یاترا یا ہجرت؟ مہنگائی کم ہونے کی بھی تشہیر ضروری

یاترا یا ہجرت؟ مہنگائی کم ہونے کی بھی تشہیر ضروری
یاترا یا ہجرت؟ مہنگائی کم ہونے کی بھی تشہیر ضروری

  

مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں، ایسا پہلی بار نہیںہوا۔ رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہمیشہ قیمتیں بڑھائی جاتی ہیں اور دوسرا وار عیدالفطر کے قریبی دنوں میں ہوتا ہے۔ اِس بار افراط زر کی شرح بڑھ جانے اور غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے نرخوں نے آسمان کو چھو لیا۔ اِس صورت حال نے عوام تو اپنی جگہ خواص کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا۔ قیمتوں میں اضافے اور عوام کی قوت خرید میں کمی کی وجہ سے اِس بار خریداری بھی کم ہوئی اور لوگ مجبور ہو گئے کہ وہ صرف ضرورت کے مطابق ہی اشیاءخریدیں، چنانچہ اِس سال ریڑھیوں، دکانوں اور سموسے والوں کے تخت پوشوں پر ویسی بھیڑ اور افراتفری دیکھنے میں نہیں آئی، جیسی گزشتہ برسوں میں ہوتی تھی۔ اس کا نتیجہ بھی برآمد ہوا، پہلے سبزیوں کی قیمتوں اور پھر پھلوں کے نرخوں میں بتدریج کم ہوناشروع ہو گئی، لیکن یہ حالات ہمارے نوجوان میڈیا والوں سے اب بھی مخفی ہیں۔ سبزی میں ٹماٹر 80روپے سے کم ہو کر 50روپے کلو تک آ گئے، پھلوں میں انگور 400 روپے کلو سے 200روپے سے230روپے تک کلو بکنے لگا ہے۔کیلا (درآمدی) اڑھائی سو روپے درجن کی بجائے 110روپے سے 200روپے فی درجن تک اور دیسی کیلا 70روپے سے 100 روپے درجن تک آ گیا ہے.... (سائز اور معیار کے مطابق) ....اسی طرح خوبانی، آڑو اور امرود کے نرخ بھی گرے ہیں، لیکن ہمارے میڈیا والے نوجوان زیادہ محنت سے سروے کرنے کی بجائے غالباً بڑی دکانوں کے ریٹ ہی گنوانا شروع کر دیتے ہیں، اس سے بازار پر بُرا اثر پڑتا ہے۔

جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے تو ہر موجودہ دور سابقہ سے بدتر ہوتا ہے،حالانکہ گزرے ہر سیزن میں بھی مہنگائی کے حوالے سے احتجاج اور پریشانی ہوتی ہے۔ ہم اپنے قارئین کو ایک تجربے سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ 60ءکی دہائی کا قصہ ہے، ہم کورٹس رپورٹنگ کرتے تھے۔ مرحومین احمد مظہر خاں اور بھائی طارق اسماعیل بھی اپنے اپنے اخبارات کی طرف سے اسی بیٹ کی رپورٹنگ کے ذمہ دار تھے۔ان دنوں الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا، صرف سرکاری ٹی وی ہوتا تھا۔ لاہور میں سید ناصر علی شاہ اور محترم لودھی صاحب بالترتیب سٹی مجسٹریٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ تھے۔ غالباً1966ءکی بات ہے۔ 1965ءکی جنگ ستمبر کے بعد اشیاءمہنگی ہوئی تھیں، ہم اشیاءکے بڑھتے ہوئے نرخوں کے حوالے سے روزانہ خبریں دیتے جو شائع ہوتیں، چنانچہ حکومت کے نوٹس لینے اور ہدایت کے بعد لاہور میں سید ناصر علی شاہ کی قیادت اور محترم لودھی کی نگرانی میں پرائس کنٹرول کمیٹی کے رکن بنے، کمیٹی کے متعدد اجلاسوں کے بعد نرخ مقرر کرنے اور چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ لوگ پکڑے جاتے، جرمانے ہوتے، پھر احتجاج ہوا کہ پرچون والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

 ایک بار طویل میٹنگ ہوئی اور غور شروع ہوا کہ نرخوں پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکتا؟ ایک رکن نے اپنا تجزیہ بتایا اور ہم اخبار والوں سے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کی خبر بند کر دی جائے اور جب کمی ہو تو خبریں ضرور شائع کی جائیں۔ اس رکن کمیٹی نے دلیل دی کہ جب بھی اخبار میں نرخ بڑھنے کی خبر شائع ہوتی ہے اور وہ صبح سودا خریدنے جاتے ہیں تو دکاندار نئے نرخوں کے حساب سے سودا بیچتا ہے۔ اعتراض کیا جائے تو جواب ملتا ہے، اخبار نہیں دیکھا، نرخ بڑھ گئے اور اگر کبھی کبھار نرخوں میں کمی کی خبر شائع ہو اور دکاندار سے سودا کم نرخوں پر مانگا جائے تو وہ جواب دیتا ہے کہ مَیں نے یہ پہلے نرخوں پر خریدا ہوا ہے، جب نیا مال خریدوں گا تو نئے نرخوں سے بیچوں گا۔ اِس صورت حال پر غور ہوا اور طے کیا گیا کہ تجربے کے طور پر نرخوں میں اضافے کی خبر شائع نہ کی جائے اور جب کمی ہو تو ضرور خبر دی جائے۔ ہم نے یہ سلسلہ شروع کیا۔ اگرچہ نیوز روم والے اچھا سلوک نہیں کرتے تھے، کمی کی خبر بہت مختصر کر کے چھوٹی سی شائع کرتے، جب مہنگائی کی خبر دی جاتی تو اسے بہت نمایاں کر دیا جاتا۔ جیسا کہ اب ہوتا ہے کہ کرائمز کی خبر بہت بڑی اور نمایاں چھپتی ہے۔ اگر کوئی قتل کا ملزم ٹھہرے تو تصویر سمیت دُنیا کو دکھایا جاتا ہے اور اگر وہی ملزم بے گناہ ثابت ہو جائے اور بَری کر دیا جائے تو تین چار سطروں میں نمٹا دیا جاتا ہے۔

بہرحال خبروں کی اشاعت اور نہ چھاپنے کا تجربہ ایک ہی ہفتے میں کامیاب رہا، بازار میں نرخ اعتدال پر آ گئے اور پھر جب قیمت کم ہوتی تو مجموعی طور پر بازار بھی متاثر ہوتا تھا۔ آج بھی صورت حال ویسی ہی ہے۔ بلا شبہ رمضان المباک کی آمد کے ساتھ ہی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے اللہ کے خوف کو بھی بالائے طاق رکھ دیا اور نرخ آسمان پر لے گئے۔ اب حالات یہ ہیں کہ قوت خرید نہ ہونے کی وجہ سے خریداری میں زیادہ کمی دیکھنے میںآئی تو قیمتوں کا گراف نیچے کی طرف آنے لگا، اب بڑی حد تک قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اس میں آپ بے شک یوٹیلٹی سٹوروں اور رمضان بازاروں کو بھی کریڈٹ دے دیں، البتہ میری درخواست یہ ہے کہ میرے میڈیا والے دوست تو اپنا فرض ادا کریں۔ سروے تفصیل سے کریں، علاقے کے لحاظ سے پڑتال کریں اور کم ہوتی ہوئی قیمتوں کو بھی موضوع بنائیں،اس سے یقینا مارکیٹ متاثر ہو گی۔ قیمتوں میں اضافے کی خبر شائع اور نشر ہونے سے نقصان ہوتا ہے۔

قارئین!لکھنے کے لئے موضوع کچھ اور سوچے تھے، مگر سوئی اشیاءکے نرخوں کی طرف گھوم گئی کہ منافع خور جز بز ہو رہے ہیں۔ بہرحال ہم نے اپنا تجربہ بیان کر دیا۔ ہمارے سامنے درحقیقت ایک بہت بڑا اور المناک مسئلہ ہی نہیں، سانحہ ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماتھے پر کلنگ بھی بن سکتا ہے۔ جیکب آباد (سندھ) کے 250افراد جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، بیک وقت سرحد پار کر کے بھارت گئے، اُن کے مطابق وہ ایک ماہ کے لئے یاترا پر گئے اور واپس آ جائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے نوٹس لیا، کمیٹی بنی۔ اس کا کام اپنی جگہ، لیکن جیکب آباد ہی نہیں، سندھ کے اندرونی کئی دوسرے علاقوں سے ایسی دلخراش خبریں آتی ہیں کہ جوان بچیوں کو اغوا کر لیا گیا، اب جیکب آباد کی پنچایت والوں نے الزام لگایا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں پریشان اور خوار ہو رہے ہیں۔ اس سے بھارت جانے والوں کے بارے میں خدشات صحیح ثابت ہوتے ہیں۔ بہرحال اس کا بھی جلد پتہ چل جائے گا، لیکن اصل بات تو امن و امان اور جرائم پر قابو پانے کی ہے۔ سندھ میں اقلیتیں بہت سُکھ سے بستی ہیں، بلکہ یہ مالدار لوگ ہیں اور مسلمان خاندانوں سے بہتر حالات میں ہیں، نہ صرف ان اقلیتوں، بلکہ سندھ میں رہنے والے تمام عوام کا تحفظ حکومت کا فرض ہے اور اب آنکھیں کھول کر اس کو ادا کرنا ہو گا.... (مزید تفصیل بھارت سے موصول ہونے والی خبروں کی روشنی میں) ٭

مزید : کالم