جب تیمور لنگ طوفان کی طرح ہندوستان پر ٹوٹ پڑا اور کشت و خون کا بازار گرم کیا۔۔۔۔

جب تیمور لنگ طوفان کی طرح ہندوستان پر ٹوٹ پڑا اور کشت و خون کا بازار گرم ...
 جب تیمور لنگ طوفان کی طرح ہندوستان پر ٹوٹ پڑا اور کشت و خون کا بازار گرم کیا۔۔۔۔

  

مصنف : ای مارسڈن 

 جس زمانے میں تغلق خاندان کا آخری بادشاہ دہلی میں حکمران تھا۔ کل ترکستان ایک زبردست سردار تمریا تیمور کی حکومت میں تھا۔ تیمور کا قد بلند اور رنگ گورا تھا۔ کشادہ پیشانی آنکھیں روشن اور آواز کڑی تھی۔ اس کی ٹانگیں لمبی اور انگلیاں موٹی موٹی تھیں۔ یہ لنگڑا تھا۔ اسی وجہ سے اسے تِمر لنگ کہتے ہیں۔ یہ اصل سے ترک اور شہر سمرقند کا باشندہ تھا، لیکن چونکہ اس کی فوج تاتاریوں سے بھری ہوئی تھی، اس کو بھی تاتاری تیمور کہہ دیتے ہیں۔

 1398ءمیں تیمور ترکوں، تاتاریوں اور ایرانیوں کا ایک بڑا بھاری لشکر لے کر شمال مغرب کے دروں کی راہ طوفان کی طرح ہندوستان پر ٹوٹ پڑا اور کشت و خون کا بازار گرم کیا۔ اب اس واقعہ کو 500برس سے زیادہ ہو گئے ہیں، مگر نہ اس سے پہلے کبھی ایسے قتل ہوئے تھے اور نہ بعد میں ہوئے ہیں۔ دہلی کا پٹھان بادشاہ خود مسلمان تھا۔ پس یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے یہ سب کشت و خون دین اسلام کی اشاعت کے لیے روا رکھا تھا۔ اس کا منشا تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مال و دولت سے اپنی فوج کو مالا مال کر دے اور یہی کر دکھایا۔

 تیمور اپنے تاتاری ٹڈی دل لے کر افغانستان سے ہوتا ہوا پنجاب میں داخل ہوا اور منزل بمنزل سفر کرتا آہستہ آہستہ دہلی پہنچا۔ راستے میں جو مقام آئے سب کو صفا چٹ کر کے چھوڑ گیا۔ آبادیوں کی جگہ لاشوں اور آگ کے شعلوں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ جب دہلی کے قریب پہنچا تو اس کے ساتھ ایک لاکھ قیدیوں کی بھیڑ بھاڑ تھی۔ دیکھا کہ کون ان کی سوجھ سنبھال اور نگہبانی کرے گا۔ اس وجہ سے 15برس سے اوپر کے کل قیدی قتل کرا دیئے۔

 یہ جانکاہ خبر دہلی میں پہنچی تھی کہ خوف کے مارے سب کے منہ پیلے پڑ گئے۔ بادشاہ چھپ کر شہر کی چاردیواری کے اندر ہو بیٹھا، لیکن چند روز بعد کچھ جو ترنگ اٹھی تو فوج لے کر شہر سے نکلا۔

 تیمور کو موقع ملا اور فوراً اس پر جا پڑا۔ محمود تغلق کو شکست ہوئی۔ 5 دن برابر تاتاری شہر میں پھرے۔ کہیں قتل کرتے تھے، کہیں آگ لگاتے تھے۔ آخر جب تھک گئے اور لوٹ کھسوٹ کےلئے بھی کچھ باقی نہ رہا تو قیدی اور لوٹ کا مال لے کر ہمالیہ پہاڑ کے تلے تلے پنجاب میں داخل ہوئے اور وہاں سے کابل ہوتے ہوئے ترکستان واپس چلے گئے۔

 دہلی بگڑ گئی اور تباہ ہو گئی۔ تیمور صرف 5مہینے ہندوستان میں رہا مگر جو جو ظلم و ستم اس نے اور اس کے سیاہ کار تاتاری سپاہیوں نے اس ملک میں کیے۔ آج تک ہند کے باشندوں کو یاد ہیں۔(جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -