شمالی وزیرستان میں آپریشن ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہوگا، منور حسن

شمالی وزیرستان میں آپریشن ملکی سلامتی کیلئے خطرناک ثابت ہوگا، منور حسن

لاہور (نمائندہ خصوصی( امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے عید کے بعد شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن شروع کرنے کی خبروں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت نے بالآخر امریکی دباﺅ کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ یہ فیصلہ ملکی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ آج کے بعض قومی اخبار ات میں کور کمانڈر کانفرنس کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ عید کے بعد شمالی وزیرستان میں ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ کر لیاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ آپریشن انتہائی مہلک ثابت ہو گا اور اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے پھر یہ سلسلہ صرف شمالی وزیرستان تک محدود نہیں رہے گا،ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل سکتاہے۔ انہو ں نے کہاکہ امریکہ کافی عرصے سے شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے لیے دباﺅ ڈال رہاتھا ہماری فوج اور حکومت کی طرف سے اس کی مزاحمت کی جارہی تھی بالآخر فوج نے امریکی دباﺅ کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے کہاکہ یہ کہنا کہ یہ آپریشن کسی دباﺅ پر نہیں کیا جارہاتو پھر قوم کو بتایا جائے کہ اس آپریشن کی اب کیا ضرور ت پیش آگئی ہے اور اس آپریشن سے ملک کو کیا ثمرات حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے سوات ، جنوبی وزیرستان اور دیگر علاقوں میں جو فوجی آپریشن ہوئے تھے آرمی چیف ان کی بیلنس شیٹ قوم کے سامنے پیش کریں کہ اس کے بعد دہشتگردی ختم ہوئی ہے یا اس میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دورہ امریکہ کے بعد اس آپریشن کے فیصلے سے یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ امریکی دباﺅ پر ہورہاہے۔ دریں اثناءامیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت راجہ پرویز اشرف کو قربانی کی بھینٹ نہیں چڑھائے گی تھوڑی ڈھیل انہیں مل گئی ہے کچھ وہ کر لیں گے، حکمران الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تحریک انصاف اور (ن) لیگ کی لڑائی سے جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ وہ ہفتہ کو اوکاڑہ پریس کلب کے صحافیوں سے ٹیلی فونک گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی اتحاد کی صورت اس وقت ”کھچڑی“ کی سی ہے یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہے اور کچھ مزید لوگ بھی اس میں شامل ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کراچی میں مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کے مدرسہ دارالعلوم کراچی پر رینجرز کے چھاپے ، مدرسے کی انتظامیہ کو ہراساں کرنے اور دو طلبہ کو گرفتار کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاہے کہ مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا ملک میں ایک مقام ہے اور ان کے مدرسے کی بھی اچھی شہرت ہے۔

مزید : صفحہ آخر