پرائیویٹ سکولوں کیلئے مفت پڑھانے کا قانون قابل قبول نہیں، میاں عامر

پرائیویٹ سکولوں کیلئے مفت پڑھانے کا قانون قابل قبول نہیں، میاں عامر

لاہور (پ ر) آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس میاں عامر محمود چیئرمین گروپ آف کالجز پنجاب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ادیب جاودانی، میاں عارف مجید ڈپٹی سیکرٹری سکول اینڈ ہائر ایجوکیشن پنجاب، مختار حسین ڈپٹی سیکرٹری ای اینڈ ڈی سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، علی رضا ریجنل ڈائریکٹر سنٹر بیکن ہاﺅس سسٹم شاہد منور پراجیکٹ ڈائریکٹر بیکن ہاﺅس سسٹم نے شرکت کی۔ اجلاس میں میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب حکومت نے بجٹ میں آئندہ مالی سال سے تمام غیر سرکاری تعلیمی ادارے بشمول پرائیویٹ سکولز کالجز پروفیشنل کالجز اور یونیورسٹیوں کیلئے پنجاب حکومت قانون سازی کر رہی ہے کہ انہیں کچھ بچوں کو مفت پڑھانا ہو گا۔ یہ پرائیویٹ سکولوں کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ سکولوں میں پڑھنے والے بچوں پر حکومت کا ماہانہ ساڑھے چودہ ہزار خرچ ہو رہا ہے اور تعلیم کا معیار پھر بھی بہتر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت بچوں کی فیسیں ہمیں ادا کریگی تو ہم بچوں کو مفت پڑھائیں گے۔ ادیب جاودانی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے آرٹیکل 25-A کے تحت کلاس ون سے میٹرک تک بچوں کو تعلیم دینا اور مفت کتابیں اور یونیفارم فراہم کرنا اب یہ آئین کا حصہ بن گیا ہے جو قانون سے ٹکرائے گا وہ کالعدم تصور کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پرائیویٹ سیکٹر کو 10 فیصد بچوں کو مفت پڑھانے کیلئے جو قانون سازی کررہی ہے اس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1