کپل وستو سے کار گاہ نالہ تک۔۔۔۔۔

 کپل وستو سے کار گاہ نالہ تک۔۔۔۔۔
 کپل وستو سے کار گاہ نالہ تک۔۔۔۔۔

  

مصنف : عمران الحق چوہان 

قسط :45

 صبح اٹھے تو گلگت پر ملگجا سا اجالا پھیلا ہوا تھا۔ ہوا میں اوّل ِ صبح کی خنکی اور فضا میں مکمل خاموشی تھی اور کھڑکی سے باہر دور تک مکانوں کی چھتیں، درختوںکی چو ٹیاں اور ذرا دھندلے سرمئی پہاڑ نظر آتے تھے۔ نہا دھو کر رمضان ہو ٹل سے آملیٹ اور ملائی کے ساتھ پرا ٹھوں کا مزے دار نا شتہ کیا گیا۔ طاہر نے میری توجہ ہو ٹل کے باورچی خانے والے حصے کی طرف مبذول کروائی۔ 

”اس لڑکے کے ڈولے دیکھیں۔“ طاہر کو عام نوجوانوں کی طرح باڈی بلڈنگ کا ٹھرک بھی ہے۔

میں نے گردن موڑ کر دیکھا۔اندر کھال اترا ایک کٹّا چھت میں لگے کُنڈے سے جھول رہا تھا اور ٹی شرٹ میں ملبوس ایک نوجوان بھاری بغدا پکڑے اس کی دستی اتار رہا تھا۔ اس کے جسم کے کٹ اور بازو کے ڈولے بہت متاثر کن تھے۔ ناشتے کے بعد ہم نے اندر جا کر اس کی تعریف کی تو وہ بہت خوش ہوا۔ پتا نہیں وہ باڈی بلڈنگ کرتا تھا یا صرف جسمانی محنت کی وجہ سے اس کا جسم ترش گیا تھا۔ محنت مشقت کرنے والی عورتوں کے جسم ،کاہل اور خوش حال عورتوں سے کہیں زیادہ کسے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے انہیں نہ واک کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ٹریڈ مِل کی۔ فاقوں کی ضرورت پڑتی ہے نہ لیپو سکشن (liposuction)کی۔ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی۔

شاہی پولو گراونڈ:

”جناب آپ کی گا ڑی غلط جگہ کھڑی ہے مہربانی کر کے اسے آ گے لے جائیں!“

پہلے تیکھی سیٹی کی ”ٹررررررن ن ن ن ن“ سنائی دی پھر میگا فون پر ٹریفک کانسٹیبل کی تیز آواز فضا میں گو نجی۔پِک اپ کے ڈرائی ور نے حکم سن کر کھڑکی سے سر نکالا اور اپنی غلطی اور گاڑی کا محل ِ وقوع جاننے کی کوشش کی۔ اس پر دوبارہ میگا فون پر آواز آئی،

”یہ گردن نکال کر مت دیکھو،گاڑی کو فورا ً ایدر سے ہٹاو!“

اس پک اپ میں ہم سوار تھے اور چوک میں ہماری پِک اپ کے علاوہ کوئی گا ڑی نہیں تھی۔ اگرچہ ٹریفک کا نسٹیبل اور ہمارے درمیان بہ مشکل 2گز کا فا صلہ تھا لیکن وہ میگا فون کے اصولی استعمال کا قائل تھا۔ اگر سرکار نے اسے ایک آلہ استعمال کےلئے دیا تھا تو اسے استعمال نہ کرنا بھی توپیشہ ورانہ کا ہلی تھی۔ وہ ایک گا ڑی کےلئے بھی اتنی محنت کرتا تھا جتنی ریگل چوک، لاہورکا کانسٹیبل بھی نہیں کرتا۔ ہمارے ڈرائی ور نے اس کی پروا نہ کرتے ہوئے ویگن غلط ہاتھ مو ڑی تو اس نے فورا ً ویگن کو رکنے کا اشارہ کیا جس پر ڈرائی ور نے کھڑ کی سے گردن نکال کر اسے بتا یا کہ ”پیچھے چالان ہو گیا ہے۔“ اس اعتراف یا اطلاع پر بغیر تصدیق کے ایمان لاتے ہو ئے کانسٹیبل نے ڈرائی ور کو اس کے حال پر چھو ڑ دیا، حالاں کہ اس نے بالکل جھوٹ کہا تھا۔ (جاری ہے )

نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )۔

مزید :

کتابیں -ہنزہ کے رات دن -