الہامی سند!     (1)

 الہامی سند!     (1)
 الہامی سند!     (1)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 تاریخ اولاد آدم ؑ الہاموں صحائف کا اپنا ایک حوالہ ہے اس موضوع پر بائبل مقدس بیش قیمت سند رکھتی ہے تورات، زبور، انجیل اور متعدد صحائف کا مجموعہ!اس میں مگر قرآن مجید شامل نہیں قرآن پاک کی عدم شمولیت کے ٹھوس اسباب گنے جاسکتے ہیں اُمت مسلمہ ان کو مگر ذرا فرق کے ساتھ بطور ایمان مانتی ہے ازروئے اسلام کوئی ایک فرد بھی جو انہیں منجانب اللہ نہیں مانتا مسلمان نہیں ہوسکتا گویا اسلام میں یہ جزو دین ہے تاہم اہل ِ اسلام کا یہ دعویٰ ضرور ہے کہ قرآن حکیم اس سلسلے کی آخری آسمانی کتا ب ہے اور اب کبھی وحی کا فرشتہ کسی پر نازل نہ ہوگا اور نہ کچھ بطور حجت اتارا جائے گا ایک پہلو سے یہ دعویٰ کچھ عجیب ضرور لگتا ہے لیکن حقائق واقعات نے اسے ہمیشہ درست ثابت کیا اس بارے میں قرآن کا اپنا دعویٰ بھی دوست،دشمن کو عاجز کر دینے والا رہا ہے نوٹ؛یہاں دعویٰ سے متعلق قرآنی آیات نقل کی جائیں گی تاریخ گواہ ہے کہ عہد جہالت میں،عہد عرب بہت فصیح الزبان اور قادر الکلام تھے وہ اپنے سوادنیا کو عجمی یعنی گونگے قرار دیتے تھے قدیم عربی ادب پر گہری نظر رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ محض تعلی نہیں ان کا رنگ ڈھنگ واقعی کچھ ایسا تھا اس تائید میں ایک سے بڑھ کر ایک ثبوت موجود ہے ایسی ہی ایک حقائیت مشہور ہے جس عہد میں قرآن نازل ہو رہا تھا اسی عہد میں ایک قد آور شاعر نے دنیا کے ہنگاموں سے دور جا کر بسیرا کیا اس کے ترک دنیا سے ہر کوئی آگاہ تھا

اس کے شاگر د اپنا اپنا کلام بغرض اصلاح لے جاتے اور غار کے دہانے پر رکھ آتے وہ حسب ِ ضرورت اصلاح دے دیتا اور اسی جگہ واپس رکھتا اس  دوران ایک شاگرد کو کیا سوجھی کہ وہ سورۃ الکوثر جس کی تین آیات جزویات لے کر رکھ آیا اور نیچے نوٹ لکھا استاد مجھ سے رباعی کے لئے چوتھا مصرعہ مکمل نہیں ہو پا رہا استاد کو جیسے معاشرے میں تبدیلیوں کی کوئی خبر نہ تھی اسے پڑھا تو چونک کر رہ گیا اور کافی زیادہ غور وتدبر کے بعد اس کے قلم سے یہ مصرعہ ٹپک پڑا  یس ھذا قول بشر ”بلاشبہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں“اس میدان میں کئی لوگوں نے سر مارا اور اپنی بہترین توانائیوں کو استعمال میں لائے سب کو عاجزی اور لاچاری کا سامنا کرنا پڑا قرآن کا یہ چیلنج قیامت تک موجود ہے اگر غیر جانبداری کی نظرسے دیکھا جائے تورات، زبور اور انجیل کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ یہ ہی کلام الٰہی ہے ہاں مگر بالمعنی کی رعایت سے گفتگو ہو سکتی ہے جبکہ قرآن کی نسبت مسلمانوں کا پختہ عقیدہ یہ چلا آ رہا ہے کہ حرف بہ حرف اسی طرح اترا اور آج تک کوئی تغیر و تبدل رونمانہ ہو سکا اور نہ کبھی ہو سکے گا قرآن میں خالق کائنات کا ایک بہت ہی اہم اعلان پایا جاتا ہے فرمایا آیت کا ترجمہ ”بے شک ہم نے اسے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں“۔


دیگر الہامی کتب کے بارے میں ایسا کہنا شاید بہت مشکل ہے اب دیکھتے ہیں کہ مذکورہ کتابوں کا متن بلاواسطہ پیغمبرانہ عظام کی زبان سے محفوظ نہیں بلکہ بلاواسطہ حواریوں اور پیرو کاروں سے ہیں مثلاً انجیل کے چار نسخے تو اب بھی پائے جاتے ہیں جن میں گاہے بگاہے اختلاف بلکہ تضاد بھی موجود ہے ماہرین لسانیات تو یہ خبر بھی لائے ہیں کہ فی الواقعہ مندرجہ بالاکتب ثلاثہ کی اصل زبان جس میں نازل کی گئیں محفوظ نہیں مسلمانوں میں یہ لازمی وصف بھی موجود ہے کہ حضرت داؤد  ؑ، حضرت موسیٰ  ؑاور حضرت عیسیٰ   ؑ سمیت کسی ایک نبی کو مانے بغیر بھی امت کا حصہ قرارنہیں پاتے زبور،تورات اور انجیل کے بارے میں بھی ان کا یہی عقیدہ ہے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے سچے الہامات کا مجموعہ تھیں جو سچے نبیوں پر نازل ہوئیں البتہ بعدازاں خالص دنیا دار حکمرانوں نے اپنی سیاسی مصلحتوں اور کج رویوں کے باعث جبکہ نفس پرست علماء و صوفیاء نے معاشی و ذاتی ضرورتوں کی بنا پر وقتاً فوقتاًدخل اندازی کی اور کچھ سے کچھ بناکر رکھ دیا اسی نقطے پر بھی محققانہ نقطے کی گنجائش باقی ہے قرآن کی صحت اور پختگی کے بارے میں ایک ناقابل ِ تردید دفتر رقم ہو سکتا ہے اور ہوا بھی ہے مگر اس جگہ اس عنوان کو تشنہ چھوڑ دینا ہی موضوں ہوگا۔
(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -