مسلم لیگ (ن) لاہور تنظیم میں شدید اختلافات ، ارکین اسمبلی ، کو آرڈینٹرز بھی آمنے سامنے

مسلم لیگ (ن) لاہور تنظیم میں شدید اختلافات ، ارکین اسمبلی ، کو آرڈینٹرز بھی ...

لاہور (جاوید اقبال) صوبائی دارلحکومت میں مسلم لیگ (ن) لاہور کی تنظیم میں شدید اختلافات کے ساتھ ساتھ اراکین اسمبلی اور کوآرڈینیٹرز بھی آمنے سامنے آچکے ہیں جبکہ قومی اور صوبائی حلقوں کے اراکین اسمبلی بھی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ایک دوسرے کے حلقوں کے دوروں کے دوران ایک دوسرے کا عوام سے انڈوں سے استقبال کرانے جیسی حرکات کرنے سے بھی باز نہیں آتے جہاں تک کہ لاہور میں نو منتخب صدر پرویز ملک اور سابق صدر لاہور میاں مرغوب کی ”لابیوں“ میں شدید اختلافات ہیں دوسری طرف پرویز ملک جو کہ لاہور کے صدر ہیں کے شمالی لاہور کے اراکین اسمبلی سے شدیداختلافات ہیں جن کا مظاہرہ گزشتہ دنوں باغبانپورہ کی ایک یونین کونسل میں ٹیوب ویل کے افتتاح کے موقع پر کھل کر سامنے آیا۔ جب پہلے رکن اسمبلی وسیم قادر نے ٹیوب ویل کا افتتاح کیا چار روز بعد جب افتتاح کے لیے پرویز ملک پہنچ گئے تو بھری محفل پر کارکنوں نے پرویز ملک اور ان کی گاڑی پر انڈوں کی بارش کی۔ اس طرح صوبائی وزیر تعلیم میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن اور پرویز ملک صدر لاہور کے خاص رکن ایم پی اے شہباز چودھری میں شدید اختلافات ہیں۔ دونوں میں اختلافات کے باعث کارکنوں میں بھی کئی گروپ بندیاں ہیں اس طرح رکن قومی اسمبلی شیخ روحیل اصغر اور ان کے حلقہ کے دونوں اراکین پنجاب اسمبلی میاں نوید انجم اور حاجی اللہ رکھا سے شدید اختلافات تھے۔ ساتھیوں کی مدد سے شیخ روحیل اصغر اور حاجی اللہ رکھا بھائی بھائی بن چکے ہیں مگر میاں نوید انجم اور شیخ روحیل اصغر میں آج بھی شدید اختلافات ہیں جس کے باعث ان تینوں حلقوں میں کارکنوں کے کئی کئی گروپ بن چکے ہیں جس کا نقصان پارٹی کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح رکن قومی اسمبلی پرویز ملک اور رکن پنجاب اسمبلی وسیم قادر میں شدید اختلافات ہیں اسی طرح پی پی 157 کے رکن پنجاب اسمبلی رانا تجمل اور وزیر اعلیٰ کے کوآرڈینیٹر حاجی وحید گل میں شدید اختلافات ہیں۔ اسی طرح رکن پنجاب اسمبلی حاجی اللہ رکھا کو روحیل اصغر گروپ کے ملک حاجی وحید آف غازی آباد کو نیچا دکھانے کی نت نئی سکیمیں کرتے رہتے ہیں اور حاجی ملک وحید، حاجی اللہ رکھا کی جگہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اسی طرح خواجہ سعد رفیق کے حلقہ میں بھی اراکین اسمبلی میاں نصیر اور یاسین سوہل میں ”اندر خاتے“ اختلافات کی بو آتی ہے۔ خواجہ سعد رفیق کے حلقہ این اے 125 میں کارکنوں اور کوآرڈینیٹرز کی بڑی تعداد خواجہ سعد رفیق سے نالاں ہے جس کا اظہار وہ کرچکے ہیں جس کے باعث ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں خواجہ سعد رفیق اس حلقہ سے انتخابات نہ لڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ اسی طرح افضل کھوکھر ایم این اے کے حلقہ میں بھی مسلم لیگ (ن) کئی گروپوں میں تقسیم ہے ان کے صوبائی وزیر چودھری عبدالغفور سے شدید اختلافات ہیں جبکہ چودھری عبدالغفور کے مقامی برائے مسلم لیگی چودھری محمد حسین گجر جو ایس ایس پی شفیق چودھری کے بھائی بھی ہیں سے شدید اختلافات ہیں۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی خواجہ سلیمان رفیق سے حلقہ چھیننے کے لئے حاجی حنیف سامنے آچکے ہیں وہ جہاں سے اپنے بیٹے ادریس حنیف کو انتخابات میں میدان میں لانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر کی جگہ خواجہ سعید رفیق گروپ اپنے بزنس پارٹنر قیصر امین بٹ کو سامنے لانا چاہتا ہے۔ ملک ریاض ایم این اے کے حقہ میں کئی گروپ بن چکے ہیں ان کے کئی گروپوں اے اختلافات ہیں۔ اسی طرح رانا اقبال خان ایم پی اے کے سامنے بھی مقامی مغل برادری آچکی ہے اسی طرح عمر سہیل ضیاءبٹ کے حلقہ میں بھی اراکین اسمبلی اور کوآرڈینیٹرز آمنے سامنے ہیں۔ میاں مرغوب ایم این اے گروپ کو بھی ملک پرویز گروپ کی مخالفت کا سامنا ہے۔ مہر اشتیاق کے حلقہ میں بھی مسلم لیگ (ن) کے کئی گروپ ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی صورتحال کے پیش نظر مسلم لیگ (ن) لاہور بھی کئی گروپوں میں تقسیم ہے اور ان حلقوں میں کوآرینیٹر اور اراکین اسمبلی آمنے سامنے ہیں جس سے پارٹی کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ زیادہ تر حلقوں میں لڑائی ٹھیکوں اور کھانے پینے کی ہے جس سے گروپ در گروپ بنتے جارہے ہیں۔ اسی حوالے سے مسلم لیگ (ن) کے لاہور کے صدر پرویز ملک سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اختلافات ایک گھر میں رہنے والے تمام افراد میں بھی ہوتے ہیں۔ الحمداللہ تمام اراکین اسمبلی اور نوازشریف اکھٹے ہیں۔ لاہور کل بھی مسلم لیگ (ن) کا قلعہ تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1