ہو چکے ہیں، کوئی بھی ان کی حکومت میں واپسی کی صلاحیت کو کم نہیں کر سکتا.  پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے 69 سالہ وزیر اعظم عمران خان کی توہین آمیز لیکن قانونی طور پر بے دخلی نے اچانک ایک وسیع، لیکن ناقص انسان کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیا.  خان نے تبدیلیوں اور اصلاحات کی حمایت کی تھی، لیکن انہیں کبھی پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اور پھر شکست سے بچنے کے لیے آخر ی کوشش کے طور پر  انہوں نے امریکہ مخالف الزامات کا سہارا لیا". 

نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ "مسٹر  شہباز شریف، جن کے خاندان پر کئی دہائیوں سے بدعنوانی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، پاکستان کی پارلیمنٹ نے انہیں اس وقت منتخب کیا  جب پاکستان میں گہری سیاسی تقسیم اور معاشی بدحالی ہر سو پھیلی ہوئی ہے. پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر، انہوں نے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے اور اس کی سیاسی طاقت کی قیادت کی، جہاں شریف خاندان 1980ء کی دہائی سے سیاست پر حاوی ہے. اس کردار میں شہباز شریف نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کو فروغ دیا، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور سماجی ترقی کے پروگراموں کی ایک اعلیٰ پروفائل مہم کی قیادت کرتے ہوئے شہرت حاصل کی. وہ اپنے اعلیٰ توانائی والے طرزِ حکمرانی کے لیے بھی جانے جاتے ہیں. جس میں پنجاب کے سرکاری دفاتر اور چھوٹے شہروں میں ہسپتالوں، سکولوں پر اچانک "چھاپے" بھی شامل ہیں. ان کے ساتھی انہیں صبح  7 بجے اجلاسوں کی صدارت کرنے اور چھاپے مارنے والے ایک انتھک اور "کام کے دہنی" کے طور پر یاد کرتے ہیں.   شہباز شریف کا بڑے منصوبوں کی ریکارڈ ٹائم میں تکمیل ان کے سیاسی کیریئر کی ایک واضح خصوصیت رہی ہے، اور اس وصف نے انہیں عوامی حمایت حاصل کرنے میں بڑی مدد فراہم کی ہے."

مزید :

تارکین پاکستان -اہم خبریں -بین الاقوامی -