بلوچستان میں زیادتیاں چاردنوں میں ختم نہیں ہوسکتیں ‘میرا مشن بڑی حد تک کامیاب رہا:نوید قمر

بلوچستان میں زیادتیاں چاردنوں میں ختم نہیں ہوسکتیں ‘میرا مشن بڑی حد تک ...

کوئٹہ ( این این آئی)وفاقی وزیر دفاع اور بلوچستان سے متعلق وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے چیئرمین نوید قمر نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ساٹھ سال سے جو زیادتیاں ہو رہی ہیں چار دنوں میں ختم نہیں ہو سکتیں ہمارا پہاڑوں میں رہنے والوں سمیت دیگر تمام افراد سے رابطہ ہے اور میرا مشن کافی حد تک کامیاب رہا ہے مجھے دورہ کوئٹہ کے دوران فوج ‘ آئی ایس آئی‘ ایف سی اور دیگر ایجنسیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے انشاءاللہ دوبارہ بھی آئیں گے اور ملاقاتوںکا سلسلہ جاری رکھیں گے انہوں نے یہ بات ہفتہ کی شام کو وزیراعلیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے کوئٹہ میں اپنے وفد کے ہمراہ مختلف سیاسی جماعتوں سے ملاقات کی جن میں پشتونخواملی عوامی پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ وکلاءاور ڈاکٹر شامل ہیں ہر ایک کے اپنے تحفظات اور شکایات تھیں ہم نے سب کو سنا انہیں یقین دلایا ہے کہ آئندہ بھی ان سے رابطے میں رہیں گے ایک دن میں سب مسئلے حل نہیں ہو سکتے رابطوںکا سلسلہ جاری ہے انہوں نے کہا پاکستان سے علیحدگی چاہنے والے زیادہ نہیں ہیں ہم ان سے بھی رابطہ کرینگے بیٹھ کر ان سے بات کیلئے تیار ہیں ہم نے پہلے بھی پیشکش کی کہ وہ آئیں مل کر بیٹھیں انہوں نے کہا جن لوگوں سے آج ملاقات ہوئی ان سے آئندہ دورے میں بھی ملاقات ہوگی وفاقی حکومت کو بلوچستان کے مسئلے کا بہت احساس ہے اگر احساس نہ ہوتا تو ہم اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں الیکشن کی تیاری میں مصروف ہوتے الیکشن سر پر ہیں ہمارے نذدیک بلوچستان کا مسئلہ اہم ہے اور کوشش ہے کہ مل بیٹھ کر اسے حل کریں اس لئے رابطوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے انشاءاللہ ہمیں امید ہے کہ ہم اس مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے انہوں نے کہا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ میرا مشن کامیاب رہا ہے کیونکہ کوشش انسان کو کرنی چاہئے کوشش کے بغیر کوئی کام مکمل نہیں ہوتا انہوں نے کہا شکایتیں بہت سے لوگوں کی تھیں ہر ایک کے اپنے تحفظات تھے آغاز حقوق بلوچستان ‘ این ایف سی ایوارڈ کے بارے میں شکایات تھیں ہم نے سب کو سنا اس کی تحریری رپورٹ وفاقی کابینہ میں پیش کی جائے گی اس کے بعد دوبارہ کوئٹہ آئیں گے انہوں نے کہا ساٹھ سال سے بلوچستان کے عوام کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں جنہیں چار دن میں حل نہیں کیا جا سکتا ہمارا رابطہ پہلے بھی تھا اب بھی ہے انہوں نے کہا مسخ شدہ لاشیں ملنا اغواءبرائے تاوان جیسے واقعات سے ہمیں بھی دکھ ہے اس مسئلے کو مل بیٹھ کر حل کرینگے کیونکہ جب تک مل بیٹھ کر بات نہیںکرینگے مسئلہ حل نہیں ہوگا اور کوئی رزلٹ سامنے نہیں آئے گا جب ان سے پوچھا گیا کہ جن سیاسی جماعتوں یا عہدیداروں نے آپ سے ملاقاتیں کی ہیں ان کو آپ سے کوئی شکایت نہیں تھی در اصل شکایت پہاڑوں میں رہنے والے ‘ دبئی میں رہنے والوں یا مزاحمت کاروں کو شکایت ہے وہ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے وہ علیحدگی چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم پہاڑوں میں رہنے والوں سمیت دوسروں سے بھی رابطے کرینگے جب تک رابطہ نہیں کرینگے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا ہمیں امید ہے کہ اپنے مقصد میںکامیاب ہوجائیں گے جب ان سے پوچھا گیا کہ جن کو تحفظات اور شکایتیں ہیں وہ کہتے ہیں کہ وفاقی کابینہ کے پاس کوئی اختیار نہیں اصل طاقت فوج کے پاس ہے تو انہوں نے کہا کہ میرے دورہ کوئٹہ کے موقع پر فوج ‘ آئی ایس آئی خفیہ ایجنسیوں اور آئی ایس آئی کی حمایت حاصل ہے اور میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرا مشن کامیاب رہا ہے۔

مزید : صفحہ اول