ا لف ۔ نون کی لڑائی ....اور بادشاہوں کا پیر

ا لف ۔ نون کی لڑائی ....اور بادشاہوں کا پیر

غیر جانبدار سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف، احسن اقبال اور چودھری نثار میں دوستوں کو دشمن اور دشمنوں کو مزید دشمن بنانے کے سارے ہنر پائے جاتے ہیں۔ پارٹی قیادت سے ان کی وفادار ی غیر مشروط ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا سیاسی لیڈر پارٹی میں نہ رہے اور وہ اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں ، جبکہ پارٹی کی کئی قد آور شخصیات ان کی پارٹی کو چھوڑ چکی ہیں۔

پچھلے دنوں خواجہ آصف نے تحریک انصاف کے خلاف جو نیا محاذ کھولا ہے، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ خواجہ صاحب نے عمران خان کے خلاف جو جنگ شروع کی ہے، وہ نہ تو فوجی اعتبار سے صحیح ہے اورنہ ہی سیاسی حوالے سے اس کو کوئی پذیرائی ملی ہے۔ اپنے محاذ پر بیٹھ کر خواجہ صاحب نے جو گولے تحریک انصاف پر برسائے ہیں، اس کا نقصان ان کی اپنی صفوں میں ہوا ہے۔ عمران خان نے خواجہ صاحب کی باتوں کا اتنی طاقت سے جواب دیا کہ خواجہ صاحب آﺅٹ ہو گئے اور جب وہ سٹیڈیم سے نکل رہے تھے تو ان کا خیال تھا کہ شائقین ان کے اس چوکے کی داد دے رہے ہیں جو مس فیلڈ کی وجہ سے لگا ہے، حالانکہ عوام کا یہ جوش عمران خان کے ان بونسرز کے لئے ہے، جس سے انہوں نے خواجہ صاحب کی صرف وکٹیں اڑائی ہی نہیں، بلکہ توڑ دی ہیں۔

خواجہ صاحب کی پریس کانفرنس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان الزامات کی جو سیاست شروع ہو گئی ہے، اس سے نیوز چینلوں کا تو کافی پیٹ بھر گیا ہے، البتہ سیاسی حلقوں میں وہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ الف ۔ نون کی اس لڑائی میں سارا فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچ رہا ہے ۔۔ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو ،لیکن اندر کی بات تو مسلم لیگ (ن) کی کور کمیٹی ہی جانتی ہے کہ عمران خان پر ان غیر ضروری حملوں کی کیا ضرورت تھی؟ مسلم لیگ کے رہنما چودھری پرویز الٰہی کی طرف سے جو دشمنوں کو دوست بنانے اور دوستوں کو مزید دوست بنانے کا فن جانتے ہیں اس صورت حال میں یہ بیان انتہائی باوقار ہے کہ سیاسی اور ذاتی کشتی میں شوکت خانم ہسپتال جیسے عظیم الشان فلاحی منصوبے کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔چودھری صاحب کی یہی سوچ انہیں دوسرے سیاستدانوں سے منفرد اور ممتاز بناتی ہے۔ سیاسی حلقو ں کا کہنا ہے کہ یہ صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت ہے کہ چودھری پرویز الٰہی جیسے منجھے ہوئے سیاستدان آج ان کے ساتھ مضبوط دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔ سیاسی حوالے سے صدر آصف علی زرداری کی خاموشی بھی آواز رکھتی ہے ۔ گزشتہ سالوں میں کون سی مشکل سے ان کا واسطہ نہیں پڑا۔ ان کے خلاف کون کون سا محاذ نہیں کھولا گیا۔ الزامات کا کون سا گولہ ہے جو ان پر نہیں پھینکا گیا، لیکن زرداری صاحب کو داد دیجئے کہ بغیر کوئی فائر کئے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے اور سیاست میں کئی میدان فتح کئے۔ دھیمے لہجے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ جس سے ملے اسے گرویدہ کر لیا ۔ اچھے وقت میں تو سارے دوست بن جاتے ہیں، لیکن زرداری صاحب نے برے وقت میں بھی اچھے دوست بنائے۔ سیاسی داﺅ پیچ کو اس دانش مندی سے استعمال کیا کہ دوست تو دوست، ان کے مخالف بھی اس خوبی پر ان کے مداح ہیں۔ پنجاب کی سیاست کو گہری نظر سے دیکھا تو چودھری برادران کی وضعداری کا سیاسی بصیرت سے جواب دیا اور کئی دہائیوں کی مخالفت کو دوستی میں بدل دیا۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری اور چودھری برادران یاروں کے یار ہیں اور دوستی نبھانا جانتے ہیں اور سیاست میں ان کا یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوگا۔ آج پنجاب کو اپنا گڑھ سمجھنے والے سیاستدان بھی ان کی اس دوستی سے خوفزدہ ہیں۔

بات الف ۔ نون کی لڑائی کی ہو رہی ہے، لیکن یہاں پر مَیں آصف زرداری کے ہی ایک دیراینہ ساتھی آصف ہاشمی کا ذکر ضرور کروں گا جو عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور ایسے کام کرتے ہیں، جن سے عوام کو فائدہ ہو۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کو ایسے ہی قائدین کی ضرورت ہے ۔ ان کے گھر صرف عام لوگ ہی جھولیاں بھرنے نہیں جاتے، وقت کے حاکم بھی ان کے گرویدہ ہیں، یہی وجہ ہے کہ پچھلے دنوں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف دوروزہ دورے پر لاہور آئے تو دوسرے دن اسلام آباد واپس جانے سے پہلے انہوں نے آصف ہاشمی کے گھر حاضری دینا ضروری سمجھی ۔ ڈیفنس میں ان کی رہائش گاہ 9-Bکو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جو بھی بادشاہ بنتا ہے، وہاں کھچا چلا آتا ہے۔ اس پیر کے گھر میں کیا کشش ہے ؟اس کی ذات میں کیا وفاداری ہے ؟ کہ وزارت عظمیٰ ختم ہو جائے تو آصف ہاشمی ،گیلانی کے ساتھ سائے کی طرح ہیں۔

جب وقتی دوست اقتدار نہ ہونے کی وجہ سے آنکھیں چرانے لگتے ہیں تو آصف ہاشمی بے اختیار دوستوں کی آنکھوں کا تارہ بن جاتے ہیں ۔ گیلانی صاحب جب لاہور سے ملتان جا رہے تھے تو ان کے ساتھ جو چہرہ مسکراتے ہوئے انہیں حوصلہ دے رہا تھا، وہ اسی پیر کا تھا ۔ آج راجہ پرویز اشرف صاحب وزارت عظمی کا تاج پہنے جس شخص سے گلے مل رہے تھے، وہ بھی کوئی اور نہیں، بلکہ یہی پیر آصف ہاشمی تھا۔ ہاشمی صاحب کی رہائشگا ہ پر وزیراعظم صاحب کارکنوں سے مل رہے تھے.... ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے“ کے نعرے گونج رہے تھے، لیکن مجھے لگ رہا تھا کہ راجہ صاحب آصف ہاشمی سے دعائیں لے رہے تھے، ان کی محبتیں سمیٹ رہے تھے۔ آصف ہاشمی سادہ اور قناعت پسند انسان ہیں ۔ دوستوں کے دوست ہیں ۔ ملتے ہیں تو جان ڈال دیتے ہیں۔ مَیں خود ذاتی طور پر ان سے جب بھی ملا ہوں، وہ ا ُجلے چہرے اور سچی مسکراہٹ سے دل میں اتر جاتے ہیں۔ ہاتھ پکڑ کر اس کو زور سے دباتے ہیں اور پھر گالوں پر تھپکی دے کر جب دعا دیتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہم بھی بادشاہ ہیں....اور ہمارے سامنے بادشاہوں کا پیر کھڑا ہے۔ ٭

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...