جنگ یوکرین کے بچوں کےلیے ڈراؤنا خواب بن چکی ، 3 ملین بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے : یونیسف

جنگ یوکرین کے بچوں کےلیے ڈراؤنا خواب بن چکی ، 3 ملین بچوں کو انسانی امداد کی ...
 جنگ یوکرین کے بچوں کےلیے ڈراؤنا خواب بن چکی ، 3 ملین بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے : یونیسف

  

اقوام متحدہ (طاہر محمود چوہدری سے) یونیسف کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مینوئل فوئنٹین نے یوکرین کے اپنے 10 روزہ دورے سے واپسی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ممبران کو آنکھوں دیکھا حال بتایا. 

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے ایمرجنسی پروگرام کے ڈائریکٹر مینوئل فونٹین نے یوکرین کے اپنے 10 روزہ دورے کے اختتام پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی طرف سے روزانہ کی پریس بریفنگ میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ "آج میں نے سلامتی کونسل کو یوکرین کی جنگ سے بچوں پر ہونے والے تباہ کن اثرات سے آگاہ کیا. جو میں نے گزشتہ ہفتے اپنے یوکرین مشن کے دوران پہلی بار دیکھے ہیں. 

10دنوں کے دوران، میں نے مغرب میں لیویو کے ساتھ ساتھ وسطی یوکرین میں وینسٹریہ اور جنوب مشرق میں ڈینپرو اور زاپوری زازئیا کا دورہ کیا. ہم یوکرین میں رونما ہوئے انسانی حالات کا جائزہ لینے کے لیے گئے. تاکہ ہم یونیسیف کے ردعمل کو پورا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا سکیں. 

مینوئل کا مزید کہنا تھا کہ "6 ہفتے گزر چکے ہیں اور جنگ یوکرین کے بچوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنی ہوئی ہے. دونوں طرف کے بچوں کے لیے جو گزشتہ 6ہفتے کے دوران یوکرین سے بھاگ گئے ہیں اور جو ملک کے اندر رہتے ہیں. اب، یوکرین میں تقریباً 3 ملین بچوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے. 

 4.5 ملین سے زیادہ لوگ، جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں، پناہ گزینوں کے طور پر پڑوسی ممالک میں ہجرت کر چکے ہیں اور آئی او ایم کا اندازہ ہے کہ 7.1 ملین لوگ اب اندرونی طور پر بے گھر ہو چکے ہیں اور بے گھر ہونے والے خاندانوں میں 50 فیصد سے زیادہ بچے شامل ہیں. 

بچے اپنے اردگرد ہونے والے تشدد کی وجہ سے ہلاک اور زخمی ہو رہے ہیں. اقوام متحدہ نے اب تک 142 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں سے 230 کے قریب زخمی ہیں. درست اعداد و شمار یقیناً حملوں کے پیمانے پر بتائے گئے ہیں،جہاں وہ زخمی ہو جاتے ہیں. ان کے لیے صرف وہ جگہیں جو سب سے زیادہ محفوظ ہونی چاہئیں، وہ ان کے گھر، ہنگامی پناہ گاہیں، اور ہسپتال ہیں. 

آبادی والے شہری علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے حملے جاری ہیں. گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، پانی کے نظام، پاور پلانٹس اور ایسے مقامات پر حملے جہاں شہری پناہ حاصل کرتے ہیں، صحت کی دیکھ بھال کو متاثر کرتے رہتے ہیں، ڈبلیو ایچ او کے مطابق سو سے زیادہ حملے ہو چکے ہیں. 

 خاندان بھاگنے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال رہے ہیں. انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے. جیسا کہ ہم سب نے دیکھا، 8 اپریل کو ڈونیٹسک کے علاقے میں کرامٹارسک ٹرین اسٹیشن پر حملہ کیا گیا. جس میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل تھے، جن میں سے بہت سے انخلاء کی کوشش کر رہے تھے."

مزید :

بین الاقوامی -