جمیکا میں ڈوپ ٹیسٹ کے پروگرام زیادہ موثر نہیں ہیں،کارل لیوس

جمیکا میں ڈوپ ٹیسٹ کے پروگرام زیادہ موثر نہیں ہیں،کارل لیوس

لندن(نیٹ نیوز)اولمپکس2012 میں جمیکن سپرنٹر یوسین بولٹ کی بے مثال کامیابی کو داغ دارکرنے کی کوشش کی جارہی ہے 1984لاس اینجلس اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ امریکی ایتھلیٹ کارل لیوس نے کہا ہے کہ جمیکا جیسے ممالک میں ڈرگ ٹیسٹ کے زیادہ موثر پروگرام نہیں ہیں، اس لیے یہاں کے ایتھلیٹس کے کئی ماہ تک ڈوپ ٹیسٹ نہیں ہوتے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں کسی فرد پر تنقید کررہا ہوں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ کارل لیوس نے براہ راست یوسین بولٹ اور یوہان بلیک کو نشانہ بنایا ہے۔ اس بارے میں بولٹ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے دل میں کارل لیوس کی جتنی عزت تھی وہ ایک دم ختم ہوگئی ہے۔ دوسری جانب لندن گیمز آرگنائزنگ کمیٹی کے چیئرمین سباسٹین کو نے واضح کیا ہے کہ منتظمین یوسین بولٹ کی کامیابیوں کے حوالے سے کسی شک میں مبتلا نہیں ۔ دلچسپ بات ہے کہ 1988 کے اولمپکس سے قبل ڈوپ ٹیسٹ میں خودخود کارل لیوس کے جسم میں ممنوعہ اجزا پائے گئے تھے تاہم اس بات کا انکشاف 2003 میں کیا گیا تھا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...