واہگہ بارڈر کے راست مزید 15ہندو یاتری بھارت روانہ

واہگہ بارڈر کے راست مزید 15ہندو یاتری بھارت روانہ

لاہور(اے پی اے ) واہگہ بارڈر کے راستے مزید ایک سو پندرہ ہندو یاتری بھارت روانہ وہ گئے۔ حکومت نے بھی معاملے کا نوٹس لے لیا اوراب تحقیقات کے بعد ہندوﺅں کو بھارت جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز سو سے زائد افراد واہگہ کے راستے بھارت گئے تھے۔ ایک سو پندرہ افراد کو این او سی نہ ہونے کی وجہ سے روک دیا گیاتھا جو بھارت جانے کیلئے آج واہگہ بارڈر پہنچے۔ ان افراد کا کہنا تھا وہ بھارت مذہبی مقامات کادورہ کرنے کیلئے جارہے ہیں۔ انہیں ایک ماہ کا ویزہ ملا ہے۔ پاکستان کے صوبہ سندھ میں مقیم ہندوو¿ں کی شکایات کے ازالے کے لیے صدر آصف علی زرداری کی ہدایت پر وفاقی حکومت کی تین رکنی ٹیم تشکیل دے گئی ہے جو سکھر میں ہندو برادری کے عمائدین سے ملاقات کرے گی۔کمیٹی میں وفاقی وزیر مولا بخش چانڈیو، سینیٹر ہری رام کشوری لال اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر لال چند شامل ہیں۔خبر رساں ادارے کے مطابق کمیٹی کے ارکان اتوار کو جیکب آباد بھی جائیں گے اور وہاں کے مقامی ہندو رہنماو¿ں سے ملاقات کریں گے۔صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے سندھ میں بسنے والے ہندوو¿ں میں عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے احساس کے بارے میں پاکستان میڈیا میں آنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے یہ کمیٹی تشکیل دی ہے۔ترجمان کے مطابق کمیٹی ہندو عمائدین سے یکجہتی کا اظہار کرے گی اور حکومت کی جانب سے ان کے تحفظ کا یقین دلائے گی۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بدامنی اور شدت پسندی کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ سے ہندو برادری کے افراد بھارت ہجرت کررہے ہیں اور یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ہندوو¿ں کے بھارت ہجرت کرنے کا واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت اقلیتیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔گزشتہ روز بھارت جانے والے دو سو تیئیس یاتریوں کا تعلق سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تھا۔ ان لوگوں میں زیادہ تعداد ان یاتریوں کی تھی جنہیں اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بھارت کے شہر اندور جانا تھا۔ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ یاتریوں کی دستاویزات مکمل نہیں تھیں۔یاتریوں کے سربراہ سنتوش پوری کا کہنا تھا کہ ہندوو¿ں کے بھارت جانے کے معاملے پر سیاست کی جا رہی ہے جبکہ یاتریوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد واپس پاکستان آئیں گے۔کشمور کے نارائن داس کا کہنا تھا کہ انھیں ہندو ہونے کی سزا دی جا رہی ہے اور اگر وہ پاکستان چھوڑنا چاہیں تو کوئی انھیں روک نہیں سکتا۔ ان کے مطابق ’اگر رحمان ملک کو ہندوو¿ں سے اتنی محبت ہے تو وہ ملک کے حالات بہتر بنائیں‘۔یاتریوں کے جتھےدار راجے سنگھ واہگہ بارڈر پر فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی ایف آئی اے کے حکام سے بات چیت کرتے رہے بالاخر تین بجے کے قریب یاتریوں کی امیگریشن کا عمل شروع کر دیا گیا اور انھیں بھارت جانے کی اجازت دے دی گئی۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...