نئی پالیسی کے تحت صوبے بجلی پیدا کر کے دوسرے صوبوں کو فرخت کر سکتے ہیں چودھری احمد مختار

نئی پالیسی کے تحت صوبے بجلی پیدا کر کے دوسرے صوبوں کو فرخت کر سکتے ہیں چودھری ...

لاہور ( کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر پانی و بجلی چودھری احمد مختار نے کہا ہے کہ صوبوں کوبجلی پیدا کرنے کا اختیار حاصل ہے اور ایک صوبہ دوسرے صوبے کو بجلی فروخت کرسکتا ہے، سستی بجلی کی فراہمی بڑا مسئلہ بن چکا ہے، بجلی کے پیداواری پلانٹس کو فرنس آئل کی بجائے کوئلے پر منتقل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے،بجلی کی تقسیم میں پنجاب کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جا رہا ، یہ محض ایک غلط فہمی ہے۔ وہ گزشتہ روز مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں شرکت اور بعد ازاں مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ افطار ڈنر کے دوران میڈیا بریفنگ دے رہے تھے۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو لیسکو شرافت سیال، پیپلز پارٹی کے رہنما منیر احمد خان، ذکریہ بٹ، عزیزالرحمن چن، نوید چودھری اور وزیر کے مشیر برائے میڈیاطاہر خلیق بھی موجود تھے۔ایک سوال کے جواب میں چوہدری احمد مختار نے کہا کہ سستی بجلی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ، جس کے حل کے لئے بجلی کے پیداوار ی پلانٹس کو فرنس آئل کی بجائے کوئلے پر منتقل کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی کمی کو پورا کرنے اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کے لئے حکومت آنے والے مہینوں میں تین کروڑ انرجی سیورز صارفین کو مفت فراہم کرے گی ، جس سے بجلی کی طلب میں نمایاں کمی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی تقسیم میں پنجاب کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک ہر گز نہیں کیا جا رہا ، یہ محض ایک غلط فہمی ہے ۔ مشترکہ مفادات کونسل کی توانائی کمیٹی کے اجلاس میں بجلی چوری روکنے کے لئے ملک بھر میں علیحدہ تھانے قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور رہی۔چودھری احمد مختار نے اجلاس کے دوران پنجاب سمیت چاروں صوبوں سے مدد مانگتے ہوئے بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف کارروائی کے لئے الگ تھانے قائم کرنے کا اعلان کیا۔ احمد مختار نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب تھانوں کے قیام کے لئے تعاون کریں۔ انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ بجلی چوروں کو ٹی وی پر دکھایا جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے کبھی الیکشن سے قبل لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی بات نہیں کی۔ چودھری احمد مختار نے کہا کہ پنجاب میں بجلی کی طلب دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ جس کی وجہ سے جب لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے توزیادہ محسوس کی جاتی ہے ، جبکہ حقیقت میں بجلی کی تقسیم میں پنجاب سمیت کسی صوبے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی جارہی۔ وفاقی وزیر بجلی و پانی احمد مختار نے کہا کہ ہم عدلیہ سمیت سب کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں ‘ ہم کسی سے تصادم نہیں چاہتے‘ توہین عدالت والے کیس میں کوئی نہ کوئی درمیانی راستہ نکلنا چاہیے‘ ہماری کوشش ہے کہ عوام کو سسی بجلی فراہم کی جائے‘ تھرکول والے منصوبے سے نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ عوام کو سستی بجلی بھی مل سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ رمضان میں آنے والے طوفان سے 22 بڑے مین ٹاور گرنے سے بجلی بحران رہا حالانکہ انہی دنوں میں بھارت میں اسی طرح کی فنی خرابی سے 65 کروڑ افراد متاثر ہوئے تھے ہماری کوشش ہے کہ لوڈ شیڈنگ کم سے کم ہو۔ لوڈ شیڈنگ کے سوال کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تھرکول والے منصوبے سے عوام کوسستی بجلی ملے گی‘ اس کے علاوہ اگر صوبے خود بجلی پیدا کرکے خود اپنے صارفین کو دینا چاہےں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں‘ یا کوئی اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنی صوبے کو بجلی فروخت کرنا چاہے تو تب بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا عوام کو سستی بجلی دے کر ہی ہم دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں تھرکول سمیت دیگر منصوبوں پر بہت پہلے کام شروع ہو جانا چاہیے تھا‘ آئندہ ملک میں ہونے والے شفاف انتخابات میں پیپلزپارٹی دوبارہ عوام کی طاقت سے جیت کر عوام کو لوڈ شیڈنگ سے نجات دلوائے گی‘ پیپلزپارٹی کو ووٹ عوام کی خدمت اور صاف نیت کے ملیں۔ چودھری احمد مختار نے تسلیم کیا ہے کہ اگر حکومت چار سال قبل کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر عملدرآمد شروع کر دیتی تو عوام کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی تھی۔ نئی پالیسی کے تحت صوبے نہ صرف خود بجلی بنا کرا ستعمال کر سکیں گے بلکہ اسے فروخت بھی کر سکتے ہیں ۔ ہماری نیت ٹھیک ہے اور آئندہ انتخابات میں عوام ہمیں ہی ووٹ دیں گے جس کے پیچھے پڑ جاﺅں اسے بھاگنا پڑتا ہے اور چودھری برادران کے پیچھے بھی پڑ گیا ہوں۔ مسلم لیگ ق کے اتحاد سے حکومت کو فائدہ ہونا چاہیے۔ عدلیہ کے معاملات وزیر قانون اور اٹارنی جنرل دیکھ رہے ہیں بات چیت کے ذریعے درمیانی راستے نکلنے چاہئیں۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ سحری و افطاری میں لوڈ شیڈنگ نہ ہو مگر کوٹ ادو میں 22 ٹاور گرنے کی وجہ سے بجلی کی سپلائی میں تعطل آیا۔ انہوں نے کہا کہ کوئلے سے بجلی بنانے کے منصوبے پر کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ایک ہزار ٹن فرنس آئل استعمال کرنے سے جتنی بجلی پیدا ہوتی ہے ڈھائی سو روپے کا کوئلہ جلا کر اتنی بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت صوبے نہ صرف اپنی بجلی پیدا کر سکیں گے بلکہ اضافی بجلی فروخت بھی کر سکیں گے۔ چودھری برادران کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری وجہ سے انہوں نے بھاگنا ہی ہے میں ان کے پیچھے پڑ گیا ہوں ان کا طریق کار آپ سب جانتے ہیں آئندہ الیکشن انہوں نے میرے مدمقابل نہیں لڑنا کیونکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے فارمولے کے مطابق پچھلے الیکشن میں جیتنے والا امیدوار آئندہ الیکشن میں بھی اسی سیٹ سے حصہ لے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اجلاس میں بجلی کی قلت اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر چاروں صوبوں کے نمائندوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کی ہیں ۔ اجلاس میں چاروں صوبوں میں مساوی لوڈ لوڈ شیڈنگ، اس کے دورانیے میں کمی، بجلی چوری کے خاتمے کے لئے اقدامات، سرکلرڈیٹ سے چھٹکارے کے لئے حکمت عملی ، آئی پی پیز کو واجبات کی ادائیگیاں اور صوبوں سے واجبات کی وصولیوں پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے، تاہم ابھی کو ئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روزواپڈا ہاﺅس لاہور میں مشترکہ مفادات کونسل کی توانائی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا جس میںچاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، وفاقی سیکریٹری توانائی ، مینجنگ ڈائریکٹر این ٹی ڈی سی ایل، چیرمین پی ایس او اور واپڈا کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ مشترکہ مفادات کونسل کا آئندہ اجلاس 17اگست کو اسلام آباد میں ہو گا۔

مزید : صفحہ اول