کوئی بولے نہ بولے، مخدوم تو بولے گا

کوئی بولے نہ بولے، مخدوم تو بولے گا
کوئی بولے نہ بولے، مخدوم تو بولے گا

  

پہلے تو ہر معاملے میں تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان کو ہی بولنا پڑتا تھا، مگر اب اسے ایک ”باغی“ کی خدمات بھی حاصل ہو چکی ہیں۔ جی ہاں! میرا اشارہ مخدوم جاوید ہاشمی کی طرف ہے، ویسے تو عمران خان ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ ان کی باتوں کا جواب نواز شریف کو خود دینا چاہیے، لیکن یہ نوبت نہیں آئی اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کبھی خواجہ آصف، کبھی چودھری نثار علی خان اور کبھی رانا ثناءاللہ تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لیتے رہے ہیں۔ چند روز پہلے چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس کرکے عمران خان کو الزامات کا جواب دینے کے لئے دھواں دار چیلنج دیا تھا۔ سونے پر سہاگہ یہ بیان بھی دیا کہ ان کی پریس کانفرنس کے بعد عمران خان کو سانپ سونگھ گیا ہے، اب ایسے میں بھلا جاوید ہاشمی کیونکر چپ رہ سکتے تھے۔ سو انہوں نے ملتان میں ایک پریس کانفرنس کرکے بہت سے رازوں سے پردہ ہٹا دیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ یہ چیلنج بھی دیا کہ اگر عمران خان پر الزامات لگانے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ اپنی زبان کھول دیں گے اور وہ راز سامنے لائیں گے کہ نواز شریف اور چودھری نثار علی خان کو منہ چھپاتے ہی بنے گی۔ معلوم نہیں جاوید ہاشمی کے اس چیلنج میں کتنی سچائی ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ وہ پاکستانی سیاست کا انسائیکلوپیڈیا ہیں اور راز دورن سے خانہ سے بخوبی آگاہ ہیں۔

مخدوم جاوید ہاشمی جب سے تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں، ان کی طاقت گفتار کئی گنا ہو چکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) میں رہ کر وہ وضع داری اور پارٹی ڈسپلن کی جس زنجیر میں بندھے ہوئے تھے، وہ ٹوٹ گئی ہے۔ اب تک تاثر تو یہی تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی بہت زیادہ جارحانہ رویہ اختیار نہیں کریں گے، مگر اب لگتا ہے کہ وہ اس مرحلے سے آگے نکل گئے ہیں۔ شاید اس کی وجہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماو¿ں کا عمران خان پردہ اجتماعی حملہ ہے، جس کی وجہ سے یوں دکھائی دے رہا تھا کہ عمران خان کو مسلم لیگ (ن) نے باقاعدہ گھیر کر ”مارنے“ کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایسے میں بھلا یہ کیونکر ممکن تھا کہ مخدوم جاوید ہاشمی اپنی جماعت کے چیئرمین کو شیروں کی کچھار میں اکیلا چھوڑ دیتے۔ وہ اکیلے دلیر آدمی کی طرح دفاع کے لئے باہر نکلے اور انہوں نے بغیر لگی لپٹی رکھے وہ باتیں کہہ دیں جو شاید عام حالات میں وہ کبھی نہ کہتے۔

 مخدوم جاوید ہاشمی کو جو لوگ قریب سے جانتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ وہ جب مسلم لیگ (ن) میں تھے، تب بھی چودھری نثار علی خان گروپ کی پارٹی پر اجارہ داری کا شکوہ کرتے تھے۔ وہ بیانگِ دہل کہتے تھے کہ انہیں کارنر کرنے کے لئے ایک مخصوص گروپ پارٹی میں سرگرم ہے، جس نے نواز شریف کو یرغمال بنا رکھا ہے، مگر اس وقت نقار خانے میں ان کی آواز کوئی نہیں سنتا تھا۔ انہیں اس وقت بھی شدید دھچکا لگا تھا کہ انہیں اپوزیشن لیڈر بنانے کی بجائے چودھری نثار علی خان کو بنا دیا گیا، حالانکہ جاوید ہاشمی تین حلقوں سے انتخاب جیتے تھے اور شریف برادران کی ملک سے عدم موجودگی کے دوران انہوں نے پارٹی کو زندہ رکھنے کے لئے کلیدی کردار بھی ادا کیا تھا۔ جاوید ہاشمی کے دکھ تو بہت پرانے ہیں، لیکن شاید ان کی زبان شعلے نہ اُگلتی، اگر مسلم لیگ (ن ) کے رہنما عمران خان پر نہ چڑھ دوڑتے۔

 جاوید ہاشمی پر جب فالج کا حملہ ہوا، تو سب کو اس ڈپریشن اور دباو¿ کا اندازہ ہوا، جس کا وہ ایک عرصے سے شکار تھے، پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی، مگر جاوید ہاشمی کو عضو معطل بنا کر رکھا گیا تھا۔ ان کے کہنے پر کوئی انتظامی افسر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ ان کے کارکن اپنے چھوٹے چھوٹے مسائل کے لئے مارے مارے پھرتے۔ بقول ان کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف ان سے ملنا تک گوارا نہیں کرتے تھے۔ میاں نواز شریف نے بھی انہیں اپنے سے دور رکھا ہوا تھا۔ اس سارے معاملے کا ذمہ دار مخدوم جاوید ہاشمی، چودھری نثار علی خان گروپ کو قرار دیتے ہیں، جس نے ایک سازش کے ذریعے انہیں نواز شریف سے دور کیا۔ یہ ان کا پہلا نظریہ تھا، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے نظریات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی اور ان کی زبان یہ انکشاف بھی کرنے لگی کہ خود نواز شریف کو بھی صرف جی حضوری کرنے والے پسند ہیں، وہ کسی ایسے شخص کو قریب نہیں پھٹکنے دیتے جو ان کے سامنے کلمہ¿ حق کہنے کی جسارت کرے۔

سچ بات تو ہے کہ ہمارے سیاسی حمام میں سبھی ننگے ہیں، جب کوئی دوسرا کسی کے پیٹ سے کپڑا اٹھاتا ہے تو خود اس کا پیٹ بھی برہنہ ہو جاتا ہے۔ غور کیا جائے تو سب کے پاس ایک دوسرے پر لگانے کے لئے الزامات بھی ہیں اور سنانے کے لئے کہانیاں بھی۔ کسی نے بھی اپنی باری پر کوئی کم اننگ نہیں کھیلی۔ ایسے میں جب ٹاک شوز یا اخباری پریس کانفرنسوں میں الزامات لگائے جاتے ہیں اور شور شرابہ کیا جاتا ہے، تو ایک عجیب قسم کی گھن آتی ہے۔ اس سارے کھیل سے ان لوگوں کا تو کچھ نہیں جاتا، البتہ بے چارے عوام ایک ایسے کرب کا شکار ضرور ہو جاتے ہیں، جو انہیں نہ ختم ہونے والی ذہنی اذیت سے دوچار کر دیتا ہے۔

ہماری سیاست کس تیزی سے تنزل کی طرف جا رہی ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگائیے کہ مخدوم جاوید ہاشمی جیسا منجھا ہوا سیاستدان اور ایشوز پر لڑنے والا آدمی بھی اب دوسروں کے راز کھولنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ جہاں شوکت خانم جیسے فلاحی ادارے کو بھی سیاست کی بھینٹ چڑھانے کا رویہ در آیا ہو، وہاں کوئی دوسرا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے اگر اپنی پرانی جماعت کی لیڈر شپ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے تو اس کے پیچھے یقیناً ایک طویل کہانی موجود ہے، تاہم یہ بات بہت اہم ہے کہ خود مخدوم جاوید ہاشمی کے خلاف محاذ آرائی کے لئے ان کے نئے دشمنوں کے پاس کوئی لمبی چوڑی ایف آئی آر نہیں، مثلاً ان کی حالیہ پریس کانفرنس کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ آج وہ جس سیاسی جماعت کے صدر ہیں، اس نے پرویز مشرف کو دس بار وردی میں صدر بنانے کی بات کی تھی۔ لگتا ہے مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کا حافظہ کمزور ہے۔ یہ بات عمران خان نے تو کبھی نہیں کی، البتہ پرویز الٰہی یہ ضرور کہا کرتے تھے اور وہ آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ایک بات کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہی کہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) ایک دوسرے کے آمنے سامنے کیوں آ کھڑی ہوئی ہیں؟ کوئی کہتا ہے کہ یہ بھی صدر آصف علی زرداری کی سیاست کا کرشمہ ہے اور کسی کی رائے یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب میں تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر یہ سب کچھ کر رہی ہے۔ بات کچھ بھی ہو، اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا تو فائدہ پیپلز پارٹی کو پہنچے گا اور نقصان مسلم لیگ (ن) کو۔ تحریک انصاف کو اس لئے نہیں کہ اس نے ابھی اقتدار کے سفر کا آغاز ہی نہیں کیا۔ سونامی جس سطح پر بھی آیا، وہ کامیابی تصور کیا جائے گا، لیکن اگر مسلم لیگ (ن) اپنی موجودہ پوزیشن بھی کھو بیٹھی تو یہ اس کی سیاست کے لئے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ دانشمندی تو یہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) الزامات کی سیاست سے اپنا دامن بچائے۔ سیانے کہتے ہیں کہ عمل کا بھی ردعمل ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو ردعمل سے بچنا چاہئے۔ خاص طور پر مخدوم جاوید ہاشمی جیسے باغی کے ردعمل سے کہ جو اپنے سینے میں بے شمار سربستہ راز رکھتا ہے اور جس ے اپنی چار دہائیوں پر محیط سیاسی زندگی میں سب سیاسی چہروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی سیاسی اُڑان کا مشاہدہ بھی کیا ہے اور ان کمزوریوں کا بھی، جو ذاتی مفادات کے ضمن میں گاہے بگاہے دکھائی گئیں۔ بہتر یہی ہے کہ ان کی زبان نہ کھلوائی جائے، وگرنہ شاید سب کچھ گدلا ہو جائے گا اور الزامات کی دھول میں کسی کا چہرہ بھی صاف دکھائی نہیں دے سکے گا۔ عمران خان کے حق میں کوئی بولے نہ بولے، مخدوم تو بولے گا اوران کا بولنا خطرے سے خالی نہیں۔ ٭

مزید : کالم