”ریاست“ کا اصل مقصد معاشرے کی اخلاقی اور روحانی نشوونما ہے

”ریاست“ کا اصل مقصد معاشرے کی اخلاقی اور روحانی نشوونما ہے
”ریاست“ کا اصل مقصد معاشرے کی اخلاقی اور روحانی نشوونما ہے

  

مصنف :ملک اشفاق

قسط: 29

 افلاطون انسانی سیرت میں 3 قدرتی اوصاف دیکھتا ہے۔-1 نفسانی خواہشات-2 جرات و شجاعت-3 فہم و فراست۔

 عدل کا تقاضہ ہے کہ ان میں سے جو جو صفت لوگوں میں ہے ان کےلئے اس سے متعلقہ کام کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے۔

 معاشرے کو جو صفات کے لحاظ سے مختلف طبقوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اگر ان کو انسان کی ان 3 صفات سے تشبیہہ دی جائے تو کاشتکار، صناع اور دستکار نفسانی خواہشوں کے مظہر ہوں گے۔ سپاہی جرا¿ت اور شجاعت جبکہ فلسفی فہم و فراست اور دانائی کے پیکر ہوں گے۔

 سیاسی نظام عدل اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جب معاشرے کو 3 طبقوں فلسفیوں، سپاہیوں اور کاشتکاروں اور دست کاروں میں تقسیم کر دیا جائے۔ تقسیم کے اس عمل میں ہر شخص کو اپنے کام میں دسترس حاصل ہو اور وہ کسی کے معاملات میں داخل اندازی سے بالکل گریز کرے۔ جس کام کی اس میں قابلیت نہیں وہ اس سے پرے رہے۔

 اس نظام کو استحکام دینے کےلئے افراد کی سوچ، فکر، شخصیت اور زندگی کو اس فلسفے کے عین مطابق بنا دیا جائے۔

 اس پر عمل درآمد کےلئے افلاطون نے یہ منطق پیش کی کہ سب سے پست طبقہ میں یہ سوچ راسخ کر دی جائے کہ خدا نے فلسفیوں کو سونے سے، سپاہیوں کو چاندی سے اور ان کے طبقے کو تانبے سے بنایا ہے۔ لہٰذا ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے سے بلند دونوں طبقوں، جو انسانیت کے بہترین عناصر ہیں، کی کامل اطاعت کریں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ فلسفیوں اور سپاہیوں کی تعلیم و تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ اپنے آپ کو اس عہدے کا حق دار ثابت کر سکیں۔ لہٰذا یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بہتر تعلیم و تربیت کا انتظام کرے اور ان کی قابلیت اور استعداد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ یہ لوگ ایسے ہوں کہ ہر مظہر کو حقیقت اورسچائی کی نظر سے دیکھیں اور حق کی فضیلت کو اپنا عقیدہ اور نصب العین بنالیں۔ اس کی بنیاد ان کے اپنے تجربے، احساس اور ایقان پر ہو۔ اسی طرح وہ مثالی ریاست کے نظام کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

افلاطون کے مطابق ”ریاست“ کا اصل مقصد معاشرے کی اخلاقی اور روحانی نشوونما ہے۔ اس کے بغیر سیاسی زندگی ناممکن ہے اور معاشرہ اس وقت تک مصیبتوں اور پریشانیوں سے نجات حاصل نہیں کر سکتا جب تک ریاست کی بھاگ دوڑ فلسفیوں کے ہاتھوں میں نہ آئے اور ان میں اصل فلسفے کی روح بیدار نہ ہو۔

 افلاطون ریاست کو فلسفیوں کے ذریعے پرامن بنانا چاہتا تھا۔ اسے توقع تھی کہ وہ سچائی اور نیکی کے تصور سے اپنے دل و دماغ کو منور کریں گے۔ ان کی عملی زندگی دنیا میں میں امن پھیلائے گی۔ کامل نیکی کے تصور کو سمجھ کر وہ لوگوں کو ان کی زندگیوں کا مقصد سمجھائیں گے۔ نیکی اور روحانی اقدار کے ذریعے وہ معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا دیں گے۔

 فلسفی حکمران(The Statesman) میں فلاطون فلسفی حکمران کی صفات اتنی ہی تفصیل سے بیان کرتا ہے جیسی کہ اس نے ”ریاست“ میں بیان کی تھیں۔ اس کے نزدیک فلسفی حکمران کو تمام عملی علوم پر عبور حاصل ہونا چاہیے۔ اپنے ماتحتوں پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے یا ہر بات میں اسے ان کی تائید حاصل ہو۔ اگر وہ ان پر جبر کرتا ہے تو بہتر انسان بنانے کے غرض سے کرتا ہے۔( جاری ہے )

نوٹ : یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -