پنجاب یونیورسٹی نے بی اے ، بی ایس سی کے نتائج کا علان کر دیا ، تندور پر روٹیاں لگانے والے محمد محسن نے سب کو مات دیدی

پنجاب یونیورسٹی نے بی اے ، بی ایس سی کے نتائج کا علان کر دیا ، تندور پر روٹیاں ...

لاہور(لیڈی رپورٹر) پرائیوٹ امیدوار محمد محسن علی رولنمبر 035147 نے 800 میں سے 688 نمبر حاصل کر کے اوور آل ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہے۔ بی ایس سی میں پہلی پوزیشن پنجاب کالج آف سائنس فیروز پور روڈ لاہورکی طالبہ سنیہ ریاض رولنمبر075419 نے 686 نمبر لے کر حاصل کی۔ گورنمنٹ کوئین میری کالج لاہور کی طالبہ سندس شہزادی رولنمبر 062499 نے 658 نمبر لے کر دوسری جبکہ پنجاب کالج برائے خواتین گوجرانوالہ کی سنیلہ رولنمبر 025685 نے 655 نمبر لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ بی اے میں پرائیوٹ امیدوار کنول لطیف رولنمبر 063721 نے 668 نمبر حاصل کر کے دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ تیسری پوزیشن دو طالبات پرائیوٹ امیدوار مقدس شہباز رولنمبر 033882 اور پرائیوٹ امیدوار ماریہ انعم رولنمبر 027471 نے 661 نمبر لے کر مشترکہ طور پر حاصل کی۔ وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش تمام مسائل کی جڑیہی ہے کہ قوم کو تعلیم و تحقیق کے راستے پر نہیں ڈالا گیا۔ ہمارے حکمرانوں نے پاکستان کے قیام کے بعد آج تک 65 برسوں میں تعلیم کو اہمیت نہیں دی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پنجاب یونیورسٹی شعبہ امتحانات کے زیر اہتمام بی اے بی ایس سی کے سالانہ نتائج کے اعلان اور ٹاپ پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں انڈرگریجویٹ سٹڈی سنٹر کے الرازی ہال میں منعقد کی گئی تقریب میں کیا۔ تقریب میں کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی، ایڈیشنل کنٹرولر احمد علی چٹھہ، سابق کنٹرولر و ڈین فیکلٹی آف انجینئیرنگ تقی زاہد بٹ، مختلف شعبہ جات کے سربراہان ، پوزیشن ہولڈرز طلباو طالبات ، ان کے والدین اور اساتذہ نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عراقی سکالر کی ریسرچ کے مطابق قرآن پاک میں 250 آیات انتظامی قانونی امور سے متعلق ہیں جب کہ ایسی آیات جن میں غور و فکر ، تدبر اور مظاہر فطرت پر سوچ بچار کرنے پر زور دیا ہے وہ تقریباََ 750 ہیں تو جس قوم کا یہ دعویٰ ہے کہ اس کا دین اسلام ہے اور وہاں تحقیق کا یہ حال ہے تو سزا ئیں بھی اسی وجہ سے ہمیں مل رہی ہیں۔ ہماری حکومتوں کو چاہئیے کہ کل قومی پیداوار کا 4 فیصد تعلیم کے لئے اور تحقیق کے لئے 1 فیصد مختص کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران 17 ویں 18 ویں اور 19ویں ترمیم کے لئے تو اکٹھے ہو جاتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے مگر تعلیم و تحقیق کے فروغ کے لئے کیوں متحد نہیں ہورہے۔ بلکہ یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے فنڈز ہونے کے باوجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ جھگڑا سیاستدانوں کی ڈگریوں پر شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیاں کسی فرد یا سیاسی پارٹیوں کی ملکیت نہیں بلکہ انہیں قومی ادارہ سمجھنا چاہئیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ تعلیم فروغ کے لئے اتفاقِ رائے پیدا کرے اور اگر وہ ایسا کرے گی تو قوم ان کی ذیادتیاں بھول جائیں گے۔ ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا کہ دنیا میں وہی قومیں غالب ہیں جو علم کی پرورش کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارا بجٹ 170 ارب ڈالر ہے جبکہ امریکہ اپنی کل قومی پیدوار میں سے صرف تعلیم پر نو سو سے ایک ہزار ارب ڈالر جبکہ سائنسی تحقیق پر 380 ارب ڈالرخرچ کر رہا ہے تو خدا نے ایسی ہی قوم کو نوازنا ہوتا ہے اور وہی غالب ہوتی ہے۔ دنیا میں زندہ رہنے کے لئے طاقت ضروری ہے اور قوت کا سرچشمہ علم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک 18 نفوس کی آبادی پر مشتمل ایک ملک ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ اولمپکس میں ایک بھی گولڈ میڈل نہیں جیت سکا جبکہ ایسے ممالک بھی گولڈ میڈل حاصل کرچکے ہیں جن کا نام تک لوگ نہیں جانتے۔ یہی حال دوسرے شعبوں کا بھی ہے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ ، ملازمین اور طلبا و طالبات کی جانب سے پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو مبارکباددیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کے والدین اور اساتذہ کی خوش قسمتی ہے اور یہ ان کی توجہ کے بغیر ممکن نہیں۔ بچوں کو نصیحت کی کہ وہ نئے علم کی تخلیق کو اپنی زندگی کا مقصد بنائی اور اس مقصد کے لئے نہ تھکیں اور نہ ہی حوصلہ ہاریںاور اس کام کے لئے ذہنی صلاحیت اور صحیح رویہ ہونا ضروری ہے۔ چین کی مثال لے لیں جو کہ علم کی سپرپاور بننا چاہتا ہے۔ کنٹرولر امتحانات پروفیسر ڈاکٹر لیاقت علی نے کہا کہ بی اے بی ایس سی کے نتائج کی تقریب شعبہ امتحانات بڑی خوشی سے منعقد کرتا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سال میں 288 امتحانات لیتی ہے اور اس سال پاس ہونے والے طلبا و طالبات کی کامیابی کا تناسب گزشتہ سال کی نسبت تقریباََ 6 فیصد اور 2010 کے نتائج کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہے۔ اس سال بی اے بی ایس سی کے امتحانات میں شریک ہونے والے طلباءو طالبات کی تعداد 143750 ہے جن میں سے 57284 طلباو طالبات نے کامیابی حاصل کی اور پاس ہونے والے امیدواروں کی شرح 39.85 رہی ۔امیدواروں میں لڑکوں کی تعداد 45778 جبکہ لڑکیوں کی تعداد 97972 تھی جن میں پاس ہونے والے لڑکوں کی تعداد 12309 اور تناسب 26.89 فیصد جبکہ پاس ہونے والی لڑکیوں کی تعداد 44975 اور تناسب 45.91 فیصد ہے۔ سپیشل کیٹگری میں 4060 بچوں نے شرکت کی جن میں سے 2241 بچے کامیاب ہوئے اور کامیابی کا تناسب 55.2 رہا۔ اس موقع پر تمام امتحانی عملے کی کوششوں کو سراہا اور مبارکباد دی۔ دریں اثناءپنجاب یونیورسٹی کے بی اے امتحانات میں تندور پر روٹیاں لگانے والے نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ۔محمد محسن کا کہنا ہے کہ مزدور کا بیٹا ہوں اور جھونپڑی میں رہتا ہوں ۔ایم ایس سی کرنا چاہتا ہوں لیکن اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔ پنجاب یونیورسٹی میں مجموعی طور پر 688 نمبر لیکر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے محمد محسن نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا ہے کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے اور کالج کی فیس ادا نہیں کرسکتا ۔محنت مزدوری کر کے تعلیم حاصل کررہا ہوں اس لئے اس نے پرائیویٹ امتحان دیا ہے ۔محمد محسن کا کہنا ہے کہ وہ ایک مزدور کا بیٹا ہے اور جھونپڑی میں رہتا ہے اس نے مزدوری کر کے تعلیم کا شوق پورا کیا وہ تندور پر روٹیاں لگاتا ہے اور ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہے ۔محمد محسن کے مطابق ایم ایس سی کرنے کا خواہش مند تھا لیکن اتنے اخراجات برداشت نہیں کر سکتا۔

مزید : صفحہ اول