قائد اعظمؒ کا پاکستان

قائد اعظمؒ کا پاکستان
قائد اعظمؒ کا پاکستان

  

یہ کس تبدیلی کا خواب دیکھا جا رہا ہے پاکستان میں؟ کیا میاں نوازشریف ، عمران خان جس تبدیلی کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، وہ محض پارلیمنٹ میں اکثریت کی بنیاد پر رونما ہو جائے گی؟اس راہ میں کون کون سے کھلاڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں؟.... سب سے پہلے امریکن۔ کیا ایک تبدیل شدہ پاکستان ، واشنگٹن اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لئے قابل قبول ہوگا؟ یہ تو وہ اسٹیبلشمنٹ ہے، جس نے موجودہ صدی کے شروع ہوتے ہی پاکستان کو عالمی تنہائی کے صحرا میں جھونکنے کا فیصلہ کر لیا، جس نے جڑواں ٹاورز کی تباہی کو تیس کروڑ امریکیوں پر حملہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی معیشت اور معاشرت کو ٹارگٹ کر لیا، جس نے پاکستان کو القاعدہ کی پناہ گاہ قرار دیتے ہوئے دنیا کے سامنے جی بھر کر بدنام کیا۔ اسی بدنامی کی آڑ میں مسلم بالخصوص پاکستانی شہریوں کی حاصل شدہ آزادیوں پر بھی قدغن لگائی گئی۔اسی رسوائی کی اوٹ میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں ”پہلے حملہ کرنے“ کی پالیسی اپنائی گئی۔ یقین رکھنا چاہئے امریکی ، پاکستانی ریاست کے موجودہ ڈھانچے میں کسی بنیادی تبدیلی کے قطعاً خواہش مند نہیں ہیں۔ خواہ غربت کا عفریت یکے بعد دیگرے پورے پاکستان کے شہروں کو لپیٹ میں لے ڈالے۔ خواہ معروف قیادتیں ، نمائندہ جماعتیں عوامی غضب کا شکار ہوکر اپنا وقار اور اعتماد کھو بیٹھیں۔ کیا پچاس کی دہائی میں ایسی ہی نمائندہ قیادتوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی ریاست کو سوشلزم کے سامنے صف بند نہیں کروایا گیا تھا؟ کیا انہی قیادتوں کے ذریعے سب کونٹی نینٹ کے بومنگ پیریڈ میں ”انڈسٹری کلچر“ کو داﺅ پر لگاتے ہوئے پاکستانیوں کو سفید ریچھ کے شکار پر وسائل اور افرادی قوت جھونکنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا.... نتیجے میں کیا ملا؟ عالمی تنہائی.... ایک ”کافر “ کی جیت کی خاطر دوسرے کافر سے دشمنی۔ پاکستان میں تبدیلی کا سب سے بڑا مخالف امریکہ خود ہوگا۔

تبدیلی میں دوسری رکاوٹ،وقت کی پگڈنڈی پر قائم ”نظریاتی محلوں“ میں براجمان وہ مذہبی رہنما ہیں، جن کی مسلکی وابستگی اس قدر دیوانگی پر پہنچ چکی ہے کہ اپنے سوا کسی کی سننے پر آمادہ ہی نہیں۔ یوں مذہبی جماعتوں کی نظر میں تبدیلی کا تصور فقط مسلکی برتری تک ہی محدود ہے۔ صوفی محمد کیا چاہتے تھے؟ اپنے نظریے کا نفاذ اور دوسروں پر برتری۔ مولوی فضل اللہ افغانستان میں کس مقصد کی خاطر پناہ حاصل کئے ہوئے ہیں؟ بیت اللہ محسود کس ایجنڈے پر کام کر رہے تھے؟ قاری زین الدین کس مقصد کی خاطر جان سے گئے؟ ایف ایم ریڈیو کے ذریعے منافرت پھیلانے والے شاہ دوراں کس نظریے کی راہ ہموار کر رہے تھے؟ حافظ گل بہادر اور مولوی نذیر کس بڑے ”انعام“ کی خاطر بیت اللہ محسود کے اتحادی بننے پر تیار ہوئے تھے؟.... بظاہر جنگجو بھی تبدیلی کے خواہش مند ہیں، لیکن وہ تبدیلی جو ان کے حق میں ہو۔ باقی ہر طرح کی تبدیلی شجر ممنوعہ کی مانند ہے۔

تبدیلی میں تیسری رکاوٹ بیوروکریسی ہے۔ بدعنوانی میں ڈوبے، فرعونیت میں لتھڑے، ملک کے طول و عرض میں پھیلے ill groomed سرکاری افسر کسی صورت میں یہ تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں کہ ملک حقیقتاً داﺅ پر لگ چکا ہے۔ بیوروکریسی بے پناہ اختیارات کے اس سمندر میں تیر رہی ہے، جہاں صدر، وزیراعظم کی بھی کوئی اوقات نہیں۔ چونسٹھ برسوں سے حرام خوریوں میں غرق یہ ناسور طبقہ قطعاً پرواہ نہیں کر رہاکہ دنیا پاکستان کی جغرافیائی تقسیم کی باتیں کر رہی ہے۔ کیا اسے احساس نہیں ہو پا رہا ،پاکستان کو سوڈان، چاڈ، کانگو، صومالیہ، زمبابوے اور گنی جیسی ناکام ریاستوں کی صف میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔کیا ان کی ”دانش“ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بدھ ازم ، موہنجو داڑو اور ہڑپہ جیسی قدیم تہذیبوں کے مرکز پاکستان کو حتمی بحران کی جانب دھکیل دیا گیا ہے۔ کیا بیوروکریسی محسوس نہیں کر پا رہی کہ ایٹمی ٹیکنالوجی، جدید اسلحے، بینکنگ، انشورنس، کوئلے، گیس اور غذائی پیداوار میں خودکفیل پاکستان کو عراق اور افغانستان جیسے کمزور ڈھانچے سے تشبیہ دیتے ہوئے مذہبی اور نسلی فسادات کی پیشن گوئیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

 بیوروکریسی نے پورے ملکی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ریلوے بدترین خسارے کا شکار۔ پی آئی اے کے دیوالیہ پن کا اعلان۔ بجلی، گیس چوروں کے سرپرست واپڈا، سوئی ناردرن ”لائن لاسز“ کے نام پر حرام کھانے میں مصروف۔ تھانوں پر قابض ایس ایچ اوز انسان کہلانے کی بجائے ”علاقے کا شیر“ بننے پر بضد۔ کھلی کرپشن کے باوجود کلرکوں کی آئے روز ہڑتال۔ ڈاکٹراپنے ”سروس سٹرکچر“ کے معاملے پر حکومت سے برسرپیکار۔ اشیائے ضرورت کی پرائس کنٹرول کمیٹیاں عملی طور پر بیکار اور گلیوں، سڑکوں کی تعمیر میں گرم کرپشن کا بازار۔ اندرون ملک تبدیلی کے خلاف اصل جدوجہد بیوروکریسی کی طرف سے ہو رہی ہے.... اور ایسا ہو بھی کیوں نا؟ ایک ہزار ارب روپے سالانہ پر مشتمل کالے دھن کی معیشت کا وجود بیوروکریسی کے دم خم سے ہی قائم ہے۔ تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والوں کی اوقات بیوروکریسی کی نظروں میں اس عام آدمی جتنی ہے، جو غربت کے جنگل میں بے بسی کے کانٹے چن رہا ہے۔ کم از کم موجودہ جمہوریت میں تو یہی نظرآرہا ہے۔

اب آتے ہیں سیاستدانوں کی طرف.... لیڈروں میں سے تبدیلی کے متعلق پہلا نعرہ کس نے بلند کیا؟ یہ کہنا مشکل ہے۔ جلاوطنی کے دنوں میں میاں نواز شریف اور شہید بے نظیر بھٹو گاہے بگاہے تبدیلی کی باتیں کرتے تھے، تاہم تبدیلی کے متعلق عوامی پذیرائی عمران خان کے حصے میں آئی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روایتی انداز کی سیاست کو دیکھیں تو تبدیلی کسی صورت نہیں آسکتی۔ یہ روایتی انداز کیا ہے؟ وہی ایک دوسرے کے خلاف بیانات ، الزامات کی گولہ باری، جو اس گولہ باری کا حصہ نہیں، وہ اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا سوچ رہے ہیں۔ الیکشن ہوں گے تو اکثریت کسی کے حصے میں نہیں آئے گی۔ اور اگر اکثریت نہیں ہوگی تو بڑے فیصلوں کے لئے دستیاب طاقت بھی حاصل نہیں ہو پائے گی۔ تو پھر تبدیلی کہاں سے نمودار ہوگی؟ کتنی بدنصیبی کی بات ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان تبدیلیوں کے لئے مکمل طور پر تیار کھڑا ہے، لیکن حکمران طبقات اپنے مفادات اور انجانے خوف کے ڈر سے بڑے اقدامات کرنے سے انکاری ہیں۔حکمران یہ قطعاً نہیں بھانپ رہے کہ عوامی توقعات کا پتھر انتظارگاہ کی چوٹی سے لڑھک چکا ہے۔ اب یا تو یہ پتھر کسی محفوظ مقام پر پہنچے گا یا پھر اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کرکے رکھ دے گا۔ ٭

مزید : کالم