راتوں کو جاگ کر سجدہ ریز ہونے سے نفس امارہ سے نجات ملتی ہے، طاہر القادری

راتوں کو جاگ کر سجدہ ریز ہونے سے نفس امارہ سے نجات ملتی ہے، طاہر القادری

لاہور (نمائندہ خصوصی) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ نیت کا خالص ہونا رضائے الہی کے حصول کےلئے ضروری ہے۔نیتیں خالص ہو جائیں تو افعال معاشرے کی خیر اور فلاح کا باعث بنتے ہیں۔دل غیر کی محبت سے خالی ہو کر محبت الہی سے معمور تبھی ہو سکتے ہیں جب نیت میں میل نہ ہو۔نوجوان راتوں کو جاگ کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر آنسو بہایا کریں اس سے نفس امارہ سے نجات ملے گی اور روحانی ترقی کا سفر شروع ہو جائے گا ۔نوجوان برائی کو دیکھنے اور سُننے سے اندھے اور بہرے ہو جائیں تو اللہ کا نور ان کے دل میں گھر بنا لے گا ۔وہ نماز فجر کے بعد شہر اعتکاف میں ہزاروں معتکفین کو ویڈیو لنک کے ذریعے درس تصوف دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ حسن ادب کا نام تصوف ہے اور خالی علم سے ادب نہیں آتا جبکہ ادب سیکھنے سے علم اور ادب دونوں مل جاتے ہیں۔افسوس آج ایسے پیروں کی کمی نہیں جو اپنی بے عملی کو چھپانے کےلئے نوجوان نسل کا ایمان تباہ کر رہے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ اعمال کی کمی ہے تو کوئی بات نہیں ہماری نسبت سے بیڑا پار ہو جائیگا۔حقیقت میں یہ بے عمل پیر بیڑا غرق کرنے والے ہیں۔آج پیٹ پالنے کے نام نہاد تصوف کا وجود جہالت اور بے عملی کے باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ والوں کی کتابیں پڑھنے سے انکی صحبت ملتی ہے اس لئے صحبت صالح اختیار کر کے اس میں تسلسل رکھنا ضروری ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہ کہ ہر شخص عہد کرے کہ ہر تین ماہ بعد کم از کم دو دن کی خلوت رور اختیار کرے اور دل کی وادی کو اللہ کے نور سے بھرنے کی جدوجہد میں تسلسل ہونا چاہےے۔

مزید : صفحہ آخر