منافع خوروں نے جان بچانے والی ادویات غائب کر دیں ، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

منافع خوروں نے جان بچانے والی ادویات غائب کر دیں ، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں

لاہور(ج الف)محکمہ صحت صوبائی دارالحکومت میں ہارٹ اٹیک اور گلے کے گلہڑ کی ادویات کی قلت اور بلیک مارکیٹنگ ختم نہیں کرا سکا جس سے ہارٹ اٹیک اور گلے کے گلہڑ کے امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ انجی سیڈ ایک ایسی گولی ہے جو ہارٹ اٹیک کے وقت مریض کے ایسے ہی ضروری ہے ۔ جتنا مچھلی کے زندہ رہنے کے لئے پانی اور انسان کے زندہ رہنے کیلئے ہوا جبکہ گلے کے گلہڑ کے مرض میں مبتلا مریضوں کو تھائروکسن نامی دوائی بھی انتہائی ضروری ہے اور تاحیات مریض استعمال کرتا ہے اور دونوں ادویات کا شمار لائف سیونگ ڈرگ گروپ میں شامل ادویات کے اہم ترین گروپ میں ہوتا ہے بتایا گیا ہے کہ دونوں ادویات کراچی کی جی ایس کے نامی فارما سیوٹیکل تیار کرتی ہے اور لاہور میں ان دونوں ادویات کے ڈسٹری بیوٹرز ”پارس“ نامی کمپنی ہے جس کے مالک لاہور کے سابق ڈرگ انسپکٹر زیدی نامی شخص ہیں بتایا گیا ہے کہ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ”پارس“ کے مالک زیدی ان ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرنے کے لئے دونوں اہم ترین ادویات مارکیٹ سے اچانک غائب کر دیتے ہیں اور پھر قیمتوں میں من مانی کرنے کے لئے مخصوص میڈیکل سٹورز یا فارمیسیوں پر دیتے ہیں اس کمپنی نے 6 روپے کی 100 گولیوں کی قیمت پر بکنے والی ان ادویات کی قیمت پر وفاقی وزارت صحت سے حال ہی میں 400 سو سے ایک ہزار گنا اضافہ کرایا مگر اس کے باوجود ادویات مارکیٹ سے غائب کرادی ہیں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ امراض میں مبتلا مریضوں کے لئے کراچی کی کمپنی اپنے اظہر نامی جنرل منیجر کو سپلائی دیتی ہے جو ”پارس“ اپنے ڈیلر کو دوائی دیتا ہے۔ میڈیکل سٹور مالکان نے ان دونوں ادویات پر 5 سو گنا زیادہ اضافہ پر فروخت کرکے غریب مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ ”پارس“ اور جی ایس کے کی کار ستانیاں وفاق اور صوبائی محکمہ صحت کے نوٹس میں ہیں مگر ”پارس“ اور کمپنی کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی اور الٹا مریضوں کو موت کے قریب تر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ انجی سیڈ ایسے مریض جو دل کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ان کی زبان کے نیچے رکھنے سے مریض کو فوری ریلیف مل جاتا ہے اور گولی نہ رکھنے سے ہائی بلڈ پریشر ہارٹ اٹیک یا فالج کا اٹیک ہو سکتا ہے۔ گلہڑ کی گولیاں مریض صبح ، شام لیتا ہے اور تھائروکسن نامی دوائی نہ لینے سے مریض کا گلہ بڑھنے سے سانس رکنے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے ”جی ایس کے“ کمپنی کے ”پارس“ نامی ڈسٹری بیوٹرز کے ایم ڈی اسلم زیدی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ذمہ دار ”پارس“ نہیں جی ایس کے ہے جس نے کئی ماہ سے دوائی تیار ہی نہیں کی ۔ یہ فرض بنتا ہے صوبائی یا وفاق وزارت صحت کا جو ان کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیتا ہم بلیک مارکیٹنگ کے لئے دوائی غائب نہیں کرتے ایسا اظہر نامی کمپنی کا جی ایم لاہور کرتا ہو گا۔ اس پر وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی خواجہ سلمان رفیق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ بھر پور کارروائی کی جائیگی ای ڈی او صحت لاہور کو حکم دیاگیا ہے کہ وہ تمام ڈرگ انسپکٹرز کو متحرک کریں اور وہ زیدی ہو یا کوئی اور جو بھی ادویات کی قلت پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے اسے جیل میں بند کرا دیا جائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1